سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(821) چار رکعات سنت کی آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے بعد قرأت
  • 24830
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-24
  • مشاہدات : 879

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

چاررکعات سنت میں پچھلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے بعد اور قرأت بھی کی جا سکتی ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چار رکعات نوافل اور سنن کی صورت میں پچھلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے علاوہ بھی سورتوں کی قرأت کا جواز ہے۔ چنانچہ ’’صحیحین‘‘ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  کا بیان ہے:

’ یُصَلِّی أَربَعًا، فَلَا تَسئَل عَن حُسنِهِنَّ ، وَ طُولِهِنَّ ۔ ثُمَّ یُصَلِّی أَربَعًا۔ فَلَا تَسئَل عَن حُسنِهِنَّ، وَ طُولِهِنَّ ‘(صحیح البخاری،بَابُ فَضلِ مَن قَامَ رَمَضَانَ، رقم:۲۰۱۳)، (صحیح مسلم،بَابُ صَلَاةِ اللَّیلِ، وَعَدَدِ رَکَعَاتِ النَّبِیِّ ﷺفِی اللَّیلِ…الخ ،رقم:۷۳۸)

یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  پہلے چار رکعت پڑھتے ان کی کیفیت کے متعلق کچھ نہ پوچھو۔ کتنی اچھی اور کتنی لمبی ہوتی تھیں۔ پھر اس کیفیت کے ساتھ چار رکعت اور پڑھتے۔

 ظاہر ہے چار رکعت لمبی تب ہی ہوں گی، جب فاتحہ کے ساتھ مزید سورتوں کو ملایا جائے۔

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:694

محدث فتویٰ

تبصرے