سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(741) ختم قرآن کی مجلس میں لوگوں کو مدعو کرنا
  • 24750
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-24
  • مشاہدات : 1137

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ختم قرآن کی مجلس میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بلانا بھی آج کل حفاظ کا معمول بن گیا ہے ان کا یہ عمل کیسا ہے ؟ ہو سکتا ہے کہ ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اجتماعی دعا میں شرکت کرانا ہو لیکن کیا اس میں ریاکاری کا عمل کارفرما نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مجالسِ خیر میں شرکت باعث ِ رحمت ہے ۔ صحیح حدیث میں ہے :

’ مَا اجتَمَعَ قَومٌ فِی بَیتٍ مِّن بُیُوتِ اللّٰهِ إِلَّا یَتلُونَ کِتَابَ اللّٰهِ، وَ یَتَدَارَسُونَهٗ بَینَهُم اِلَّا نَزَلَت عَلَیهِمُ السَّکِینَةُ، وَ غَشِیَتهُمُ  الرَّحمَةُ ، وَ حَفَّتهُمُ المَلَائِکَةُ  ‘(صحیح مسلم،بَابُ فَضلِ الِاجتِمَاعِ عَلَی تِلَاوَةِ القُرآنِ وَعَلَی الذِّکرِ ،رقم:۲۶۹۹)

یعنی نہیں جمع ہوتی کوئی قوم کسی گھر میں اﷲ کے گھروں میں سے مگر تاکہ اﷲ کی کتاب کو پڑھیں اور اس کے آپس میں معنی بیان کریں مگر ان پر تسکین اُترتی ہے اور ان کو رحمت ڈھانکتی ہے۔

لہٰذا نیت میں اگر خلوص ہو تو یہ عمل ریاکاری نہیں بنتا۔(واﷲ اعلم)

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:638

محدث فتویٰ

تبصرے