سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(188) حصول اولاد سے پرہیز کا حکم

  • 2468
  • تاریخ اشاعت : 2013-02-16
  • مشاہدات : 1227

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کسی کی نئی نئی شادی ہوئی ہو اور میاں بیوی دونوں نوجوان ہوں اور وہ یہ ارادہ کریں کہ وہ تین چار سال اولاد نہیں چاہتے تو کیا ایسی سوچ رکھنا صحیح ہے ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسی سوچ رکھنا ناپسندیدہ ہے کیونکہ شریعت اسلامیہ میں صحیح نکاح کے ذریعےحصول لذت کے ساتھ ساتھ اولاد صالحہ بھی مطلوب و مقصود اور مستحب و مستحسن ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’ فَالـٔـٰنَ بـٰشِر‌وهُنَّ وَابتَغوا ما كَتَبَ اللَّهُ لَكُم‘‘ (البقرۃ : ۱۸۷)

’’تو اب تم ان سے مباشرت کرو اور جو اللہ نے تمھارے لیے لکھا ہے طلب کرو۔‘‘

اس آیت کریمہ میں جو یہ فرمایا،جو اللہ نے تمھارے لیے لکھا ہے طلب کرو‘‘

اس سے کئی ایک مفسرین نے اولاد مراد لی ہے، جیسا کہ تفسیر طبری وغیرہ میں مرقوم ہے اور بعض سلف نے لیلۃ القدر مراد لی ہے۔

امام طبری فرماتے ہیں:

’’اس میں خیر کے تمام معانی مطلوب و مقصود ہیں اور ظاہر آیت کے مطابق سب سے اولیٰ معنی اولاد کی طلب ہے، اس لیے کہ یہ ’’ تم ان سے مباشرت کرو‘‘والے قول کے بعد ذکر کیا ہے۔ یعنی اپنی بیویوں سے مباشرت کے ذریعے جو اللہ تعالیٰ نے اولاد اور نسل لکھ رکھی ہے اسے تلاش کرو۔‘‘(ملخصا از تفسیر طبری (۲/۹۳۹) مطبوعہ دارالسلام قاہرہ)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبتل سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے :

’’ تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَإِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاَنْبِیَائِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ‘‘ (إرواء الغلیل(۶/۱۹۵)

’’زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچے دینے والی عورت سے شادی کرو،کیونکہ میں قیامت والے دن تمھاری وجہ سے انبیاء پر فخر کروں گا۔‘‘

معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا:

’’ إِنِّیْ أَصَبْتُ امْرَأَۃً ذَاتَ جَمَالٍ وَ حَسَبٍ وَ إِنَّہَا لاَ تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُہَا؟ قَالَ لاَ، ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَنَہَاہُ، ثُمَّ أَتَاہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ: تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَإِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْأُمَمَ ‘‘(أبوداوٗد، کتاب النکاح، باب النھی عن تزویج من لم یلد منالنساء (۲۰۵۰)، النسائی (۳۲۲۹)، ابن حبان (۴۰۵۶،۴۰۵۷)

’’میں نے ایک حسب و جمال والی عورت کو پایا ہے، لیکن وہ بانجھ ہے، کیا میں اس سے شادی کر لوں۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں!‘‘

پھر وہ دوسری مرتبہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کیا، پھر وہ تیسری مرتبہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ زیادہ بچے جنم دینے والی اور زیادہ محبت کرنے والی سے شادی کرو، کیونکہ میں تمھاری وجہ سے امتوں پر فخر کروں گا۔‘‘

لہٰذا شرعی طور پر تو زیادہ اولاد کا حاصل کرنا مطلوب و مستحسن ہے اور بچوں میں مناسب وقفہ اور منصوبہ بندی کرنا معیوب ہے۔

شریعت اسلامیہ میں عزل کا جو جواز ہے وہ بھی کراہت کے ساتھ ہے، جیسا کہ جدامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر ہوئی اور لوگ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا کہ غیلہ (دودھ پلانے والی سے وطی کرنے) سے منع کر دوں، تو میں نے روم اور فارس میں دیکھا کہ وہ اپنی اولاد کے بارے میں غیلہ کرتے ہیں تو یہ چیز ان کی اولاد کو کوئی ضرر نہیں دیتی۔‘‘

پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ ذٰلِکَ الْوَأْدُ الْخَفِیُّ وَھِیَ {واذ الموءدۃ سئلت ‘‘ (مسلم، کتاب النکاح،باب جواز الغیلۃ وہی وطیٔ المرضع، وکراہۃ العزل (۱۴۱/۱۴۴۲)

’’یہ مخفی طریقے سے زندہ در گور کرنا ہے اور یہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور جب زندہ در گور کی گئی سے پوچھا جائے گا۔‘‘

البتہ اگر کوئی عورت اتنی لاغر اور کمزور ہو کہ ماہر ڈاکٹر دیانتداری سے تجویز دے کہ اس عورت کے ہاں بچے کی ولادت اس کے لیے جان لیوا ثابت ہو گی تو اس کے لیے کوئی بھی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے ولادت نہ ہو، یہ مضطر اور لاچار کی فہرست میں داخل ہو گی اور اضطرار کی صورت میں شرعی حکم تبدیل ہو جاتا ہے، حرام بھی بقدر ضرورت حلال ہو جاتا ہے، جیسا کہ نص قرآنی و حدیث میں مذکور و موجود ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ