سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(184) موسیقی کی شرعی حیثیت

  • 2464
  • تاریخ اشاعت : 2013-02-16
  • مشاہدات : 1578

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اسلام میں موسیقی کی شرعی حیثیت کیا ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

گانا سننا ایک حرام عمل ہے ،جس کی حرمت پر بے شمار دلائل پائے جاتے ہیں ۔گانا گانے اور سننے کی حرمت پر شیخ صالح المنجد کا تفصیلی فتویٰ پیش خدمت ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے۔

" ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله " لقمان ( 6 )

اور لوگوں ميں كچھ ايسے بھى ہيں جو لغو باتيں خريدتے ہيں، تا كہ بغير كسى علم كے اللہ كى راہ سے لوگوں كو روكيں، اور اسے مذاق بنائيں، انہيں لوگوں كے ليے ذلت ناک عذاب ہے ۔

سیدنا ابن عباس رضى اللہ تعالى اور مجاہد اس آیت كى تفسير ميں كہتے ہيں کہ اس سے مراد گانا بجانا ہے. (تفسير طبرى ( 3 / 451 )

شیخ سعدى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

“تو اس ميں ہر حرام كلام، اور سب لغو اور باطل باتيں، بكواس اور كفر و نافرمانى كى طرف رغبت دلانے والى بات چيت، اور راہ حق سے روكنے والوں اور باطل دلائل كے ساتھ حق كے خلاف جھگڑنے والوں كى كلام، اور ہر قسم كى غيبت و چغلى، اور سب و شتم، اور جھوٹ و كذب بيانى، اور گانا بجانا، اور شيطانى آواز موسيقى، اور فضول اور لغو قسم كے واقعات و مناظرات جن ميں نہ تو دينى اور نہ ہى دنياوى فائدہ ہو سب شامل ہيں " تفسير السعدى ( 6 / 150 )

ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" لھو الحديث " يعنى لغو بات خريدنے كى تفسير ميں صحابہ كرام رض اور تابعين عظام كى تفسير ہى كافى ہے، انہوں نے اس كى تفسير يہى كى ہے كہ: يہ گانا بجانا، ہے، ابن عباس ، اور ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہم سے يہ صحيح ثابت ہے.

ابو الصھباء كہتے ہيں: ميں نے ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كو اللہ تعالىٰ كے فرمان:

’’ و من الناس من يشترى لھو الحديث ‘‘ كے متعلق سوال كيا كہ اس سے مراد كيا ہے تو ان كا جواب تھا:

اس اللہ تعالى كى قسم جس كے علاوہ كوئى اور معبود برحق نہيں اس سے مراد گانا بجانا ہے ـ انہوں نے يہ بات تين بار دھرائى ـ.

اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے صحيح ثابت ہے كہ اس سے مراد گانا بجانا ہى ہے.

اور لھو الحديث كى تفسير گانے بجانے، اور عجمى لوگوں كى باتيں اور ان كے بادشاہ اور روم كے حكمران كى خبروں كى تفسير ميں كوئى تعارض نہيں، يا اس طرح كى اور باتيں جو مكہ ميں نضر بن حارث اہل مكہ كو سنايا كرتا تھا تا كہ وہ قرآن مجيد كى طرف دھيان نہ ديں، يہ دونوں ہى لھو الحديث ميں شامل ہوتى ہيں.

اسى ليے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما نے كہا تھا: لھو الحديث سے مراد باطل اور گانا بجانا ہے.

تو بعض صحابہ کرام رض نے يہ بيان كيا ہے، اور بعض نے دوسرى بات بيان كي ہے، اور بعض صحابہ كرام رض نے دونوں كو جمع كر كے ذكر كيا ہے، اور گانا بجانا تو شديد قسم كى لہو ہے، اور بادشاہوں اور حكمرانوں كى باتوں سے زيادہ نقصان دہ ہے، كيونكہ يہ زنا كا زينہ اور پيش خيمہ ہے، اور اس سے نفاق و شرک پيدا ہوتا ہے، اور شيطان كى شراكت ہوتى ہے، اور عقل ميں خمار پيدا ہو جاتا ہے، اور گانا بجانا ايک ايسى چيز ہے جو قرآن مجيد سے روكنے اور منع كرنے والى باطل قسم كى باتوں ميں سب سے زيادہ شديد روكنے والى ہے، كيونكہ اس كى جانب نفس بہت زيادہ ميلان ركھتا ہے، اور اس كى رغبت كرتا ہے.

تو ان آيات كے ضمن ميں يہ بيان ہوا ہے كہ قرآن مجيد كے بدلے لہو لعب اور گانا بجانا اختيار كرنا تا كہ بغير علم كے اللہ كى راہ سے روكا جائے اور اسے ہنسى و مذاق بنايا جائے يہ قابل مذمت ہے، اور جب اس پر قرآن مجيد كى تلاوت كى جائے تو وہ شخص منہ پھير كر چل دے، گويا كہ اس نے سنا ہى نہيں، اور اس كے كانوں ميں پردہ ہے، جو كہ بوجھ اور بہرہ پن ہے، اور اگر وہ قرآن مجيد ميں سے كچھ كو جان بھى لے تو اس سے استھزاء اورمذاق كرنے لگتا ہے، تو يہ سب كچھ ايسے شخص ہى صادر ہوتا ہے جو لوگوں ميں سب سے بڑا كافر ہو، اور اگر بعض گانے والوں اور انہيں سننے والوں ميں سے اس كا كچھ حصہ واقع ہو تو بھى ان كے ليے اس مذمت كا حصہ ہے " ديكھيں: اغاثۃ اللھفان ( 1 / 258 - 259 ).

اور نافع رحمہ اللہ بيان كرتےہيں كہ:

" ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے بانسرى بجنے كى آواز سنى تو انہوں نے اپنے كانوں ميں انگلياں ركھ ليں اور راستے سے ہٹ كر مجھے كہنے لگے نافع كيا تم كچھ سن رہے ہو ؟

تو ميں نے عرض كيا: نہيں، تو انہوں نے اپنے كانوں سے انگلياں نكال ليں، اور كہنے لگے، ميں ايک بار نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ تھا تو انہوں نے آواز سنى تو اسى طرح كيا " (صحيح سنن ابو داود.)

كچھ لوگ سمجھتے ہيں كہ يہ حديث اس كى حرمت كى دليل نہيں كيونكہ اگر ايسا ہى ہوتا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كو اپنے كان بند كرنے كا حكم ديتے، اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بھى اسى طرح نافع كو حكم ديتے!

تو اس كا جواب يہ ديا جاتا ہے كہ: وہ اسے غور سے كان لگا كر نہيں سن رہے تھے بلكہ اس كى آواز ان كے كان ميں پڑ گئى تھى، اور سامع اور مستمع ميں فرق پايا جاتا ہے، سامع صرف سننے والے كو كہتے ہيں،اور مستمع كان لگا كر سننے والے كو كہتے ہيں.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" انسان جو چيز ارادہ اور قصد سے نہ سنے بالاتفاق آئمہ كرام كے اس پر كوئى چيز مرتب نہيں ہوتى نہ تو نہى اور نہ ہى مذمت، اسى ليے كان لگا كر سننے كے نتيجہ ميں مذمت اور مدح مرتب ہوتى ہے، نہ كہ سننے كے نيتجہ ميں، اس ليے قرآن مجيد كان لگا كر سننے والے كو اجروثواب ہو گا ليكن بغير ارادہ و قصد كے قرآن مجيد سننے والے كو كوئى ثواب نہيں، كيونكہ اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے، اور اسى طرح گانے بجانے سے منع كيا گيا ہے، اگر وہ بغير كسى ارادہ و قصد كے سنتا ہے تو اسے ضرر نہيں ديگا "ديكھيں: المجموع ( 10 / 78 ).

اور ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" مستمع وہ ہے جو قصدا اور ارادتا سنتا ہے، اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے ايسا نہيں پايا گيا، بلكہ ان سے سماع پايا گيا ہے، يعنى انہوں نے بغير كسى ارادہ قصد كے سنا اور اس كى آواز كان ميں پڑ گئى اور اس ليے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اس كى ضرورت تھى كہ انہيں آواز بند ہونے كى خبر دى جائے، كيونكہ وہ راستے سے دوسرى طرف ہو گئے تھے، اور انہوں نے اپنے كان بند كر ليے تھے، تو وہ دوبارہ اس راستے پر آنے والے نہ تھے، اور نہ ہى آواز ختم ہونے سے قبل كانوں سے انگلياں نكالنے والے تھے، تو اس ليے ضرورت كى بنا پر مباح كر ديا گيا "ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 10 / 173 ).

لگتا ہے كہ دونوں اماموں كى كلام ميں مذكور سماع مكروہ ہو، اور ضرورت كى بنا پر مباح كيا گيا ہو، جيسا كہ امام مالك رحمہ اللہ كے قول ميں آگے بيان كيا جائيگا، واللہ اعلم.

اس كے متعلق آئمہ اسلام كے اقوال:

قاسم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" گانا بجانا باطل ميں سے ہے "

اور حسن رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر وليمہ ميں لہو اور گانا بجانا ہو تو اس كى دعوت قبول نہيں "ديكھيں: الجامع للقيروانى صفحہ نمبر ( 262 - 263 ).

اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" آئمہ اربعہ كا مذہب ہے كہ گانے بجانے كے سب آلات حرام ہيں، صحيح بخارى وغيرہ ميں ثابت ہے كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے خبر دى ہے كہ ان كى امت ميں كچھ ايسے لوگ بھى آئينگے جو زنا اور ريشم اور شراب اور گانا بجانا حلال كر لينگے "

اور اس حديث ميں يہ بيان كيا كہ ان كى شكليں مسخ كر كے انہيں بند اور خنزير بنا ديا جائيگا....

اور آئمہ كرام كے پيروكاروں ميں سے كسى نے بھى گانے بجانے كے آلات ميں نزاع و اختلاف ذكر نہيں كيا "ديكھيں: المجموع ( 11 / 576 ).

علامہ البانى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" مذاہب اربعہ اس پر متفق ہيں كہ گانے بجانے كے آلات حرام ہيں "ديكھيں: السلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ ( 1 / 145 ).

اور حنبلى مسلك كے محقق ابن قدامہ المقدسى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" گانے بجانے كى تين اقسام ہيں:

پہلى قسم: حرام.

وہ بانسرى اور سارنگى اور ڈھول اور گٹار وغيرہ بجانا ہے.

تو جو شخص مستقل طور پر اسے سنتا ہے اس كى گواہى قبول نہيں كى جائيگى، وہ گواہى ميں مردود ہے "ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 10 / 173 ).

اور ايك دوسرى جگہ پر كہتے ہيں:

" اور اگر اسے كسى ايسے وليمہ كى دعوت ملے جس ميں برائى ہو مثلا شراب نوشى، گانا بجانا، تو اس كے ليے اگر وہاں جا كر اس برائى سے منع كرنا ممكن ہو تو وہ اس ميں شركت كرے اور اسے روكے، كيونكہ اس طرح وہ دو واجب كو اكٹھا كر سكتا ہے، اور اگر روكنا ممكن نہ ہو تو پھر وہ اس ميں شركت نہ كرے "ديكھيں: الكافى ( 3 / 118 ).

طبرى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" سب علاقوں كے علماء كرام گانے بجانے كى كراہت اور اس سے روكنے پر متفق ہيں، صرف ان كى جماعت سے ابراہيم بن سعد،اور عبيد اللہ العنبرى نے عليحدگى اختيار كى ہے.

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان تو يہ ہے كہ:

" آپ كو سواد اعظم كے ساتھ رہنا چاہيے، اور جو كوئى بھى جماعت سے عليحدہ ہوا وہ جاہليت كى موت مرا "ديكھيں: تفسير قرطبى ( 14 / 56 ).

پہلے ادوار ميں كراہت كا لفظ حرام كے معنى ميں استعمال ہوتا تھا ليكن پھر بعد ميں اس پر تنزيہ كا معنى كا غالب آگيا، اور يہ تحريم كا معنى اس قول ليا گيا ہے: اور اس سے روكا جائے، كيونكہ جو كام حرام نہيں اس سے روكا نہيں جاتا، اور اس ليے بھى كہ دونوں حديثوں ميں اس كا ذكر ہوا ہے، اور اس ميں بہت سختى سے منع كيا گيا ہے.

اور امام قرطبى رحمہ اللہ نے ہى اس اثر كو نقل كيا ہے، اور اس كے بعد وہى يہ كہتے ہيں:

" ہمارے اصحاب ميں سے ابو الفرج اور ابو قفال كہتے ہيں: گانا گانے اور رقص كرنے والے كى گواہى قبول نہيں ہو گى "

ميں كہتا ہوں: اور جب يہ چيز ثابت ہو گئى كہ يہ جائز نہيں تو پھر اس كى اجرت لينا بھى جائز نہيں"

شيخ فوزان حفظہ اللہ كہتے ہيں:

" ابراہيم بن سعد اور عبيد اللہ عنبرى نے جو گانا مباح قرار ديا ہے وہ اس گانے كى طرح نہيں جو معروف ہے ..... تو يہ دونوں مذكور شخص كبھى بھى اس طرح كا گانا مباح نہيں كرتے جو انتہائى غلط اور گرا ہوئى كلام پر مشتمل ہے "ماخوذ از: الاعلام.

ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" گانے بجانے كے آلات تيار كرنا جائز نہيں "ديكھيں: المجموع ( 22 / 140 ).

اور دوسرى جگہ كہتے ہيں:

" گانے بجانے كے آلات مثلا ڈھول وغيرہ كا تلف اور ضائع كرنا اكثر فقھاء كے ہاں جائز ہے، امام مالك رحمہ اللہ كا مسلك يہى ہے، اور امام احمد كى مشہور روايت يہى ہے "ديكھيں: المجموع ( 28 / 113 ).

اور ان كا يہ بھى كہنا ہے:

" چھٹى وجہ: ابن منذر رحمہ اللہ گانے بجانے اور نوحہ كرنے كى اجرت نہ لينے پر علماء كرام كا اتفاق ذكر كرتے ہوئے كہتے ہيں:

اہل علم ميں سے جس سے بھى ہم نے علم حاصل كيا ہے ان سب كا گانے والى اور نوحہ كرنے والى كو روكنے پر اتفاق ہے، شعبى اور نخعى اور مالك نے اسے مكروہ كہا ہے، اور ابو ثور نعمان ـ ابو حنيفہ ـ اور يعقوب اور محمد ـ امام ابو حنيفہ كے دونوں شاگرد ـ رحمہم اللہ كہتے ہيں:

گانا گانے اور نوحہ كرنے كے ليے اجرت پر كوئى بھى چيز دينا جائز نہيں، اور ہمارا قول بھى يہى ہے "

اور ان كا يہ بھى كہنا ہے:

گانا بجانا نفس كى شراب ہے، اور اسے خراب كر ديتا ہے، اور يہ نفس كے ساتھ وہ كچھ كرتا ہے جو شراب كا جام بھى نہيں كرتا "ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 10 / 417 ).

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ