سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(569) کیا مدرک رکوع مدرک رکعت ہو سکتا ہے؟
  • 24579
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-24
  • مشاہدات : 866

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو آدمی رکوع میں شامل ہو جائے کیا اس کی رکعت ہو جائے گی یا نہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کر مشکور فرماویں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رکوع کی رکعت کا مسئلہ چند سخت مشہور اختلافی مسائل میں سے ایک ہے جس پر زمانۂ قدیم سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ مزید طوالت کی ضرورت نہیں۔ بالاختصار ،جمہور اہلِ علم ’’ مُدرِکِ رُکُوع‘‘ (یعنی رکوع میں شامل ہونے والا) کی رکعت کو شمار کرتے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف اہلِ علم کی ایک جماعت رکوع کی رکعت کی قائل نہیں۔ ان میں سے صحابی جلیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں، جن کی زیادہ ترمرویات پر اعتماد کرتے ہوئے جمہور رکوع کی رکعت کے قائل ہوئے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے مقام پر محلِ تأمّل ہیں۔ امام المحدثینبخاری رحمہ اللہ  بھی رکوع پر رکعت کو شمار نہیں کرتے۔ میرے نزدیک بھی أقرب إلی الصواب بات یہی ہے، کہ مدرکِ رُکوع مدرکِ رَکعت نہیں۔ دلیل اس کی مشہور صحیح حدیث ہے:

’ فَمَا أَدرَکتُم فَصَلُّوا وَمَا فَاتَکُم فَأَتِمُّوا۔‘ صحیح البخاری،بَابُ قَولِ الرَّجُلِ: فَاتَتنَا الصَّلاَةُ،رقم:۶۳۵

یعنی ’’جو حصہ نماز کاامام کے ساتھ پالو، سو اسے پڑھ لو!اور جورہ جائے ، اسے (بعد میں)پورا کرلو!‘‘

یہاں چونکہ مقتدی سے دواہم چیزیں (قیام اور قرأتِ فاتحہ) جن پر نماز کا دارو مدار ہے، وہ فوت ہوچکی ہیں۔ لہٰذا مذکورہ حدیث کی بناء پر رکعت کی قضائی ہونی چاہیے۔ (واﷲ أعلم بالصواب)

تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو!( فتاویٰ اہلحدیث جلد دوم ص ۱۸۲/۱۵۶) اور (ہدایۃ السائل إلی أدلۃ المسائل للنواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ  (ص: ۱۸۶)

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:498

محدث فتویٰ

تبصرے