سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(528) ظہر اور عصر کی نمازوں میں مقتدی کا فاتحہ کے بعد سورت پڑھنا
  • 24538
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 1491

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ظہر اور عصر کی نمازوں میں امام قرأت نہیں کرتا بلکہ خاموشی سے امامت کرتا ہے ان نمازوں میں مقتدیوں کو سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورت پڑھنی چاہیے یا کہ سورۃ فاتحہ کے بعد خاموش کھڑے ہو کر امام کے رکوع جانے کا انتظار کرنا چاہیے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سرّی نمازوں میں ’’فاتحہ‘‘ کے علاوہ قرأت کے اضافہ کا جواز ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ  کی روایت واضح طور پر اس کی دلیل ہے۔ مشکوٰۃ مع المرعاۃ: ۶۰۲/۱

 اور مؤطا امام مالک میں حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما  کا فعل بایں الفاظ مروی ہے :

’ کَانَ یَقرَأ فِی الاَربَعِ جَمِیعًا فِی کُلِّ رَکعَةٍ بِاُمِّ القُراٰنِ ، وَ سُورَةٍ مِّنَ القُراٰنِ ‘مؤطا امام مالك،الْقِرَاءَةُ فِی الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاء ِ،رقم:۲۶۰

یعنی ’’ابن عمر رضی اللہ عنہما  چار رکعتی نماز کی ہر رکعت میں فاتحہ اور مزید کوئی سورت پڑھتے تھے۔‘‘

 ظاہر یہ ہے کہ یہ معاملہ فرائض کا ہے، جس طرح کہ امام محمد رحمہ اللہ  کی روایت میں تصریح موجود ہے:

’ فِی الاَربَعِ جَمِیعًا مِنَ الظُّهرِ ، وَالعَصرِ ‘

اور صاحب ’’المرعاۃ ‘‘ فرماتے ہیں:

’ فَالظَّاهِرُ اَنَّهٗ یَجُوزُ الزِّیَادَةُ عَلَی الفَاتِحَةِ فِی الاُخرَیَینِ مِن غَیرِ کَرَاهَةٍ  ‘ (ا/۶۰۰)

نیز امام شافعی رحمہ اللہ  جدید قول کے مطابق اور امام مالک و احمد; نے بھی جواز کو اختیار کیا ہے۔

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:465

محدث فتویٰ

تبصرے