سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(489) سکتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھنا
  • 24499
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-24
  • مشاہدات : 785

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے فاتحہ خلف الامام کا نیا طریقہ دیکھا ہے کہ پہلے امام فاتحہ پڑھتا ہے امام کے خاموش ہونے پر مقتدی آہستہ قرأت کرتے ہیں اور اس کے بعد رکوع ہوتا ہے۔ اس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نماز میں دو سکتے کرتے (یعنی دو مرتبہ خاموش ہوتے) تھے۔ کیا یہ طریقہ صحیح احادیث سے ثابت ہے؟ وضاحت فرما دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات درست ہے، کہ رسول اللہﷺ سے نماز کے قیام میں دو سکتے ثابت ہیں۔ لیکن اس دوسرے سکتے کے دوران مقتدی کے لیے سورۂ فاتحہ پڑھنا رسول اللہ ﷺسے ثابت نہیں۔ تاہم بعض سلف نے اس کو مستحب سمجھا ہے۔ ملاحظہ ہو!( المغنی :۲؍۱۶۳۔۱۶۴)

جب کہ علامہ مبارک پوری رحمہ اللہ  نے بھی ان سے موافقت نہیں کی۔" صحیح مسلم،بَابُ وُجُوبِ قِرَائَ ۃِ الْفَاتِحَۃِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ، …الخ ، رقم:۳۹۵" چنانچہ امام کے پیچھے پیچھے ہی پڑھ لینی چاہیے۔ جیسا کہ حدیث ِ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ  میں ہے، کہ: ’اِقرَا بِهَا فِی نَفسِكَ ‘تحفة الاحوذی۔ ۲؍۸۰

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:418

محدث فتویٰ

تبصرے