سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(479) آخری دو رکعتوں میں فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت ملانا

  • 24489
  • تاریخ اشاعت : 2018-02-20
  • مشاہدات : 70

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فرض نماز کی آخری رکعتوں میں عموماً صرف سورہ فاتحہ ہی پڑھی جاتی ہے۔ کیا ان رکعتوں میں فاتحہ کے علاوہ کوئی سورت بھی ملائی جاسکتی ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

فرضوں کی آخری رکعتوں میں فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے کا جواز ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت ابوسعید خدری کی روایت اس امر کی واضح دلیل ہے۔ ملاحظہ ہو مشکوٰۃ مع مرعاۃ المفاتیح (۱/۶۰۲) حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْرَأُ فِی صَلَاةِ الظُّهْرِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُولَیَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَةٍ قَدْرَ ثَلَاثِینَ آیَةً، وَفِی الْأُخْرَیَیْنِ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آیَةً  ‘صحیح مسلم،بَابُ الْقِرَاءَةِ فِی الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ،رقم:۴۵۲

’’نبی کریمﷺ ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں ہر رکعت میں ۳۰ آیات کے بقدر پڑھا کرتے تھے ،جب کہ آخری دو رکعتوں میں ۱۵ آیات کے بقدر…‘‘

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:407

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ