سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(458) ہر رکعت میں ’’أَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیم، پڑھنا کیسا ہے؟
  • 24468
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 16888

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہر رکعت میں ’أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیم، پڑھنا کیسا ہے؟کیونکہ ابن حزم رحمہ اللہ  المحلّٰی میں لکھتے ہیں: جو ’’أَعُوذُ بِاللّٰهِ‘‘ نہ پڑھے اس کی رکعت نہیں ہوتی اور’’اعوذ باﷲ‘‘پڑھنا ہر رکعت میں واجب ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بعض اہلِ علم ہر رکعت میں ’’تعوذ‘‘ پڑھنے کے قائل ہیں لیکن جمہور اہلِ علم ہر رکعت میں تعوذ کے قائل نہیں۔ صحیح حدیث میں ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں:

’ اَنَّ النَّبِیَّﷺ کَانَ اِذَا نَهَضَ فِی الرَّکعَةِ الثَّانِیَةِ اِستَفتَحَ القِرَائَةَ۔ وَ لَم یَسکُت۔‘ السنن الصغیربَابُ سَکْتَتَیِ الْإِمَامِ،رقم:۵۴۲،معرفة السنن والآثار،رقم:۳۰۸۵

امام ابن قیم رحمہ اللہ  نے بھی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ صرف پہلی رکعت میں پڑھنا استعاذہ کافی ہے۔ زاد المعاد:۶۱/۱

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:391

محدث فتویٰ

تبصرے