سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(336) دورانِ نماز نظر کہاں رکھی جائے؟

  • 24346
  • تاریخ اشاعت : 2018-02-19
  • مشاہدات : 72

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب آدمی نماز میں کھڑا ہوتا ہے اس وقت اس کی نظر کہاں ہونی چاہیے، کیابالکل سامنے دیکھنا چاہیے یا کہ سجدہ کی جگہ پر؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسئلہ ہذا میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ نماز میں نگاہ جائے سجود میں ہونی چاہیے۔ ’’سنن کبریٰ بیہقی‘‘ میں حدیث ہے:

’ کَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ إِذَا صَلّٰی طَأطَأَ رَأسَهٗ ، وَ رَمٰی بِبَصَرِهٖ نَحوَ الأَرضِ ‘ السنن الکبرٰی للبیهقی،بَابُ لَا یُجَاوِزُ بَصَرُهُ مَوْضِعَ سُجُودِهِ،رقم:۳۵۴۲

جب کہ امام مالک اوران کے ہمنوا اہلِ علم کا خیال ہے کہ نمازی سامنے قبلے کی طرف دیکھے جائے۔ سجود کی طرف نہ دیکھے۔ لفظ ﴿فَوَلِّ وَجھَکَ شَطرَ المَسجِدِ الحَرَامِ﴾(البقرۃ:۱۴۴) سے ان کا استدلال ہے۔ امام ثوری،ابوحنیفہ، شافعی اورحسن بن حی نے کہا ہے کہ مستحب یہ ہے کہ جائے سجود کی طرف دیکھے اور شریک قاضی نے کہا ہے، کہ قیام میں جائے سجود کی طرف اور رکوع میں قدموں کی طرف اور سجدے میں ناک کی جگہ کی طرف اور بیٹھک میں اپنی گود کی طرف دیکھے۔( تفسیر قرطبی(۱۶۰/۲)

’’عون المعبود‘‘ میں ہے کہ سلف اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ ان میں کسی ایک کی نظر جائے سجود سے تجاوز نہ کرے۔ حاکم رحمہ اللہ  نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ   کے ذکر کے ساتھ اس کو موصول بیان کیا ہے اور انھوں نے اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم    سے مرفوع بیان کیا ہے۔(۳۴۳/۱)۔

تفسیر ’’قرطبی‘‘ اور ’’فتح القدیر‘‘ میں ’’سورۃ النور‘‘ کے شروع میں بھی بعض مراسیل کاتذکرہ ہے۔ جن میں جائے سجود کی طرف نگاہ کی تصریح ہے۔

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:313

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ