سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(313) کیا نبی ﷺ نے ننگے سر نماز پڑھی؟

  • 24323
  • تاریخ اشاعت : 2018-02-18
  • مشاہدات : 73

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم    سے ننگے سَر نماز ادا کرنا ثابت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم    نے کپڑا ہونے کے باوجود ننگے سَر نماز پڑھی ہو تو براہِ کرم اس کی وضاحت کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم    نے ایک کپڑا اوڑھ کر نماز پڑھی ہے، جس کی صورت یوں بیان ہوئی ہے، کہ کپڑے کی دونوں طرفیں مخالف طور سے کندھے پر ڈال لیں۔ یعنی اس کی دائیں طرف بائیں کندھے پر، اور بائیں طرف دائیں کندھے پر ڈال لی۔ صحیح البخاری، بَابُ الصَّلاَۃِ فِی الثَّوْبِ الوَاحِدِ مُلْتَحِفًا بِہِ،رقم:۳۵۵

اس سے صاف واضح ہے، کہ سَر پر کچھ نہ تھا۔ اگر کپڑے کی موجودگی میں ایسا فعل ناجائز ہوتا، تو آپ حکماً اس سے منع فرما دیتے۔ منع نہ کرنا مطلق جواز کی دلیل ہے۔ نیز ابوہریرہ رضی اللہ عنہ   سے روایت ہے کہ تمہارا کوئی بھی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے، کہ کندھے پر کچھ نہ ہو۔ (بلوغ المرام) صحیح البخاری،بَابٌ: إِذَا صَلَّی فِی الثَّوْبِ الوَاحِدِ فَلْیَجْعَلْ عَلَی عَاتِقَیْہِ،رقم:۳۵۹

غور فرمائیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم    نے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کی اجازت فرمائی۔ کندھے کا ڈھانپنا ضروری فرمایا۔ سرکا کہیں ذکر نہیں۔ یہ بھی مطلق جواز کی دلیل ہے۔ عملاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم    سے ننگے سَر نماز پڑھنا نظر سے نہیں گزرا۔ تاہم صحابی رسول حضرت جابر رضی اللہ عنہ   کا ایسا عمل صحیح بخاری میں موجود ہے۔ صحیح البخاری،بَابُ عَقْدِ الإِزَارِ عَلَی القَفَا فِی الصَّلاَۃِ،رقم:۳۵۲

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:301

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ