سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(312) نبی ﷺ کا ننگے سر نماز پڑھنا

  • 24322
  • تاریخ اشاعت : 2018-02-18
  • مشاہدات : 72

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ننگے سَر نماز رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم    نے پڑھی ہے یا نہیں ؟جبکہ صحابہ رضی اللہ عنہم   نے ننگے سَر نماز پڑھی ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

’’صحیحین‘‘ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ   سے مروی ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بصورتِ ’’توشیح‘‘ ایک کپڑے میں نماز پڑھی۔ ’’توشیح‘‘ کی شکل یوں ہے: کپڑے کی بائیںطرف کو بائیں ہاتھ کے نیچے سے دائیں کندھے پرڈالنا، اور کپڑے کی دائیں طرف کو دائیں ہاتھ کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالنا۔

اسی طرح عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ  کی روایت میں ہے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم    کو اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا   کے گھر میں بصورتِ ’’توشیح‘‘ ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا۔(رواہ الجماعۃ ) زیرِ حدیث ہذا علامہ شوکانی رحمہ اللہ  رقمطراز ہیں:

’ وَالحًدِیثُ یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ الصَّلَاةَ فِی الثَّوبِ الوَاحِدِ صَحِیحَةٌ إِذَا تَوَشَّحَ بِهِ المُصَلِّی، أَو وَضَعَ طَرَفَهٗ عَلٰی عَاتِقِهٖ، أو خَالَفَ بَینَ طَرَفَیهِ ‘نیل الأوطار، جز:۲، ص:۷۸

یعنی یہ حدیث اس بات پر دال ہے، کہ ایک کپڑے میں نماز درست ہے۔ ظاہر ہے جب ایک کپڑے میں نماز ہو گی توسَر لا محالہ (یعنی لازماً)ننگا ہوگا۔

مولوی احمد رضا خاں بریلوی نے احکامِ شریعت میں لکھا ہے، کہ ننگے سَر نماز پڑھنے میں خشوع و خضوع زیادہ ہے۔

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:301

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ