سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(56) زیر ناف بال مونڈنے کی مدت اور حد بندی؟

  • 24066
  • تاریخ اشاعت : 2018-01-30
  • مشاہدات : 151

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زیرناف بال مونڈنا واجب ہیں یا سنت؟ اور ان کے مونڈنے میں کتنی تاخیر کی جاسکتی ہے اوران کی مقدار کہاں تک ہے؟ (محمد صفدر محمدی،فیصل آباد)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

الجواب بعون الوہاب:نیل الاوطار میں ہے:وہو سنۃ بالاتفاق (۱/۱۲۳)

یعنی زیر ناف بال مونڈنا بالاتفاق سنت ہے۔ (تیسیر العلام :۱/۶۹) بال مونڈنے میں چالیس روز تک تاخیر ہوسکتی ہے۔ حدیث میں ہے:

’ أَن لَّا نَترُكَ أَکثَرَ مِن أَربَعِینَ لَیلَةً۔‘ صحیح مسلم،بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ،رقم:۲۵۸،سنن ابن ماجه،بَابُ الْفِطْرَةِ،رقم:۲۹۵

امام نووی رحمہ اللہ   فرماتے ہیں:

معناه ترکا لانتجاوز به اربعین لا انه وقت لهم الترك اربعین قال والمختار انه یضبط بالحاجة والطول فإذا طال حلق، انتهی۔ قلت بل المختار انه یضبط بالاربعین التی ضبط بها رسول الله ﷺ فلا یجوز تجاوزها ولا یعد مخالفا للسنة من ترکه القص ونحوه بعد الطول إلی انتهاء تلك الغایة نیل الاوطار :۱/۱۲۵

 اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں چالیس دن سے زیادہ تاخیر نہیں کرنا چاہیے،اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے چالیس دن کی میعاد مقرر کر دی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ راجح بات یہ ہے کہ یہ معاملہ انسانی ضرورت اور بالوں کی طوالت پر منحصر ہے، جب زیادہ لمبے ہو جائیں تو منڈوا دینا چاہیے، میرے(شوکانی رحمہ اللہ  ) خیال میں راجح بات یہ ہے کہ چالیس دن کی حد متعین ہے جس کو رسول اللہﷺ نے مقرر فرما دیا ہے ، لہٰذا اس سے تجاوز کرنا درست نہیں ہے ،اگر کوئی شخص بال زیادہ لمبے ہو جانے کے باوجود عرصہ چالیس دن تک تاخیر کر لیتا ہے تو وہ مخالف ِسنت شمار نہیں ہوتا۔‘‘

مرد اور عورت کو مخصوص مقام کے اوپر اور اس کے اردگرد سے بال مونڈنے چاہئیں۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’المراد بالعانة:الشعر فوق الذکر وحوالیه وکذلك الشعر الذی حول فرج المراة ‘

’’ اس سے مراد وہ بال ہیں جو مرد کے عضو کے اوپر اور اس کے ارد گرد ہیں، ایسے ہی وہ بال جو عورت کی شرمگاہ کے ارد گرد ہوں۔‘‘ اس کے علاوہ بال مونڈنا شریعت میں ثابت نہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

كتاب الطہارۃ:صفحہ:115

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ