سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(20) پاک ہونے کے بعد بھی اگر خون نظر آ جائے تو؟

  • 24030
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-15
  • مشاہدات : 649

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

  کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زینب کو ابتدا ہی سے ایامِ حیض کے سات یوم تھے، مگر صورت اس کی یہ رہی کہ پاکی کے بعد غسل کرکے وہ نماز پڑھنے لگتی، تو پھر خون آجاتا، صرف ایک دفعہ دکھلا کر بند ہوجاتا، پھر غسل کرکے نماز پڑھتی۔ اب ایسی صورت ہوگئی ہے کہ چار روز خون آکر بند ہوگیا تو غسل کرکے نماز پڑھنے لگتی، پھر پانچویں روز خون جاری ہوگیا، ایسی حالت میں اب زینب کیا کرے۔ نماز ادا کرے، یا قضاء کرے؟ قرآن وحدیث کے موافق جو حکم ہو بیان فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

الجواب وہو الموفق للصدق والصواب۔ صورتِ مسئولہ میں واضح ہو کہ زینب کے جو ایامِ ماہواری آتے تھے ان میں اگر اس کے خون کا ظہور ہوا، یعنی خون آجائے تو وہ حیض ہی میں شمار ہوگا، اور یہ بند ہوجانا بوجہ کسی عارضہ کے ہے۔ زینب خون جاری رہنے کے وقت نماز نہ پڑھے، وہ اس کا حیض ہے جب کہ یہ خون اس کے ایامِ ماہواری میں آیا ہے۔ ہاں اگر خون ایام ماہواری کے علاوہ نظر آئے تو وہ استحاضہ، بیماری ہے۔ اس میں وہ نماز پڑھے، قضاء وغیرہ کوئی نہیں۔

’ وَ جَاءَ فِی الحَدِیث…: فَاِذَا اَقبَلَتِ الحَیضَةُ فَدَعِی الصَّلٰوةَ وَ اِذَا اَدبَرَت فَاغتَسِلِی وَصَلِّی  ۔‘صحیح البخاری،بَابُ إِذَا رَأَتِ المُسْتَحَاضَةُ الطُّهْرَ،رقم:۳۳۱

یعنی ’’فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ جب عورت کو حیض آئے (اس کے ماہواری کے ایام میں) تو وہ نماز چھوڑ دے اور جب وہ ایام گزر جائیں تو وہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔ عورتیں اپنے خونِ حیض کو خوب پہچانتی ہیں اور خونِ حیض وخونِ استحاضہ میں باعتبارِ رنگ وبو وغیرہ بھی فرق ہے۔‘‘ 

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

كتاب الطہارۃ:صفحہ:94

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ