سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(84) حج بدل کرنا

  • 23836
  • تاریخ اشاعت : 2017-12-13
  • مشاہدات : 135

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے  والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ انھوں نے فریضہ حج ادا نہیں کیا تھا ۔ کیا میں ان کے بدلے حج ادا کرسکتا ہوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عبادات اور خاص کر جسمانی عبادتوں میں ہونا تو یہی چاہیے کہ انسان خود ہی اسے انجام دے۔ لیکن اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو سکا تو اس کے بعد اس کی اولاد اس کی طرف  سے یہ فرض انجام دے سکتی ہے۔کیوں کہ اولاد والدین کے وجود کا ایک حصہ ہوتی ہے۔

جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"إنَّ أَوْلادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ "

’’بے شک تمھاری اولاد تمھاری اپنی کمائی ہے‘‘

کسی بھی شخص کا عمل اس کی موت پر آکر ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم اس کی اولاد اس عمل کو آگے بڑھا سکتی ہے۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"

"إذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إلاَّ مِنْ ثَلاَثَةِ: إِلاَّ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ " (بخاری ،مسلم)

’’جب کوئی آدمی مرتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے اس نے کوئی صدقہ جاریہ کیا ہو۔ کوئی علمی کام کیا ہو جو لوگوں کے لیے نفع بخش ہو یا صالح اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔‘‘

معلوم ہوا کہ صالح اولاد اپنے والدین کی عملی زندگی کے سلسلے کو آگے بڑھا سکتی ہے۔اس لیے اگر والدین کوئی کام ادھورا چھوڑ جائیں یا کوئی فرض ان سے رہ گیا ہو تو اولاد کو چاہیے کہ ان کی طرف سے وہ فرض انجام دیں۔ خود نہیں کر سکتے تو کسی اور سے یہ کام کرائیں۔

حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  سے سوال کیا کہ اس کے والدین نہایت ضعیف ہیں اور حج نہیں کر سکتے تو کیا وہ ان کی طرف سے حج کر لے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بے شک کر لو۔

ایک دوسری عورت نے سوال کیا کہ اس کی ماں نے حج کی منت مانی تھی لیکن وہ اس کی ادائیگی سے قبل ہی مر گئی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ کہ تم اس کے بدلے حج کرلو۔فرض کرو تمھاری ماں کسی کی مقروض ہوتی تو کیا تم اس کا قرض نہ چکاتیں؟ اللہ کا قرض تو سب سے پہلے چکانا چاہیے۔

ایک بات ذہن میں رہے کہ جو شخص اپنے والدین یا کسی اور کے بدلے میں حج کر رہا ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے وہ اپنا حج ادا کرے۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی یوسف القرضاوی

حج اور عمرہ،جلد:1،صفحہ:203

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ