سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(81) بچپن کا حج

  • 23833
  • تاریخ اشاعت : 2017-12-13
  • مشاہدات : 128

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا سن بلوغ سے قبل حج کرنے سے فرض حج ادا ہو جائے گا؟ اس سن میں اگر کسی نے حج کیا اور اس کے بعد گناہ کی زندگی گزاری تو کیا اس کا حج باطل ہو جائے گا؟ اور اسے دوبارہ حج کرنا ہو گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سن بلوغ سے قبل حج کرنے سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی۔حج کی فرضیت اسی وقت ساقط ہوتی ہے جب اسے سن بلوغ کے بعد ادا کیا جائے۔

حج کی ادائیگی کے بعد بھی کوئی شخص برے کاموں میں ملوث رہا تو اس سے اس کا حج باطل نہیں ہو گا ۔ کیوں کہ برے کاموں کی وجہ سے اچھے اور نیک اعمال رائگاں نہیں ہوتے۔ البتہ ان کے ثواب میں کمی ضرور ہو جاتی ہے۔ قیامت کے دن ہر شخص کے سامنے اس کے چھوٹے بڑے اچھے اور برے سارے اعمال پیش کیے جائیں گے اور  انہیں اعمال کی بنیاد پر اس کا حساب و کتاب ہو گا۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿فَمَن يَعمَل مِثقالَ ذَرَّةٍ خَيرًا يَرَهُ ﴿٧ وَمَن يَعمَل مِثقالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ﴿٨﴾... سورة الزلزال

’’پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔‘‘

یہ بہر حال بندہ مومن سے یہی امید کی جاتی ہے کہ حج کا اثر اس کے اعمال میں ظاہر ہو۔ اپنی گزشتہ زندگی میں جن برے کاموں میں وہ ملوث رہا۔ ان سے سچی توبہ کرے اور آئندہ زندگی اللہ کی اطاعت میں گزارنے کا پکا ارادہ کرے۔ اور اس کے لیے پوری کوشش کرے۔ اللہ سے اپنے رشتے کو مضبوط تر کرے۔ اور یہی وہ حج مبرور ہے۔ جس کا صلہ جنت ہے۔

اگر صاحب سوال نے سن بلوغ سے پہلے حج کیا ہے تو انہیں اب دوبارہ حج کرنا چاہیے تاکہ فرضیت ساقط ہو سکے البتہ پہلے حج کا ثواب انہیں ضرور ملے گا۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی یوسف القرضاوی

حج اور عمرہ،جلد:1،صفحہ:198

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ