سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(80) پیدل حج کے لیے سفر کرنا

  • 23832
  • تاریخ اشاعت : 2017-12-13
  • مشاہدات : 261

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہوائی جہاز یا کار وغیرہ سے حج کے لیے سفر کرنا زیادہ افضل ہے یا پیدل سفر کرنا کچھ لوگ پاکستان سے پیدل ہی آئے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ پیدل سفر کرنے کی وجہ سے انہیں زیادہ ثواب ملے گا۔ کیا یہ بات صحیح ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عبادات میں زیادہ ثواب ملنے کا انحصار صرف محنت اور مشقت پر نہیں ہےبلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ عبادت خالصۃاللہ کے لیے کی جائے اور اس طریقے سے کی جائے جو قرآن و سنت میں بیان ہوا ہے۔ اور یہ کہ عبادت کے ارکان و آداب کا پورا خیال رکھا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان چیزوں کے بعد محنت و مشقت کا بھی ثواب کی زیادتی میں دخل ہے۔

تصور کریں کہ کسی شخص کا گھر مسجد کے پاس ہی ہے ۔ لیکن وہ مسجد تک پہنچنے کے لیے خواہ مخواہ لمبے راستے طے کرتا ہے تاکہ اسے زیادہ ثواب ملے۔ کیا شریعت کی نظر میں اس کا ایسا کرنا قابل تعریف ہے؟ ہر گز نہیں۔ البتہ اگر اس کا گھر مسجد سے کافی دور ہوا اور وہ لمبی مسافت طے کر کے مسجد آئے تو اس مشقت کے لیے یقیناً اسے زیادہ ثواب ملے گا۔

اسی طرح ہوائی جہاز اور کار وغیرہ کی سہولت موجود ہوتے ہوئے اگر کوئی پیدل حج کے لیے روانہ ہوتا ہے تو اس غیر ضروری مشقت کی وجہ سے وہ ہرگززیادہ ثواب کا حقدار نہیں ہو گا بلکہ اس کے برعکس اس کا یہ عمل شریعت کی نظر میں سرے سے قابل تعریف نہیں ہے۔ البتہ زیادہ ثواب کا حقدار اس صورت میں ہو گا کہ ہوائی جہاز کے ٹکٹ کے پیسے نہ ہوں یا کار وغیرہ کی سہولت نہ ہو اور حج کے لیے پیدل ہی روانہ ہو جائے۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی یوسف القرضاوی

حج اور عمرہ،جلد:1،صفحہ:198

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ