سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(74) کس سفر میں روزہ معاف ہے؟

  • 23826
  • تاریخ اشاعت : 2017-12-13
  • مشاہدات : 576

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کتنی مسافت کے سفر میں روزے کی قضادرست ہے؟ کیا یہ 81کلومیڑ ہے؟فرض کریں اگر کسی سفر میں کوئی مشقت نہ ہو تو کیا یہ بات جائز ہے کہ روزے کو قضا نہ کیا جائے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس بات پر تمام امت کا اتفاق ہے کہ سفر کی حالت میں روزہ قضا کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اس سلسلے میں قرآن کی واضح ہدایت موجود ہے۔

﴿وَمَن كانَ مَريضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ ...﴿١٨٥﴾... سورة البقرة

’’اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔‘‘

 البتہ مسافت کی وہ مقدار جس پر سفر کا اطلاق ہو اس سلسلے میں علماء کا اختلاف ہے۔ آپ نے جس مقدار کا تذکرہ کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ تمام فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اتنی مسافت کے سفر کو نماز قصر کرنے اور روزہ قضا کرنے کے لیے کافی تصور کیا جائے کیوں کہ جمہور فقہاء نے 84 کلو میٹر کی مقدار کو متعین کیا ہے اور 181 اور 84 میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ سے ایسی کوئی روایت منقول نہیں ہے کہ انھوں نے سفر کی پیمائش میٹر یا کلو میٹر شے کی ہو۔یہی وجہ ہے کہ بعض فقہاء کے نزدیک مسافت کی کوئی شرط نہیں ہے۔ ان کے نزدیک ہر اس سفر کو جسے عرف عام میں سفر کہا جا سکے اس میں نماز کی قصر اور روزہ کی قضا جائز ہے۔

سفر کی حالت میں اس بات کا اختیار ہے کہ روزہ رکھا جائے یا اسے قضا کیا جائے روایتوں میں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ سفر پر ہوتے تھے ان میں بعض روزے کی حالت میں ہوتے تھے اور بعض بغیر روزے کے ہوتے تھے۔ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان دونوں میں کسی ایک دوسرے پر ترجیح نہیں دی ۔ یعنی دونوں ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی نظر میں یکساں تھے۔

سفر اگر پر مشقت ہو اور اس میں روزہ رکھنا تکلیف دہ ہو تو ایسی حالت میں روزہ رکھنا مکروہ ہے بلکہ شاید حرام ہو کیوں کہ روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک شخص کو اس حالت میں دیکھا کہ لوگ اس پر سایہ کیے ہوئے تھے ۔ وہ روزے کی وجہ سے بدحال تھا اور وہ مسافر بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ روزےسے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ" (بخاری)

’’سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کاکام نہیں ہے۔‘‘

سفر اگر پر مشقت نہ ہو اور روزہ رکھنے میں کوئی تکلیف نہ ہو تو روزہ رکھنا اور اس کی قضا کرنا دونوں ہی جائز ہے جیسا کہ میں نے اوپر تذکرہ کیا البتہ اس بارے میں علماء میں اختلاف ہے کہ ان دونوں صورتوں میں افضل صورت کون سی ہے؟ بعض نے روزہ رکھنے کو افضل قراردیا ہے جب کہ بعض نے روزہ توڑنے کو افضل قراردیا ہے عمر بن عبد العزیزی فرماتے ہیں کہ ان دونوں صورتوں میں جو سب سے آسان ہو وہی افضل ہے۔ روایت میں ہے کہ حمزہ بن عامر الاسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  سے دریافت کیا کہ میں اکثر سفر پر رہتا ہوں۔ بسااواقات رمضان میں بھی سفر کرتا ہوں۔ میں نوجوان ہوں اور بہ آسانی سفر میں روزہ رکھ سکتا ہوں۔ میرا روزہ رکھنا زیادہ افضل اور باعث اجر ہے یا روزہ قضا کرنا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"أَيَّ ذَلِكَ شِئْتَ يَا حَمْزَةُ " (ابو داود)

’’ان دونوں میں سے جو تم چاہوں اے حمزہ‘‘

یعنی جو تمھیں آسان لگے وہی کرو۔ وہی افضل ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے جواب دیا:

"هِيَ رُخْصَةٌ اَللَّهِ لَكَ, فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ, وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ " (نسائی)

’’یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمھارے لیے چھوٹ ہے جس نے اس چھوٹ سے فائدہ اٹھایا تو بہتر ہے اور جس نے روزہ رکھا تو کوئی حرج نہیں۔‘‘

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس آیت میں مسافر کے لیے روزے کی قضا کی اجازت دی ہے یا اس میں رخصت کی علت سفر بتائی ہے نہ کہ سفر کی مشقت ۔ اس آیت میں یہ نہیں بتایا کہ سفر میں مشقت ہو تو قضا کی رخصت ہے ورنہ نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے صرف سفر کی بنا پر ہمیں یہ رخصت عطا کی ہے اور ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس رخصت سے فائدہ اٹھائیں۔ خواہ مخواہ کی باریکیوں میں پڑ کر اس رخصت کو برباد نہ کریں۔جو لوگ اکثر سفر میں رہتے ہیں وہ یہ بات بہ خوبی سمجھتے ہیں کہ سفر بہ ذات خود تکلیف دہ ہوتا ہے چاہے گاڑی کا سفر ہو یا ہوائی جہاز کا۔ انسان کا اپنے وطن سےدور ہونا بہ ذات پریشانیوں کا سبب ہے کیونکہ اس کی روزمرہ کی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اور انسان نفسیاتی طور پر بے چین رہتا ہے کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سےہمیں صرف سفر کی بنا پر یہ رخصت عطا کی ہو۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی یوسف القرضاوی

روزہ اور صدقہ الفطر،جلد:1،صفحہ:186

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ