سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(68) روزے کی حالت میں ٹی وی دیکھنا

  • 23820
  • تاریخ اشاعت : 2017-12-13
  • مشاہدات : 303

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رمضان میں روزے دار کا ٹی وی دیکھنا شریعت کی نظر میں کیسا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ٹی وی ذرائع ابلاغ مثلاً: اخبارات و جرائد اور ریڈیو وغیرہ میں خیرو شر دونوں قسم کے پہلو ہوتے ہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ جو خیر ہو اس سے نفع حاصل کرنے کی کوشش کرے اور جو شر ہو اس سے اجتناب کرے۔ چاہے وہ روزے کی حالت میں ہو یا نہ ہو۔ لیکن روزے دار اور ماہ رمضان کی اہمیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس مہینے میں اپنے آپ کو شر سے محفوظ رکھنے اور خیر کی طرف سبقت لے جانے کا خاص اہتمام کرے۔

ٹی وی دیکھنا نفسہ نہ مطلقاً حرام ہے اور نہ مطلقاً حلال۔ اس کا حرام یا حلال ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کون سا پرو گرام دیکھ رہے ہیں؟ اگر یہ پرو گرام بھلی باتوں پر مشتمل ہو مثلاً کوئی دینی پروگرام ہو یا نیوز کا پرو گرام ہو یا کوئی مفید معلوماتی پرو گرام ہو تو اس کا دیکھنا بالکل جائز ہے۔ لیکن اگر فحش قسم کے پروگرام ہوں تو ان کا دیکھنا ناجائز ہے چاہے رمضان کا مہینہ ہو یا کوئی دوسرا مہینہ ، البتہ رمضان میں ان کا دیکھنا مزید باعث گناہ ہے۔ اسی طرح اگر ٹی وی دیکھنے میں اس قدر انہماک ہو کہ نماز وغیرہ سے غفلت ہو جاتی ہو تب بھی اس کا دیکھنا جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب شراب اور جوئی کو حرام قراردیا تو اس کی حرمت کی علت یہ بتائی کہ یہ دونوں چیزیں انسانوں کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیتی ہیں۔ اللہ فرماتا ہے۔

﴿إِنَّما يُريدُ الشَّيطـٰنُ أَن يوقِعَ بَينَكُمُ العَد‌ٰوَةَ وَالبَغضاءَ فِى الخَمرِ وَالمَيسِرِ وَيَصُدَّكُم عَن ذِكرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلو‌ٰةِ فَهَل أَنتُم مُنتَهونَ ﴿٩١﴾... سورة المائدة

’’شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمھارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمھیں خدا کی یاد اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے؟‘‘

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی یوسف القرضاوی

روزہ اور صدقہ الفطر،جلد:1،صفحہ:178

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ