سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(11) قرآن کی مختلف قراءتیں

  • 23763
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-23
  • مشاہدات : 1111

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں مسجد میں جماعت کے انتظار میں بیٹھا تھا۔میں نے تھوڑے سے وقت کو غنیمت جانا اور قرآن کی تلاوت میں مشغول ہوگیا۔میں جب سورہ اور روم کی اس آیت پر پہنچا:

﴿اللَّهُ الَّذى خَلَقَكُم مِن ضَعفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعدِ ضَعفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعدِ قُوَّةٍ ضَعفًا وَشَيبَةً ...﴿٥٤﴾... سورة الروم

’’اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی۔پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی۔پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا‘‘

تو میں لفظ’’ضعف‘‘ کی ضاد پر ضمہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا۔کہیں یہ طباعت کی غلطی تو نہیں؟چونکہ قرآن کا یہ نسخہ ہندوستان میں شائع ہواتھا اس لیے میرے شک کو تقویت ملتی تھی۔وہ نسخے جو عرب ملکوں میں شائع ہوتے ہیں ان میں لفظ"ضعف" کی ضاد پر فتحہ ہے نہ کہ ضمہ۔قرآن توایک ایسی کتاب ہے جس میں کسی  تحریف وتبدیلی کا امکان نہیں کیوں کہ اس کی حفاظت خود اللہ نے اپنے ذمے لے رکھی ہے۔پھر آخر ان دونوں نسخوں میں اختلاف کیوں ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سب سے پہلے تو میں اپنے دینی بھائی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہیں کتاب اللہ سے غایت درجہ عقیدت اور شوق تلاوت ہے یہ بات بھی قابل تحسین ہے کہ انہوں نے لا علمی کے موقع پر فوراً اہل علم کی طرف رجوع کیا تاکہ ان کا شک دور ہو۔یہی ہر مسلمان کا شیوہ ہونا چاہیے۔

میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ جس بات نے آپ کو حیرت زدہ کررکھا ہے وہ طباعت کی غلطی ہرگز نہیں ہے۔اس آیت کریمہ میں دونوں قرآتیں صحیح ہیں یعنی لفظ ضعف میں ضاد کو فتحہ کے ساتھ بھی پڑھا جاسکتا ہے اور ضمہ کے ساتھ بھی۔قرآن کی سات مشہور قرآتوں میں سے  پانچ قرآتوں کے مطابق حرف ضاد پر ضمہ ہے اور بقیہ دو یعنی عاصم اور حمزۃ نے اسے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔قرآء کہتے ہیں کہ قریش کی زبان میں یہ لفظ ضمہ کے ساتھ ہے اور بنو تمیم کی زبان میں فتحہ کے ساتھ۔(1)

عرب ممالک میں عاصم کی قرآت زیادہ مشہور ہے اور اسی پر عمل ہے اور جہاں تک مجھے معلوم ہے ہندوپاک میں بھی عاصم ہی کی قرآت پر عمل ہے۔اس اعتبار سے قرآن کا وہ نسخہ جس کی طباعت ہندوستان میں ہوئی ہے اس میں لفظ ضعف کو فتحہ کے ساتھ ہونا چاہیے۔لیکن وہ نسخہ جو آ پ کے ہاتھوں میں ہے اس میں لفظ ضعف ضمہ کے ساتھ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حفص نے جو کہ عاصم کے شاگرد ہیں اسے ضمہ کے ساتھ ہی  پڑھا ہے۔ابن الجزری کہتے ہیں کہ حفص سے دونوں قرآتیں منقول ہیں۔(2)۔حفص نے ضمہ والی قرآت کو  ترجیح ایک مرفوع حدیث کی بنیاد پر دی ہے۔حدیث کا مفہوم یوں ہے کہ عطیہ عوفی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے سامنے لفظ ضعف کو فتحہ کے ساتھ پڑھا۔توا نہوں نے مجھے ٹوکا اور اسے ضمہ کے ساتھ پڑھنے کی ہدایت کی۔مزید فرمایا کہ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے اسے فتحہ کے ساتھ پڑھا تھا تو انہوں نے بھی مجھے ٹوکاتھا اور ضمہ کے ساتھ پڑھنے کی ہدایت کی تھی۔(3)

تاہم اس حدیث کی سند ضعیف ہے کیوں کہ عطیہ عوفی کو علماء حدیث نے ضعیف قراردیاہے۔ہندوستانی نسخے میں ضمہ والی قرآت کی ترجیح کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قریش کی زبان میں یہ لفظ ضمہ کے ساتھ ہے۔عرب کی تمام زبانوں میں قریش کی زبان کو جو فضیلت حاصل ہے وہ سب پر عیاں ہے۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی یوسف القرضاوی

قرآنی آیات،جلد:1،صفحہ:48

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ