سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(17) خلع کے احکام

  • 23739
  • تاریخ اشاعت : 2017-11-29
  • مشاہدات : 2364

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

طلاق اور خلع کے احکام


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خلع یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو اس کے مطالبے کے سبب مخصوص الفاظ کے ذریعے سے الگ کردے۔ خلع کے لغوی معنی ہیں:"الگ کرنا اور اتار دینا"چونکہ عورت اپنی ذات کو لباس کی طرح خاوند سے الگ کر لیتی ہے۔ اس لیے اسے"خلع" کہا جاتا ہے۔ واضح رہے زوجین میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے بمنزلہ لباس کے ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ"

"وہ (بیویاں) تمھارا لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔"[1]

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ نکاح مرد اور عورت کو باہم جوڑتا ہے اور اچھے طریقے سے زندگی گزارنے کا سبب ہے(اور یہ محبت کی بنیاد ہے)جس سے ایک کنبے کی تشکیل ہوتی ہے اور ایک نئی نسل پروان چڑھتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

 "وَمِنْ آَيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً "

"اور(یہ بھی)اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور اس نے تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔"[2]

اگر نکاح کے بعد درج بالا مقاصد حاصل نہ ہوں اور باہمی محبت پیدا نہ ہو یا محبت و پیار قائم نہ رہے یا خاوند کی جانب سے محبت والفت کا اظہار نہ ہو۔ زوجین کی زندگی کے لمحات برے طریقے سے گزرتے ہوں اور اس کی اصلاح اور علاج بھی نہ ہو سکے تو خاوند کو چاہیے کہ اپنی بیوی کو اچھے طریقے سے چھوڑدے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ"

"پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔"[3]

ایک اورفرمان درج ذیل ہے۔

"وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلا مِنْ سَعَتِهِ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا"

"اور اگر میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کردے گا۔ اللہ وسعت والا حکمت والا ہے۔[4]

اگر خاوند کو اس سے محبت ہو لیکن بیوی کے دل میں خاوند کی محبت نہ ہو۔ وہ خاوند کی کسی اخلاقی کمزوری سے نالاں ہو یا اس کی شکل و صورت کو پسند نہ کرے یا اس کی کسی دینی کمزوری کے سبب اس سے نفرت کرے یا کسی وجہ سے اسے اندیشہ ہو کہ وہ خاوند کے حقوق ادا نہ کر کے اللہ تعالیٰ کے ہاں گناہ گار ہو گی تو ان حالات میں عورت کے لیے جائز ہے کہ اپنے خاوند سے کسی شے کے عوض معاہدہ کر کے فسخ نکاح کا مطالبہ کرے اور حاکم اس کے مطالبے کو تسلیم کر کے نکاح کو ختم کردے اور انھیں الگ کر دے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ"

"اگر تمھیں ڈر ہوکہ یہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت رہائی پانے کے لیے کچھ دے ڈالے اس میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔[5]

خلع کے جواز میں حکمت یہ ہے کہ بیوی خودکو خاوند سے اس طرح الگ کر لیتی ہے کہ اس میں رجوع کی گنجائش باقی نہیں رہتی یہ دونوں کی مشکل کا ایک عادلانہ حل ہے۔ خاوند کو چاہیے کہ اس صورت میں عورت کا مطالبہ تسلیم کر لے۔ اور اگر خاوند کو اس سے محبت ہے تو عورت کو چاہیے کہ صبر کرے اور اس سے خلع نہ لے۔

خلع مباح ہے بشرطیکہ درج بالا آیت میں مذکور سبب موجود ہو۔ یعنی خاوند اور بیوی کو خوف ہو کہ وہ نکاح میں منسلک رہنے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے۔ اگر یہ سبب موجود نہ ہو تو بیوی کی جانب سے خلع کا مطالبہ ناپسندیدہ ہے اور بعض علماء کے نزدیک ایسی حالت میں حرام ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے:

"أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّة"

"جس عورت نے اپنے خاوند سے بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔[6]  

شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں :"شریعت نے جس خلع کی اجازت دی وہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر کو کسی اہم وجہ سے ناپسند کرے اور اس سے اپنی ذات کو قیدی کی طرح فدیہ دے کر آزاد کروالے۔[7]

اگر خاوند بیوی سے محبت نہیں کرتا لیکن اس نے بیوی کو اس لیے اپنے ہاں روک رکھا ہے کہ عورت اکتا کر فدیہ دینا قبول کر لے تو وہ عنداللہ ظالم ہوگا اور اس پر حرام ہے کہ بیوی کو چھوڑنے کے عوض معاوضہ لے شرعاً یہ خلع درست نہ ہو گا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ"

"اور انھیں اس لیے روک نہ رکھو کہ جو(مہر )تم نے انھیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ لے لو۔"[8]

یعنی انھیں تکلیف نہ دو کہ وہ بعض یا سارا حق مہر واپس کردیں یا اپنا کوئی حق چھوڑ دیں البتہ اگر عورت کا فاحشہ ہونا ظاہر ہو جائے تو خاوند اپنا مہر واپس لینے کی خاطر ایسا کر سکتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

"إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ "

"ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کوئی کھلی برائی اور بے حیائی کریں۔[9]

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا یہی نقطہ نظر ہے۔

اسباب کے وقوع پذیر ہونے پر خلع کے جواز کی دلیل کتاب اللہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور اجماع ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔

"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ"

"اگر تمھیں ڈر ہوکہ یہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت رہائی پانے کے لیے کچھ دے ڈالے اس میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔[10]

سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے دلیل ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی بیوی سے متعلق وہ روایت ہے جو صحیح بخاری میں ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں آئی اور کہا:"اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں اپنے خاوند ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  میں کوئی دینی اور اخلاقی امور میں عیب نہیں نکالتی البتہ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں مسلمان ہو کر خاوند کی ناقدری کروں اور گناہ گار بنوں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْبَلْ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً"

"کیا تم اس کا باغ (جو اس نے مہر میں دیا تھا)واپس کرو گی؟اس نے کہا:جی ہاں!آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کے خاوند کو فرمایا کہ باغ واپس لے لو اور اسے ایک طلاق دے کر الگ کر دو۔"[11]

باقی رہا اجماع تو علامہ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا ہے:" ہمیں نہیں علم کہ کسی خلع کے جواز کی مخالفت کی ہو ۔سوائے "مزنی رحمۃ اللہ علیہ  "کے ۔ ان کاخیال ہے کہ خلع کے جواز والی آیت اللہ کے فرمان :

"وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا ۚ "

"اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا چاہو اور ان میں سے کسی کو تم نے خزانہ بھر مال دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو۔"[12]کے ساتھ منسوخ ہے۔

خلع کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ مالی معاوضہ دیا جائے اور معاوضہ دینے والا ایسا ہو جس کے لیے مالی تصرف شرعاً درست ہو۔ اور خلع ایسے خاوند کی طرف سے ہو جس کا طلاق دینا صحیح ہو اور بیوی کو ناحق تنگ نہ کرے کہ وہ معاوضہ دے کہ خلع لینے پر مجبور نہ ہو جائے۔ اور خلع دینے کے لیے خلع کا لفظ استعمال کیا جائے۔

اگر خاوند نے صراحتاً طلاق کے الفاظ یا کنایتاً طلاق کے الفاظ نیت طلاق کے ساتھ استعمال کیے تو وہ طلاق ہو گی خلع نہیں جس میں اسے رجوع کا حق نہیں البتہ وہ عقد جدید کے ساتھ اسے دوبارہ نکاح میں لا سکتا ہے۔ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے کی کوئی شرط و پابندی نہیں بشرطیکہ اس نے پہلے دو طلاقیں نہ دی ہوں۔

اگر اس نے خلع فسخ نکاح یا فدیے کے الفاظ کہے اور طلاق کی نیت نہ کی تو نکاح فسخ ہو گا طلاق شمار نہ ہوگی اور اس سے طلاق کی گنتی میں کمی نہ ہو گی سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا یہی نقطہ نظر ہے۔ ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔

"الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ"

"طلاق رجعی دو مرتبہ ہے۔"[13]

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ "

" پھرجو وہ اپنی رہائی پانے کے لیے کچھ دے ڈالے اس میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔[14]

پھر آگے فرمایا:

"فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ"

"پھر اگر وہ اس کو(تیسری ) طلاق دے دے تو اب اس کے لیے وہ (عورت ) حلال نہیں جب تک کہ وہ اس کے سوا دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔[15]

یہاں اللہ تعالیٰ نے دوطلاقوں کا ذکر کر کے خلع کا بیان کیا پھر اس کے بعد طلاق کا ذکر کیا۔اگر خلع طلاق ہوتی تو آخری طلاق چوتھی طلاق قرار پاتی اور یہ درست نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔

طلاق کے احکام

طلاق کے لغوی معنی ہیں:"چھوڑنا آزاد کرنا"اور اسی سے ہے"طلقت الناقة"اونٹنی آزاد ہوگئی"یہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ جہاں چاہے چرے۔

اور شرعی معنی" نکاح کی گرہ کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر کھول دینے"کے ہیں۔

طلاق احوال و ظروف کے مختلف ہونے کے لحاظ سے کبھی مباح کبھی مکروہ ،کبھی مستحب ،کسی وقت واجب اور کسی وقت حرام ہوتی ہے۔ اس پر پانچوں احکام لاگوہوتے ہیں  جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ بیوی کا اخلاق برا ہو جو خاوند کے لیے نقصان کا باعث ہو۔ نیز نکاح قائم رکھنے سے مقصد نکاح  حاصل نہ ہو رہا ہو تو شوہر کے لیے طلاق دینا مباح ہے۔

2۔زوجین کے حالات درست ہوں طلاق دینے کی کوئی ضرورت ووجہ نہ ہو تو طلاق دینا مکروہ ہے۔ بعض آئمہ کے نزدیک ایسی صورت میں طلاق دینا حرام ہے۔ حدیث میں ہے۔

"أَبْغَضُ الْحَلالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الطَّلاقُ "

"اللہ عزوجل کے ہاں حلال اشیاء میں سے سب سے زیادہ ناپسندشے طلاق ہے۔"[16]

اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے طلاق کو حلال کہا ہے باوجود اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ ہے جس سے ثابت ہوا کہ اس حالت میں طلاق مباح ہونے کے باوجود مکروہ ہے۔ وجہ کراہت یہ ہے کہ طلاق کے سبب نکاح جو معاشرتی مصلح و فوائد پر مشتمل تھا ختم ہو گیا۔

3۔جب طلاق دینے کی ضرورت ہواور نکاح قائم رکھنے سے بیوی کو نقصان ہو رہا ہو۔ مثلاً: زوجین کے درمیان نزاع واختلاف پیدا ہو چکا ہو۔ عورت خاوند کو پسند نہ کرے تو اس صورت حال میں نکاح کو قائم رکھنا بیوی کے حق میں نقصان دہ ہے لہٰذا اسے طلاق دینا مستحب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے۔

"لا ضرر ولا ضرار"

"نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ نقصان پہنچاؤ۔"[17]

4۔اگر عورت دینی اعتبار سے کمزور ہو مثلاً :نماز کی تارک ہو یا نماز بلاوجہ اپنے وقت سے تاخیر سے ادا کرنے کی عادی ہو سمجھانے سے نہ سمجھے یا اپنی عزت کی حفاظت نہ کرے تو درست بات یہی ہے کہ ایسی صورت میں اسے طلاق دینا واجب ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں۔"جب بیوی زانیہ ہو تو ایسی صورت میں بیوی کو نکاح میں رکھنا جائز نہیں ورنہ اس صورت میں اسے اپنے ہاں رکھنے والا شخص دیوث ہے۔"[18]

اسی طرح اگر خاوند دینی لحاظ سے صحیح نہ ہو تو عورت پر واجب ہے کہ وہ طلاق کا مطالبہ کرے یا خلع کی صورت میں خود کو الگ کر لے اور ایسی حالت میں ہر گز اس کے ساتھ نہ رہے۔

اگر ایلاء کی صورت ہو یعنی خاوند ترک مجامعت پر قسم اٹھالے اور چار ماہ کا عرصہ بیت جانے کے بعد وہ ترک مجامعت پر مصر رہے اور قسم کا کفارہ نہ دے تو اس صورت میں شوہر کے لیے طلاق دینا واجب ہے ورنہ اسے طلاق دینے پر مجبور کیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (226) وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ"

"جو لوگ اپنی بیویوں سے(تعلق نہ رکھنے کی) قسمیں کھائیں ان کے لیے چار مہینے مدت ہے پھر اگر وہ لوٹ آئیں تو اللہ بھی بخشنے والا مہربان ہے اور اگر طلاق ہی کا قصد کر لیں تو اللہ سننے والا جاننے والاہے۔"[19]

5۔بیوی کو حالت حیض میں یا حالت نفاس میں یا جس طہر میں وطی کی گئی ہو اور حمل کی صورت حال واضح نہ ہو طلاق دینا حرام ہے۔ اسی طرح شوہر جب بیوی کو تین طلاقیں دے چکا تو پھر طلاق دینا حرام ہے۔ اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ ان شاء اللہ۔

طلاق کی مشروعیت کی دلیل کتاب اللہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور اجماع ہے۔

1۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ  "

"(رجعی) طلاقیں دو مرتبہ ہیں۔"[20]

اور ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ"

"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا تو ان کی عدت میں انھیں طلاق دو۔"[21]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:

"إِنَّمَا الطَّلاَقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ"

"طلاق وہی دے جس نے عورت سے نکاح کیا ہے۔[22]

طلاق کی مشروعیت پر اجماع کئی ایک اہل علم سے منقول ہے۔

طلاق کی مشروعیت میں حکمت ظاہر و باہر ہے۔ یہ دین اسلام کے محاسن اور خوبیوں میں سے ایک ہے کیونکہ طلاق بوقت ضرورت نکاح میں پیدا ہونے والی مشکلات کا حل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ "

"پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔"[23]

 نیز فرمایا:

"وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلا مِنْ سَعَتِهِ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا"

"اور اگر میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کردے گا۔ اللہ وسعت والا حکمت والا ہے۔[24]

اگر نکاح کو قائم رکھنے میں مصلحت نہ ہویا خاوند کے ساتھ رہنے میں بیوی کا نقصان ہو رہا ہو یا زوجین میں سے ایک دینی اور اخلاقی اعتبار سے نہایت کمزور ہو تو اس صورت میں طلاق دینا مشکل سے نکلنے کا حل اور بہترین طریقہ ہے۔

بہت سے معاشرے مشکلات سے اس لیے دو چار ہیں کہ وہ طلاق سے روکتے ہیں اسی وجہ سے وہ تباہی و بربادی ،خودکشی اور خاندانی بگاڑ جیسی مشکلات کا شکار ہیں۔ دین اسلام نے طلاق کو مباح قراردیا ہے اور اس کے لیے ایسے قواعد و ضوابط وضع کیے ہیں جن کی بدولت ایسے مصالح کا حصول اور مفاسد کا خاتمہ یقینی ہے جو جلد یا بدیر حاصل ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہم پر اپنا فضل واحسان فرمایا:

طلاق دینے کا مجاز خاوند ہے جو صاحب اختیار اور صاحب عقل ہو یا وہ شخص جسے یہ اپنا وکیل بنادے تو وہ طلاق دے سکتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

"إِنَّمَا الطَّلاَقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ"

"طلاق اسی کی طرف سے ہے جس نے عورت سے نکاح کیا ہے۔[25] 

جس شخص کی عقل زائل ہو چکی ہو اور اس بارے میں معذور ہو مثلاً دیوانہ بے ہوش سویا ہوایا کسی مرض کی وجہ سے اس کاشعور ختم ہو گیا ہو۔ مثلاً:برسام کا مرض یا جسے نشہ آور شے پینے پر مجبور کیا گیا ہو یا جس  نے دواکی خاطر بھنگ پی (اور عقل جاتی رہی) تو اگر یہ لوگ درج بالا اسباب کی وجہ سے طلاق  کا لفظ بیوی سے کہیں گے تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا قول ہے۔

"وَكُلُّ الطَّلَاقِ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ"

"غیر عاقل کے علاوہ ہر ایک کی طلاق جائز (درست) ہے۔[26]

اس کی وجہ یہ ہے کہ احکام کا دارومدار عقل پر ہے۔ واللہ اعلم۔

اگر اپنی مرضی اور اختیار سے نشہ آور اشیاء استعمال کرنے کی وجہ سے کسی شخص کی عقل جاتی رہی تو اگر ایسے شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو اہل علم میں اختلاف ہے کہ طلاق مؤثر ہوگی یا نہیں؟ ایک قول کے مطابق طلاق واقع ہو جائے گی۔ آئمہ اربعہ کے علاوہ اہل علم کی ایک جماعت کی یہی رائے ہے۔

اگر کسی کو ڈرادھمکا کر طلاق دینے پر مجبور کیاگیا اور اس نے جبر و ظلم کے خوف سے بیوی کو طلاق دے دی تو اس کی طلاق واقع اور مؤثر نہ ہو گی کیونکہ حدیث میں ہے۔

"لَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ"

"جبرواکراہ میں نہ طلاق ہے نہ آزادی۔"[27]

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإيمَانِ "

"جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے سوائے اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر (مطمئن و) برقرار ہو۔"[28]

واضح رہے کفر طلاق سے کہیں بڑھ کر ہے۔جب جبرواکراہ میں کفر کی معافی ہے اور شمار میں نہیں آتا تو طلاق الاولیٰ معاف ہے اور شمار نہ ہوگی البتہ جن صورتوں میں طلاق دینے پر مجبور کرنا جائز ہے ان صورتوں میں جبری طلاق دینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔

اگر غصے کی کیفیت یہ ہو کہ آدمی کو اپنی بات سمجھ میں آتی ہوتو غصہ کی اس حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جائے گی۔ اگر غصہ اس قدر شدید ہے کہ اسے علم ہی نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو اس حالت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

مذاق میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے کیونکہ طلاق بولنے میں اس کا قصدوارادہ شامل ہے اگرچہ وقوع طلاق کا ارادہ نہ تھا واللہ اعلم۔

مسنون اور غیر مسنون طلاق

مسنون طلاق سے مراد ایسی طلاق ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے احکام کو مد نظر رکھ کر دی جائے۔

اس کی صورت یہ ہے کہ صرف ایک طلاق دی جائے اور وہ بھی ایسے طہر میں جس میں بیوی سے مجامعت نہ کی ہو۔ پھر اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائے۔حتی کہ عدت تمام ہوجائے ۔ یہ طلاق عدت کے اعتبار سے"طلاق مسنون "ہے کہ ایک ہی طلاق دی گئی یہاں تک کہ عدت پوری ہوگئی نیز وقت کے اعتبار سے "مسنون"ہے کہ خاوند نے اسے ایسے طہر میں طلاق دی جس میں مجامعت نہ کی تھی ۔

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ"

"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت میں انھیں طلاق دو۔"[29]

سیدناابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے "لِعِدَّتِهِنَّ" کا مفہوم یوں بیان کیا:"وہ حالت طہر میں ہوں اور جماع نہ کیا گیا ہو۔"[30]

سیدنا علی بن ابی طالب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں:"اگر لوگ طلاق کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل پیرا ہوں تو مرد کبھی عورت کے پیچھے پیچھے نہ پھر ے۔ اسے چاہیے کہ صرف ایک طلاق دے پھر اسے تین حیض تک چھوڑدے اگر چاہے تو دوران عدت میں اس سے رجوع کر لے۔"[31]اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے والے کو موقع دیا ہے کہ اگروہ طلاق دے کر نادم ہے تو بیوی سے رجوع کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ تیسری طلاق نہ ہواور عدت کا دورانیہ ہو۔ اگر طلاق کا عدد مکمل ہو گیا یعنی تیسری طلاق دےدی تو اس نے اپنے آپ پر رجوع کا دروازہ بند کر لیا۔

غیر مسنون طلاق دینے سے مراد ایسی طلاق ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے حکم کی مخالفت کرتے ہوئے دی جائے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی ایک ہی مجلس میں یکبار تین طلاقیں کہہ دے یا بیوی کو اس وقت طلاق دے جب وہ حالت حیض یا نفاس میں ہو یا ایسے طہر میں طلاق دے جس میں اس نے مجامعت کی ہو اور حمل کی کیفیت واضح نہ ہو۔طلاق کی پہلی صورت عدد کے اعتبار سے"غیر مسنون " ہے دوسری اور تیسری صورت وقت کے اعتبار سے"غیر مسنون "کہلاتی ہے۔

عدد کے اعتبار سے غیر مسنون طلاق مؤثر ہو جاتی ہے۔[32]عورت مرد پر حرام ہو جاتی ہے الایہ کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ"

"پھر اگر وہ اس کو(تیسری )طلاق دے دے تو اب اس کے لیے وہ (عورت ) حلال نہیں جب تک کہ وہ اس کے سوا دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔[33]

2۔وقت کے اعتبار سے غیر مسنون طلاق میں خاوند کے لیے مستحب امر رجوع کرنا ہے۔ حدیث میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ حالت حیض میں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے انھیں رجوع کرنے کا حکم دیا۔[34]

واضح رہے رجوع کے بعد لازم ہے کہ اسے اپنے ہاں روک لے حتی کہ حیض سے پاک ہو جائے پھر اگر چاہے تو حالت طہر میں جماع کیے بغیر اسے طلاق دے دے۔

شوہر پر حرام ہے کہ وہ غیر مسنون طلاق دے وہ عدد کے اعتبار سے ہو یا وقت کے اعتبار سے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

"الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ  فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ"

"یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں۔پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔"[35]

نیز ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ"

"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا تو ان کی عدت میں انھیں طلاق دو۔"[36]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو خبر ملی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو یکبار تین طلاقیں دے دی ہیں تو آپ نے فرمایا:

"أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟"

"تعجب ہے! میرے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے(مذاق کرکے) کھیلا جا رہا ہے۔"[37]

سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے پاس جب کوئی ایسا شخص لایا جاتا جس نے یکبار تین طلاقیں دی ہوتیں تو آپ اس کی پٹائی کرتے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاں ذکر ہوا کہ ابن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  غصہ میں آگئے اور انھیں رجوع کرنے کا حکم دیا۔

یہ تمام واقعات اور روایات اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ ہمیں چاہیے کہ طلاق کے احکام کی پاسداری کریں اور طلاق کی حرام صورتوں سے اجتناب کریں۔ سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر لوگ ان احکامات کو نہیں سمجھتے یا ان کا خیال نہیں رکھتے جس کے نتیجے میں ہو مشکل اور ندامت سے دو چار ہوتے ہیں پھر اس بھنورسے نکلنے کی راہیں ڈھونڈتے ہیں خود بھی تنگ و پریشان ہوتے ہیں اور علماء کو بھی تنگ کرتے ہیں اور یہ ساری صورت حال اللہ تعالیٰ کی کتاب سے کھیلنے کا نتیجہ ہے۔

بعض لوگ طلاق کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں یعنی جب بیوی سے کوئی اہم کام کروانا یا کوئی خاص فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں یا اسے کسی کام سے روکنا چاہتے ہیں تو طلاق کی دھمکی دے کر اپنا مقصد پورا کرتے ہیں۔ بعض لوگ دوسروں سے معاملہ کرتے وقت یا گفتگو میں طلاق کو قسم کی جگہ استعمال کرتے ہیں مثلاً:اگر میں فلاں کام نہ کر سکوں یا میں نے فلاں کام کیا تو میری بیوی کو طلاق۔ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اپنی زبانوں کو طلاق کا کلمہ استعمال کرنے سے بچانا چاہیے الایہ کہ اس کی کوئی خاص ضرورت ہو لیکن اس میں بھی وقت اور عدد ضرور ملحوظ رکھا جائے۔

الفاظ طلاق دو قسم کے ہیں۔

1۔واضح اور صریح الفاظ یعنی ایسے الفاظ استعمال کرنا جن میں طلاق کے سوا کسی دوسرے معنی کا احتمال نہیں ہوتا جیسے"طلاق"کا لفظ بولنا مثلاً:کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے:" میں نے تجھے طلاق دی"یا" تو طلاق والی ہے"یا"تجھے طلاق دے دی گئی ہے۔"

2۔اشارے کنایے کے الفاظ یعنی ایسے الفاظ استعمال کرنا جن میں طلاق کے علاوہ کسی دوسرے معنی کا احتمال بھی ہو۔ مثلاً:کوئی اپنی بیوی سے کہے:"تو الگ ہے"یا"تو بری ہے"یا"تو جدا ہے،آزاد ہے"یا"یہاں سے نکل جا اور اپنے گھر والوں کے ہاں چلی جا"یا"میں نے تجھے چھوڑ دیا۔"[38] وغیرہ۔

طلاق کے موقع پر واضح الفاظ اور اشارے کے الفاظ کے استعمال میں فرق ہے کہ واضح الفاظ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے اگرچہ بولنے والے کی نیت شامل نہ بھی ہو۔ اس نے سنجیدگی میں کہا ہو یا مذاق میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے۔

" ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ : النِّكَاحُ ، وَالطَّلَاقُ ، وَالرَّجْعَةُ "

"تین باتیں پکی ہو جاتی ہیں وہ سنجیدگی میں کہی جائیں یا مذاق میں: نکاح طلاق اور رجوع کرنا۔"[39]

باقی رہے اشارے کنایے کے الفاظ تو ان کے استعمال سے طلاق واقع نہیں ہوتی الایہ کہ اس میں نیت شامل ہو کیونکہ یہ الفاظ طلاق کے علاوہ دوسرے(ظاہری) معنی کا بھی احتمال رکھتے ہیں لہٰذا طلاق کی تعیین نیت کے بغیر نہ ہو گی۔ یعنی اگر نیت طلاق میں شامل نہیں ہو گی تو طلاق واقع نہ ہوگی البتہ تین حالات میں طلاق شمار ہو جاتی ہے ان میں نیت کا اعتبار نہ ہو گا۔

1۔شوہر نے طلاق میں کنایے کا لفظ اس وقت استعمال کیا جب ان کے اور اس کی بیوی کے درمیان جھگڑا ہو رہا تھا ۔

2۔شوہر نے غصے کی حالت میں کنایے کا لفظ استعمال کیا۔

3۔جب بیوی نے طلاق مانگی اور مرد نے طلاق دیتے وقت کنایے کا استعمال کیا۔ ان حالات میں اشارے کنایے کے الفاظ سے بھی طلاق واقع ہوجائے گی اگرچہ طلاق دینے والا کہے:"میری نیت طلاق دینے کی نہ تھی۔" کیونکہ قرینہ(صورت حال) اس کی نیت پر دلیل ہے لہٰذا اس کے دعوے کو سچ نہ سمجھا جائے گا۔واللہ اعلم)

شوہر طلاق دینے کے لیے کسی کو اپنا وکیل (نائب )بنالے تو بھی جائز ہے۔ وکیل اجنبی شخص ہو یا خود اس کی بیوی یعنی بیوی کی طلاق کا معاملہ اس کے ہاتھ اور اختیار میں دے دے۔ وکیل صریح کنایہ اور عدد میں اپنے مؤکل کا نائب ہوگا الایہ کہ مؤکل وکیل کے لیے کوئی تعیین یا حد بندی کر دے۔

طلاق دینے والا خود شوہر ہو یا اس کا وکیل اس کے لیے ضروری ہے کہ زبان سے بولے اور آواز نکالے محض دل کی نیت سے طلاق واقع نہ ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے۔

"إن الله تجاوز عن أمتي ما حدثت به أنفسها ما لم تعمل أو تتكلم"

"اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان امور میں درگزر کیا ہے جو دل میں خیالات کی صورت میں ہوں جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے یا انھیں زبان پر نہ لایا جائے۔"[40]

لہٰذا ثابت ہوا کہ طلاق تب واقع ہوگی جب زبان کو حرکت میں لا کر الفاظ بآوازبولے جائیں مگر دو حالتوں میں زبان استعمال کیے بغیر طلاق واقع ہو جائے گی۔

1۔جب صریح کلمات کے ساتھ طلاق لکھ دی جائے اور اسے واضح طور پر پڑھا جا سکے اور نیت بھی شامل ہو تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ اور اگر نیت شامل نہ ہو تو اس میں علماء کے دو قول ہیں۔ اکثریت کی رائے کے مطابق طلاق واقع ہو جائے گی۔

2۔ طلاق دینے والا شخص گونگا ہو لیکن اس کا اشارہ وضاحت کر رہا ہو کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے رہا ہے۔

عورت کو کتنی طلاقیں دی جا سکتی ہیں؟ اس کا دارومدار مرد کی حالت پر ہے کہ وہ آزاد ہے یا غلام کیونکہ اللہ تعالیٰ نے طلاق کے سلسلے میں مردوں ہی سے خطاب فرمایا ہے چنانچہ ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ"

"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا تو ان کی عدت میں انھیں طلاق دو۔"[41]

اور فرمایا:

"وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ "

"جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت ختم کرنے پر آئیں۔[42]

نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

"إِنَّمَا الطَّلاَقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ"

 "طلاق اسی کی طرف سے ہے جس نے عورت سے نکاح کیا ہے۔[43]

آزاد شخص تین طلاقیں دینے کا مالک ہے اگرچہ اس کے تحت لونڈی ہی ہو اور غلام دو طلاقوں کا مالک ہے اگرچہ اس کی بیوی آزاد ہی کیوں نہ ہو۔ اگر زوجین دونوں آزاد ہوں تو بالا اتفاق خاوند تین طلاقیں دینے کا مالک ہے اوراگر دونوں غلام اور لونڈی ہوں تو شوہر بلا اختلاف دو طلاقوں کا اختیار رکھتا ہے۔

کلمہ طلاق میں استثناء جائز ہے۔ اس کاتعلق طلاقوں کی تعداد سے ہو مثلاً: کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے:" تمھیں تین طلاقیں ہیں مگر ایک کم یا "مطلقات"کی تعداد سے تعلق ہو۔ مثلاً: کوئی کہے:"میری تمام بیویوں کو طلاق سوائے فاطمہ کے۔ استثنا کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مستثنیٰ منہ سے نصف یا اس سے کم ہو جیسا کہ اوپر مثال میں بیان ہو چکا ہے اگر مستثنیٰ منہ کے نصف سے زائد ہو تو جملہ مؤثر نہ ہو گا مثلاً: کوئی کہے:" تمھیں تین طلاقیں مگر دو کم ۔

استثنا کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ وہ دل میں نہ ہو بلکہ الفاظ کی صورت میں ذکر ہو لہٰذا اگر کسی نے کہا:"تمھیں طلاقیں اور دل میں کہا مگر ایک"تو اس کی بیوی کو تین طلاقیں ہی ہوں گی۔[44]یہاں دل کی نیت کا اعتبار کرتے ہوئے الفاظ کا حکم ساقط نہ ہو گا کیونکہ الفاظ کا اعتبار دل کی نیت سے قوی ترہے۔البتہ نیت کے ذریعے سے عورتوں کا استثنا جائز ہے۔ اگر کسی نے کہ:"میری بیویاں طلاق والی ہیں۔"اور دل میں ایک بیوی کو مستثنیٰ کر لیا تو درست ہے لہذا جسے دل میں مستثنیٰ کیا اسے طلاق نہ ہو گی کیونکہ بیویوں کا اطلاق سب پر بھی ہوتا ہے اور بعض پر بھی ۔لہٰذا نیت کا اعتبار ہو گا۔

طلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کرنا جائز ہے مثلاً: کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے:" اگر تو فلاں گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق:"لہٰذا جب وہ مقرر ہ گھر میں داخل ہوگی تو وہ مطلقہ ہو جائے گی۔

طلاق میں مرد کی شرط تب معتبر ہوگی جب اس کی حیثیت خاوند کی ہو۔ اس نے کہا: اگر میں فلاں عورت سے شادی کروں تو اسے طلاق ۔" پھر اس نے اس سے شادی کر لی تو طلاق واقع نہ ہو گی کیونکہ شرط لگاتے وقت وہ شخص اس کا خاوند نہ تھا۔ حدیث میں ہے۔

"لاَ نَذْرَ لاِبْنِ آدَمَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَلاَ عِتْقَ لَهُ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَلاَ طَلاَقَ لَهُ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ"

"ابن آدم کے لیے اس امر میں نذر درست نہ ہو گی جس کا وہ مالک نہیں نہ اس کی آزا ی ہوگی جس کا وہ مالک نہیں اور نہ اسے طلاق ہی ہوگی جس کا وہ مالک نہیں۔[45] 

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ "

"اے مومنو!جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو۔ پھر تم انھیں طلاق دے دو۔"[46]

آیت اور حدیث وضاحت کرتی ہے کہ اجنبی عورت کو طلاق نہیں ہوتی۔جب وہ غیر مشروط طور پر کہی جائے اس پر علماء کا اجماع ہے اگراجنبی عورت کے لیے مشروط طور پر طلاق کا لفظ بولا جائے تو اکثر کے نزدیک یہ طلاق بھی نہیں ہوتی۔

جب کسی نے طلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط قراردیا تو وجود شرط سے قبل طلاق نہ ہو گی۔ جب طلاق میں شک ہواور یہ شک طلاق کا لفظ بولنے کے بارے میں ہو یا تعداد طلاق میں شک ہو یا حصول شرط میں شک ہو تو اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

1۔اگر اسے اس کے بارے میں شک ہو کہ اس نے طلاق کا لفظ بولا ہے یا نہیں تو محض شک سے طلاق نہ ہو گی کیونکہ نکاح یقینی تھا اور یہ یقین شک سے ختم نہیں ہوتا۔

2۔اگر طلاق میں لگائی ہوئی شرط کے حصول میں شک ہو مثلاً:وہ کہے:"اگر تو فلاں گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے۔"پھر اسے شک ہوا کہ عورت اس گھر میں داخل ہوئی ہے یا نہیں تو عورت کو طلاق نہیں ہو گی ۔ اس کی دلیل بھی وہی ہے جو پہلے ذکر ہوئی۔

3۔اگر طلاق کا یقین ہو لیکن اس کی تعداد میں شک ہو تو ایک طلاق واقع ہوگی کیونکہ ایک طلاق کا وقوع یقینی امر ہے اور زیادہ کا ہونا مشکوک ہے یقین شک سے ختم نہیں ہوتا۔یہ قاعدہ عامہ ہے جو تمام احکام شرعیہ میں فائدہ دیتا ہے۔اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اس حدیث سے ماخوذ ہے۔

"تدع ما يريبك إلى مالا يريبك"

"جو چیز تمھیں شک و شبہے میں دالے اسے چھوڑ کروہ اختیار کرو جو شک و شبہے میں نہ ڈالے۔[47]

علاوہ ازیں جس نے یقینی طور پر طہارت حاصل کی پھر اسے نقض طہارت میں شک ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کے بارے میں فرمایا:

"لا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا "

"وہ واپس نہ پلٹے حتی کہ وہ آواز سن لے یا بو محسوس کرے۔"[48]

اس مضمون کی اور روایات بھی ہیں۔

یہ جملہ احکام شریعت اسلامیہ کی بہتری اور اس کے کمال پر دلالت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہمیں یہ نعمت عظمیٰ عطا کی۔

رجوع کا بیان

جس عورت کو ایک یا دو طلاقیں ہوں ،دوران عدت میں (نکاح کے بغیر )اس سےازدواجی تعلقات بحال کرنے کو رجوع کہتے ہیں۔

رجوع کی دلیل کتاب اللہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور اجماع امت ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔

"وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ۚ "

"ان کے خاوند اس مدت میں انھیں لوٹا لینے کے(پورے)حقدار ہیں اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو۔"[49]

نیز ارشاد ہے:

"الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ  فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ"

"یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں۔پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔"[50]

اور فرمان الٰہی ہے:

"فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ "

"پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انھیں یا تو قاعدے کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انھیں الگ کر دو۔"[51]

سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  میں اس کی دلیل سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا وہ قصہ ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کے بارے میں فرمایا تھا:

"مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا"

"اسے کہو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرے۔"[52]

علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کو طلاق دے دی تھی پھر آپ نے ان سے رجوع کیا تھا۔[53]

باقی رہا اجماع تو ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"اہل علم کا اس امر پر اجماع ہے کہ جب آزاد شخص تین سے کم اور غلام دو سے کم طلاقیں دے تو انھیں دوران عدت میں رجوع کا حق حاصل ہے۔"

خاوند کو رجوع کے لیے فرصت دینے میں یہ حکمت ہے کہ اگر وہ طلاق دینے کے بعد شرمندہ ہے اور بیوی کو از سر نو آباد کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنے آگے بحالی تعلقات کا دروازہ کھلا پائے اور رجوع کر کے اپنا گھر پھر سے آباد کر لے۔ یہ سراسر رحمت باری تعالیٰ کا ایک حصہ ہے۔

رجوع کے درست ہونے کی شرائط درج ذیل ہیں۔

1۔طلاقوں کی تعداد اس سے کم ہو جتنی طلاقیں دینے کا اسے اختیار ہے یعنی آزاد شخص نے تین طلاقوں سے کم طلاقیں دی ہوں۔اور اگر وہ غلام ہے تو اس نے دو طلاقوں سے کم دی ہوں۔ اگر آزاد نے بیوی کو تین اور غلام نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں تو ان کا حق رجوع ختم ہو گیا۔ پھر اس وقت تک بیوی کو نکاح میں لانا جائز نہیں جب تک کسی دوسرے مرد سے اس کی شادی نہ ہو۔

2۔مطلقہ عورت مدخولہ ہو۔ اگر قبل از دخول اسے طلاق دی گئی ہو تو اس کے لیے حق رجوع نہیں ہے کیونکہ اس میں عورت پر عدت نہیں۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا "

"اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو۔پھر تم انھیں ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمھارے لیے کوئی عدت نہیں جسے شمار کرو۔"[54]

3۔طلاق بلا معاوضہ ہو۔ اگر بیوی نے معاوضہ دے کر طلاق حاصل کی ہو تو خاوند کے لیے وہ حلال نہ ہو گی جب تک خاوند اس سے اس کی رضامندی سے دوبارہ نکاح نہ کرے کیونکہ اس عورت نے خاوند سے آزاد ہونے کے لیے فدیہ یا معاوضہ دیا ہے لہٰذا خاوند کو رجوع کا اختیار دینے سے عورت کا مقصد ختم ہو جاتا ہے۔

4۔نکاح صحیح طریقے سے ہوا ہو۔ اگر غیر شرعی نکاح کے بعد طلاق دی تو رجوع کا حق نہ ہوگا کیونکہ اس کے لیے یہ طلاق بائن ہوتی ہے۔

5۔رجوع عدت کے اندراندر ہو۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ"

"ان کے خاوند اس مدت میں انھیں لوٹا لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔"[55]

6۔رجوع کو کسی شرط کے ساتھ مشروط قراردینا درست نہیں۔ مثلاً: کوئی کہے:"جب فلاں مقصد حاصل ہوگا تو تجھ سے رجوع کر لوں گا۔"

کیا رجوع کے لیے یہ شرط ہے کہ زوجین کا ارادہ اصلاح کا ہو؟

بعض علماء کے نزدیک یہ شرط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ۚ "

"اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو۔"[56]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں :"رجوع کی اجازت اسی کو دی جائے گی جو اصلاح کا ارادہ کر کے بیوی کو اچھے طریقے سے رکھنا چاہتا ہو۔[57]

بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اصلاح احوال کا عزم شرط نہیں کیونکہ آیت اصلاح احوال کی طرف رغبت دلاتی ہے اور ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے سے روکتی ہے شرط عائد نہیں کرتی۔ ہمیں پہلی رائے درست معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔

رجوع کے لیے کوئی مخصوص کلمہ نہیں ہے بلکہ کوئی بھی ایسا کلمہ کہا جاسکتا ہے جو رجوع پر دلالت کرے مثلاً: میں نے بیوی سے رجوع کر لیا۔"یا" میں نے اس کو واپس لے لیا۔"یا"میں نے اسے اپنے ہاں روک لیا۔"وغیرہ اسی طرح رجوع کی نیت سے بیوی سے مجامعت کر لی تو صحیح قول کے مطابق اسے رجوع پر محمول کیا جائےگا۔

مناسب یہ ہے کہ بوقت رجوع کسی کو گواہ بنالیا جائے بلکہ بعض علماء کے نزدیک رجوع کے موقع پر کسی کو گواہ بنانا واجب ہے ۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ "

"اوراپنے میں سے دوعادل شخصوں کوگواہ مقرر کر لو۔[58]

امام احمد  رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک روایت اسی رائے کے حق میں ہے۔

شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"رجوع کے معاملے کو خفیہ رکھنا کسی حالت میں بھی درست نہیں ہے۔[59]

جس عورت کو رجعی طلاق ہو جب تک وہ عدت میں ہے طلاق دینے والے کی بیوی ہے۔ خاوند کے ذمے ہے کہ وہ اسے نان و نفقہ دے لباس و رہائش دے اور بیوی کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے خاوند کے گھر میں رہے اور خاوند کو مائل کرنے کے لیے زینت و زیبا ئش کا اہتمام کرے۔ طلاق رجعی کی عدت کے دوران میں زوجین میں سے کوئی ایک فوت ہو گیا تو دوسرا اس کا وارث ہو گا۔ دوران عدت میں دونوں اکٹھے سفر کر سکتے ہیں خلوت اختیارکرسکتے ہیں حتی کہ خاوند اس سے وطی بھی کر سکتا ہے۔(البتہ وطی کرنے کی صورت میں رجوع سمجھا جائے گا۔)

عدت ختم ہو جائے تو رجوع کا اختیار بھی ختم ہو جاتا ہے لہٰذا جب وہ تیسرے حیض سے پاک ہو جائے گی تو اب رجوع نہیں ہو سکے گا۔ البتہ اگر وہ تعلقات کی بحالی کے خواہش مند ہوں تو ولی اور دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح جدید ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مفہوم ہے:

"وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ"

"ان کے خاوند اس مدت میں انھیں لوٹا لینے کےزیادہ حقدار ہیں ۔[60]

اس آیت کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ عدت کے دوران میں خاوند رجوع کا اختیار رکھتا ہے۔ اگر وہ عدت سے فارغ ہو جائے تو خاوند کے لیے رجوع کرنا مباح نہیں الایہ کہ عقد جدید منعقد ہو۔ اگر شوہر دوران عدت شرعی طریقے سے رجوع کر لے تو اس کے بعد اسے باقی طلاقیں دینے کا اختیار ہے یعنی جس طلاق کے بعد رجوع کیا ہے وہ شمار ہو گی۔

اگر خاوند مکمل تین طلاقیں دے چکا ہے تو اب دونوں کے ازدواجی تعلقات قائم کرنے حرام ہیں الایہ کہ کوئی دوسرا شخص اس سے صحیح شرعی نکاح کرے(جو صرف حلالہ کے لیے نہ ہو)اور اس سے فطری راستے میں مجامعت کرے اور طلاق دے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ ۗ "

"اگر اس کو طلاق دے دے تو اب اس کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ عورت اس کے علاوہ دوسرے سے نکاح نہ کرے۔پھر اگر وہ( دوسرا خاوند)بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کر لینے میں کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے۔"[61]

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"دوسرے خاوند کے نکاح کرنے اور پھر وطی کر کے طلاق دینے کے بعد پہلے شوہر کے لیے اس کا حلال ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم احسان ہے۔ تورات کی شریعت کی روشنی میں پہلے شوہر کے پاس آنے کے لیے بیوی کا دوسرے آدمی سے شادی کرنا(پھر اس کا طلاق دینا) ہی کافی تھا وطی کی شرط نہ تھی اور انجیل کی شریعت میں طلاق سے مطلقاًروک دیا گیا ہے۔ ہماری شریعت اسلامیہ کامل شریعت ہے جس میں بندوں کی مصلحتوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو چار عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی۔ حسب منشا لونڈیاں رکھنے کی اجازت دی طلاق کا حق مرد کے پاس رکھا۔اگر وہ دوبارہ اس کی طرف میلان محسوس کرے تو رجوع کی گنجائش رکھی۔ البتہ تیسری طلاق کے بعد عورت سے دوبارہ ازدواجی تعلقات قائم کرنا ممکن نہیں سوائے اس صورت کے کہ کوئی دوسرا مرد اس عورت سے اپنی رضا و رغبت کے ساتھ نکاح کرے۔ یعنی یہ ضروری ہے کہ دوسرا آدمی واقعی رغبت کی بنا پر نکاح کرے۔اس غرض سے نکاح کا حیلہ اختیار نہ کرے۔ کہ طلاق دے کر پہلے مرد سے اس کا نکاح جائز کر دے۔ حیلے کے طور پر نکاح کرنے والے کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے"عاریتاً لیا ہواسانڈ"قراردیا ہے لہٰذا اس کا اس نیت سے کیا ہوا نکاح کالعدم ہے اور اس کے ساتھ عورت پہلے مرد کے لیے حلال نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم۔

ایلاء کے احکام

ایلاء کے لغوی معنی ہیں" قسم اٹھانا " جبکہ شرعی معنی ہیں" کوئی شخص قسم اٹھالے کہ وہ اپنی بیوی سے مجامعت نہیں کرے گا۔" فقہائے کرام نے ایلاء کی تعریف یوں کی ہے۔

"وطی کے قابل شوہر اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی صفت کی قسم اٹھائے کہ وہ ہمیشہ کے لیے یا چارماہ سے زیادہ عرصے تک اپنی بیوی سے قبل (شرمگاہ)کے راستے مجامعت نہیں کرے گا۔"

اس تعریف سے واضح ہوا کہ صحت ایلاء کے لیے ضروری ہے کہ اس میں درج ذیل پانچ شرائط موجود ہوں:

1۔ایلاء کرنے والا ایسا شخص ہو جو وطی کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔

2۔وہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی کسی صفت کی قسم ایلاء کے لیے اٹھائے طلاق آزادی یا نذر مقصد نہ ہو۔

3۔وہ قسم اٹھائے کہ بیوی سے قبل کے راستے جماع نہیں کرے گا۔

4۔وہ ترک جماع میں چار ماہ سے زائد عرصے کی قسم اٹھائے۔

5۔بیوی ایسی حالت میں ہو کہ اس سے وطی کرنا ممکن ہو۔

جب یہ پانچ شرائط مکمل ہوں گی تو وہ شرعاً "ایلاء" کرنے والا قرارپائے گا یعنی اس پر ایلاء کے احکام جاری ہوں گے۔ اگر ایک شرط بھی مقصود ہو تو اس کا ایلاء معتبر نہ ہو گا۔

ایلاء کی دلیل میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

"لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (226) وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ"

"جو لوگ اپنی بیویوں سے(تعلق نہ رکھنے کی) قسمیں کھائیں ان کے لیے چار مہینے کی مدت ہے پھر اگر وہ لوٹ آئیں تو اللہ بھی بخشنے والا مہربان ہے اور اگر طلاق ہی کا قصد کر لیں تو اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔"[62]

اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ترک مجامعت پر قسم اٹھاتے ہیں ان کے لیے چارماہ کی مہلت ہے۔ اگر وہ اس مدت تک اپنی بیویوں سے مجامعت کرلیں اور اپنی قسموں کا کفارہ ادا کر دیں تو ٹھیک ہے اور اللہ تعالیٰ انھیں معاف کرنے والا ہے اور اگر چار ماہ کی مدت گزر جائےاور وہ اپنی بیویوں سے ترک مجامعت پر بضدرہیں تو انھیں کسی پنچایت میں کھڑا کیا جائے اور بیویوں سے تعلقات بحال کرنے پر اور قسم کا کفارہ دینے پر آمادہ کیا جائے۔"[63] اگر وہ انکار کردیں تو عورت کے مطالبے پر انھیں طلاق دینے کا کہا جائے گا۔

اس آیت میں اس جاہلی قانون کا ابطال وارد ہے جس کے تحت شوہر بیوی کو تکلیف دینے کی خاطر ایک طویل عرصہ ایلاء کے ذریعے سے ازدواجی تعلقات منقطع کرلیتا تھا تب اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف پر مبنی شریعت اسلامیہ میں عورت کو نقصان و ظلم سے بچا لیا۔

اسلام میں (چار ماہ سے زیادہ )ایلاء حرام ہے کیونکہ اس کے ذریعے سے واجب کا ترک لازم آتا ہے۔

ایلاء ہر اس شوہر کی طرف سے منعقد ہو جاتا ہے جس کا طلاق دینا درست ہو۔ وہ مسلمان ہو یا کافر آزاد ہو یا غلام بالغ ہو یا کوئی سمجھ بوجھ رکھنے والا نا بالغ البتہ اس سے بعد از بلوغت بحالی تعلقات کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اسی طرح ایلاء کرنے والا حالت غصہ میں ہو یا ایسا مریض جسے شفا پانے کی امید ہے۔ حتی کہ ایلاء کا اطلاق اس عورت پر بھی ہو گا جس سے وطی نہیں کی گئی کیونکہ آیت کریمہ کے الفاظ میں عموم ہے۔

خاوند دیوانہ ہو یا بے ہوش اس حالت میں ایلاء کا حکم نافذ نہیں ہوتا کیونکہ اس کو اپنی باتوں کی سمجھ نہیں ہوتی اور اس کے لیے نیت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

اگر شوہر جماع کرنے سے عاجز ہے مثلاً: نامرد ہو یا اس کا عضو مخصوص کٹا ہوا ہو تو ایلاء منعقد نہ ہوگا کیونکہ اس صورت میں اس کا وطی نہ کرنا قسم کی وجہ سے نہیں ہے۔

اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ"اللہ تعالیٰ کی قسم! میں تجھ سے کبھی مجامعت نہ کروں گا یا چار ماہ سے زیادہ مدت تک کے لیے جماع نہ کرنے کی قسم اٹھالے یا جماع کرنے کے لیے کوئی ایسی شرط عائد کرے۔ جس کے حصول کی توقع چار ماہ تک نہ کی جا سکتی ہو۔ مثلاً: نزول عیسیٰ  علیہ السلام  کی شرط دجال کے نکلنے کی شرط تو ان صورتوں میں ایلاء کا حکم جاری ہو گا۔ اسی طرح اگر کسی نے اپنی بیوی پر ایسی شرط عائد کر دی جس کا کرنا حرام ہو یا اس کا چھوڑنا واجب ہو مثلاً:کوئی کہے:"اللہ کی قسم! میں تجھ سے اس وقت تک جماع نہیں کروں گا جب تک تو نماز چھوڑنہیں دیتی۔ یا شراب نہیں پیتی تو اس صورت میں شوہر کا ایلاء ہی ثابت ہوگا کیونکہ اس نے شرعاً ممنوع کام کی شرط لگائی ہے جو حسی ممنوع کے مشابہ ہے۔

ان مذکورہ احوال میں ایلاء کی مدت مقرر ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

"لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ "

"جو لوگ اپنی بیویوں سے (تعلق نہ رکھنے کی) قسمیں کھائیں ان کے لیے چار مہینے کی مدت ہے۔[64]

سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے انھوں نے فرمایا: چار ماہ سے زیادہ مدت کی قسم کھانے کی صورت میں جب چار ماہ گزر جائیں تو اس ایلاء کرنے والے کو کسی مجلس یا پنچایت میں کھڑا کر کے بیوی کو طلاق دینے کا کہا جائے گا واضح رہے طلاق دینے ہی سے طلاق واقع ہوگی محض ایلاء سے طلاق نہیں ہوتی۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں چودہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا یہی مسلک بیان کیا ہے۔جناب سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہ  کا کہنا ہے کہ میں دس سے زیادہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو ملا جو یہی نقطہ نظر رکھتے تھے کہ ایلاء کرنے والے کو مجلس میں کھڑا کیا جائے گا۔ جمہور علماء کا بھی یہی مسلک ہے جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہری مفہوم بھی یہی ہے۔

جب ایلاء کے چار ماہ گزر جائیں(واضح رہے کہ اس مدت میں وہ ایام شمار نہ ہوں گے جن میں عورت کو عذر لاحق ہو) تو:

1۔اگر اس نے اپنی وطی کر لی تو سمجھ لیا جائے گا کہ اس نے قسم سے رجوع کر لیا ہے کیونکہ جماع کرنا "رجوع" کا نام ہے۔ ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ  نے اس پر علماء کا اجماع بیان کیا ہے۔ اور آیت کے الفاظ "فَإِن فَاءُوا "میں فاء کے معنی ایسے کام کی طرف رجوع کرنے کے ہیں جسے ترک کر دیا گیا تھا۔ اور اس طرح عورت خاوند سے اپنا حق وصول کر لیتی ہے۔

2۔ اگر اس نے(عدت مذکورہ کے بعد ) بھی جماع کرنے سے انکار کر دیا تو حاکم یا قاضی اسے طلاق دینے کا حکم دے گا بشرطیکہ عورت مطالبہ کرے۔

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ "

 اور اگر طلاق ہی کا قصد کر لیں تو اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔"[65]

یعنی اگر خاوند رجوع نہ کرے بلکہ طلاق دینے کا عزم کر چکا ہو تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ اور اگر وہ رجوع نہ کرے اور طلاق بھی نہ دے تو اس کی طرف سے قاضی طلاق دے گا یا نکاح فسخ کردے گا کیونکہ طلاق نہ دینے کی شکل میں وہ ایلاء کرنے والے کے قائم مقام ہے۔ اور طلاق میں نیابت جائز ہے(لہٰذا قاضی ایلاء کرنے والے کی طرف سے طلاق دے سکتا ہے)

فقہائے کرام نے ایلاء کرنے والے کے ساتھ اس شخص کو بھی شامل کیا ہے جو کسی شرعی عذر کے بغیر اپنی بیوی کو محض تکلیف دینے کی خاطر جماع سے اجتناب کرتا ہے لیکن قسم کا لفظ نہیں بولتا۔

اسی طرح جو شخص اپنی بیوی سے"ظہار" کرتا ہے یعنی اسے اپنی ماں کہہ دیتا ہے اور پھر کفارہ ادا کر کے ازدواجی تعلقات بحال نہیں کرتا حتی کہ چار ماہ سے زائد کا عرصہ بیت گیا تو وہ بھی ایلاء کرنے والے کے حکم میں ہےواللہ اعلم۔

فقہائے کرام نے کہا ہے کہ اگر ایلاء کی مدت (چار ماہ ) گزر گئی اور زوجین میں سے کوئی ایک جماع کے عمل سے معذور ہے تو خاوند کو حکم دیا جائے گا کہ وہ فی الحال زبان سے رجوع کے کلمات کہے مثلاً: جب مجھے قدرت و طاقت ہوگی تو اس سے جماع کروں گا ۔" کیونکہ رجوع کا عزم اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اس نے بیوی کو تنگ کرنے کا ارادہ ختم کر دیا ہے۔ اس کے معذرت کر لینے سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے پھر جب اس کا عذر ختم ہو جائے اور جماع پر قدرت ہو تو جماع کر لے یا پھر طلاق دے دے کیونکہ جس سبب سے اس نے بحالی تعلقات میں تاخیر کی تھی اب وہ موجود نہیں رہا۔

ظہار کے احکام

  ظہار کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ازدواجی تعلقات منقطع کرنا چاہتا ہے تو اسے کہتا ہے:"تومجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہے۔"یا" میری بہن کی پشت کی طرح ہے"یا" کسی ایسی عورت کا نام لیتا ہے جس کے ساتھ نسب کے اعتبار سے یا رضاعت یا سسرالی رشتوں کے اعتبار سے نکاح کرنا حرام ہے۔[66]

ظہار کرنا حرام ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَائِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ ۖ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا"

"تم میں سے لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں دراصل وہ ان کی مائیں نہیں بن جاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے یقیناً یہ لوگ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔"[67]

اس آیت سے واضح ہوا کہ ظہار کرنے والا شخص فحش کلام کرتا ہے۔ جو شرعاً مناسب نہیں بلکہ اس کی بات محض جھوٹ حرام اور انتہائی بری ہے کیونکہ ظہار کرنے والا اپنی ذات پر ایک ایسی شے حرام کر رہا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار نہیں دیا اور اپنی بیوی کو ماں کی مثل قراردے رہا ہے۔ حالانکہ وہ ایسی نہیں۔

دور جاہلیت میں ظہار طلاق شمار ہوتی تھی۔ جب اسلام کا دور آیا تو اس نے ظہار کو غلط اور بری بات قرار دیا اور قسم کی طرح اس کا کفارہ مقرر کیا( بلکہ اس سے بھی سخت اور زیادہ کفارہ)خاوند بیوی دونوں کو حکم دیا کہ ان کے لیے اس وقت تک جماع اور ملاقات جماع حرام ہیں جب تک شوہر ظہار کا کفارہ ادا نہیں کر دیتا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَائِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ ۖ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا ۚ وَإِنَّ اللَّـهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ ﴿٢﴾ وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۚ ذَٰلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿٣﴾ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۖ فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ۚ ذَٰلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ "

"تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہارکرتے ہیں (یعنی انہیں ماں کہہ بیٹھتے ہیں) وه دراصل ان کی مائیں نہیں بن جاتیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وه پیدا ہوئے، یقیناً یہ لوگ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے (2) جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں تو ان کے ذمہ آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے، اس کے ذریعہ تم نصیحت کیے جاتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے (3) ہاں جو شخص نہ پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگاتار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ کی اور اس کے رسول کی حکم برداری کرو، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کرده حدیں ہیں اور کفار ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے "[68]

نیز ظہار کرنے والے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

" فَلَا تَقْرَبْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَكَ اللَّهُ بِهِ "

"تو اپنی بیوی کے قریب نہ جا حتی کہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ کفارہ ادا کر لے۔"[69]

اکثر اہل علم کا قول ہے کہ ظہار کرنے والے پر بیوی سے وطی کرنے سے قبل کفارہ ادا کرنا واجب ہے یعنی کفارہ ادا کرنے تک اس کی بیوی اس پر حرام رہے گی۔

ظہار کا کفارہ اس ترتیب سے واجب ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے یعنی ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا یا اس کی قیمت دینا اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا اگر بیماری وغیرہ کی وجہ سے ممکن نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۚ ذَٰلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿٣﴾ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۖ فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ۚ ذَٰلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ"

"جو لوگ اپنی بیویوں  سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں تو ان کے ذمہ آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے، اس کے ذریعہ تم نصیحت کیے جاتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے (3) ہاں جو شخص نہ پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگاتار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ کی اور اس کے رسول کی حکم برداری کرو، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کرده حدیں ہیں اور کفار ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے"[70]

"يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ "کے معنی ہیں:" کوئی آدمی اپنی بیوی سے کہے کہ تو مجھ پر میری ماں کی پسشت کی طرح حرام ہے یا اس جیسا کوئی کلمہ کہہ دے۔"اور" ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا "کے معنی ہیں:"جن عورتوں سے ظہار کر چکے ہیں پھر انھی سے جماع کا ارادہ کریں۔"اور "فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا"  کے معنی ہیں:" پھران پر واجب ہے کہ جماع سے قبل ایک گردن (غلام)آزاد کریں۔اگر ان کے پاس اپنے غلام ہیں یا خریدنے کی سکت ہے کہ کچھ مال زائد بچ بھی جائے اور غلام بھی خریدا جاسکے تو آزاد کریں۔

لونڈی یا غلام آزاد کرنا ہو تو اس کا صاحب ایمان ہونا شرط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفارہ قتل میں لونڈی یا غلام کے لیے مومن کی شرط رکھی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ"

"جو شخص کسی مومن کو بلا قصد مار ڈالے اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا ہے۔"[71]

لہٰذا ظہار کا کفارہ بھی اس پر قیاس کیا جائے گا۔ مطلق مقید پر محمول ہو گا نیز غلام یا لونڈی کا تندرست اور صحت مند ہونا بھی شرط ہے یعنی اس میں کسی قسم کا کوئی عیب نہ ہو جو اس کے کام کاج اور عمل کے لیے واضح طور پر رکاوٹ کا سبب ہو کیونکہ آزاد کرنے کا مقصد غلام یا لونڈی کو اپنے مفادات کا مالک بنانا ہے اور اپنی ذات میں اسے مکمل اختیار دینا ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب وہ تندرست ہوا اور جسمانی نقص وعیب سے سلامت ہو مثلاً اندھا ہونے یا ہاتھ پاؤں کے لحاظ سے معذور ہونے سے سلامت ہو۔

کفارہ ظہار میں روزے رکھنے کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ ۔

1۔ غلام یا لونڈی آزاد کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو۔

2۔وہ مسلسل روزے رکھے ناغہ نہ کرے الایہ کہ کوئی فرض روزہ آجائے مثلاً رمضان

کے روزے شروع ہو جائیں یا ایسا دن آجائے جس میں روزہ چھوڑنا واجب ہو۔ مثلاً عیدکا دن یا ایام تشریق کا آجانا کسی عذر کی بنا پر روزہ چھوڑانا مباح ہو مثلاً:سفر یا مرض ان ایام و احوال میں روزہ نہ رکھنے سے تسلسل میں خلل واقع نہ ہو گا۔

3۔کفارے کے روزے کی رات کو نیت کرے۔

اگر کھانا کھلانے کی صورت میں کفارہ دینا ہو تو اس کی درستی کے لیے درج ذیل شرائط ہیں:

1۔روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو۔

2۔جسے کھانا کھلایا جائے وہ مسکین ،مسلمان اور آزاد ہو جس کو زکوۃدینا درست ہو۔

3۔ہر مسکین کو جو کھانا دیا جائے گا اس کی مقدار ایک"مد"(نصف کلو) گندم یا کسی دوسری شے سے نصف"صاع"(ایک کلو) سے کم نہ ہو۔

کفارے کی درستی کے لیے نیت کا ہونا شرط ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے۔

"إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى"

"اعمال کادارومدارنیتوں پر ہے اور آدمی کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی اس نےنیت کی۔[72]

کفارہ ظہار میں ترتیب کی دلیل آیت مذکوہ کے علاوہ سنت مطہرہ میں سیدہ خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کا قصہ ہے۔ وہ فرماتی ہیں:

"ظاهر مني زوجي أوس بن الصامت فجئت رسول الله صلى الله عليه وسلم أشكو إليه ورسول الله صلى الله عليه وسلم يجادلني فيه ويقول اتقي الله فإنه ابن عمك فما برحت حتى نزل القرآن )قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها (إلى الفرض فقال يعتق رقبة قالت لا يجد قال فيصوم شهرين متتابعين قالت يا رسول الله إنه شيخ كبير ما به من صيام قال فليطعم ستين مسكينا قالت ما عنده من شيء يتصدق به قالت فأتي ساعتئذ بعرق من تمر قلت يا رسول الله فإني أعينه بعرق آخر قال قد أحسنت اذهبي فأطعمي بها عنه ستين مسكينا وارجعي إلى ابن عمك  "

"میرے خاوند اوس بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے مجھ سے ظہار کیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئی اور خاوند کی شکایت کی۔ میں آپ سے بحث و تکرار کرنے لگی تو آپ نے فرمایا:"خولہ !اللہ تعالیٰ سے ڈرو،وہ تو تیرے چچے کا بیٹا ہے"میں ابھی وہیں تھی کہ قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں۔"یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سنی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"تیرا خاوند ایک غلام آزاد کرے۔"حضرت خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے کہا کہ وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔"وہ کہنے لگیں اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  !وہ تو بہت بوڑھا ہے اس میں روزے رکھنے کی قوت کہاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :" وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔"وہ کہنے لگیں :اس کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ وہ فرماتی ہیں اسی دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لا یا گیا تو میں نے کہا:اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ًایک ٹوکرا میں بھی اسے دےدوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"بہت بہتر ہے۔ جاؤ اس کی جانب سے یہ ساٹھ مساکین کو کھلا دو اپنے چچے کے بیٹے (خاوند)سے کہو کہ وہ تجھ سے تعلقات بحال کرے۔"[73]

الحمدللہ!ہمارا دین ایک عظیم دین ہے جس میں ہر مشکل کا حل ہے۔ اسی طرح اس میں ازدواجی تعلقات کا حل بھی ہے جیسا کہ یہاں ظہار کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔

ظہار زمانہ جاہلیت میں بھی بہت بڑی مشکل اور مصیبت تھی جس کا نتیجہ زوجین کی جدائی اور خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں نکلتا تھا تو یہ دین کس قدر عظیم ہے!

علاوہ ازیں کفارے میں خاوند کی استعداد گنجائش بھی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ وہ غلام آزاد کرنے روزے رکھنے یا کھانا کھلانے میں سے جس کی طاقت رکھے اسے سرانجام دے۔الحمدلله علي ذلك

لعان کے احکام

اللہ تعالیٰ نے حرام قراردیا ہے کہ کوئی شخص کسی پاکدامن عورت یا مرد پر زنا کا الزام لگائے ۔نیز ایسا کرنے والےکو سخت سزا کا مستحق قراردیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿٢٣﴾ يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٢٤﴾ يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّـهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّـهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ"

"جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی باایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وه دنیا وآخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے (23) جب کہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے (24) اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ حق و انصاف کے ساتھ دے گا اور وه جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے (اور وہی)ظاہرکرنے والاہے "[74]

اللہ تعالیٰ نے تاکید کی ہے کہ زنا کی تہمت لگانے والا شخص اگر اپنے بیان کے حق میں چار گواہ پیش نہ کر سکے تو اسے اسی(80) کوڑے لگائے جائیں۔ علاوہ ازیں وہ شخص فاسق شمار ہو گا اور آئندہ اس کی گواہی بھی قبول نہ ہوگی الایہ کہ وہ توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿٤﴾ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ"

"جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواه نہ پیش کرسکیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ یہ فاسق لوگ ہیں (4) ہاں جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں تو اللہ تعالیٰ بخشنےوالا اور مہربانی کرنےوالاہے"[75]

یہ جملہ احکام اس صورت میں ہیں جب کوئی اپنی بیوں کے علاوہ کسی اور عورت پر تہمت لگائے اس صورت میں اس کے خلاف یہ سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔اگر وہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے گا تو اس کا حل اور علاج اور ہے۔جس کانام "لعان"ہے یعنی دونوں طرف سے پختہ قسمیں اٹھائی جائیں گی اور اس میں لعنت و غضب کے الفاظ کا استعمال بھی ہوگا جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

جب کوئی آدمی اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور اس پر کوئی شہادت پیش نہ کر سکے تو اگر دونوں لعان کے لیے تیار ہو جائیں تو کسی پر بھی حد جاری نہ ہو گی ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

"وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّـهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ﴿٦﴾ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّـهِ عَلَيْهِ إِن كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ﴿٧﴾ وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَن تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّـهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ ﴿٨﴾ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّـهِ عَلَيْهَا إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ "

"جولوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لائیں اور ان کا کوئی گواه بجز خود ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کاثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وه سچوں میں سے ہیں (6) اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وه جھوٹوں میں سے ہو (7) اور اس عورت سے سزا اس طرح دور ہوسکتی ہے کہ وه چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یقیناً اس کا مرد جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے (8) اور پانچویں دفعہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو اگر اس کا خاوند سچوں میں سے ہو" [76]  

خاوند چار مرتبہ کہے گا کہ میں اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ میری اس بیوی نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ واضح رہے کہ اگر بیوی سامنے ہو تو اس کی طرف اشارہ بھی کرے اور اگر وہ غیر حاضر ہو تو اس کا نام لے تاکہ امتیاز ہو جائے۔ مرد شہادت دیتے ہوئے پانچویں مرتبہ کہے ۔اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وہ اس دعوے میں جھوٹا ہو پھر اسی طرح اس کی بیوی چار مرتبہ قسم اٹھا کر کہے۔"میرے خاوند نے مجھ پر جو تہمت لگائی ہے اس میں وہ جھوٹا ہے پھر پانچویں مرتبہ کہے۔"اگر یہ سچ کہہ رہا ہو تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو۔

واضح رہے لعان میں عورت کے لیے"غضب "کا لفظ مقرر کیا گیا ہے کیونکہ مغضوب علیہ وہ شخص ہوتا ہے جو حق و سچ جانتا ہو لیکن اسے قبول نہ کرے۔

صحت لعان کے لیے یہ شرط ہے کہ زوجین مکلف ہوں یعنی عاقل و بالغ ہوں نیز تہمت بھی زنا کی لگائی گئی ہو اور عورت خاوند کی مسلسل تکذیب کر رہی ہو حتی کہ لعان کا عمل مکمل ہو جائے اور حاکم لعان کی تکمیل کا فیصلہ دےدے۔

جب درج بالا صورت اور شرائط کے ساتھ لعان کا عمل مکمل ہو جائے تو اس پر یہ احکام مرتب ہوں گے۔

1۔خاوند پر الزام تراشی کی حد نہیں لگے گی۔

2۔خاوند اور بیوی ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں گے یعنی ان کے لیے باہم ازدواجی تعلقات قائم رکھنے حرام ہو جائیں گے۔

3۔ اگر مرد نے لعان کے دوران میں عورت کے بچے کو اپنا ماننے سے انکار کر دیا تووہ بچہ اس مرد کی طرح منسوب نہ ہو گا۔

خاوند لعان کا عمل تب اختیار کرے گا جب وہ اپنی بیوی کو زنا کا مرتکب پائے لیکن اس کے پاس دلیل و شہادت نہ ہو جو عدالت میں پیش کر سکے یا اس کے پاس قوی قرائن و شواہد موجود ہوں جو عورت کے زانیہ ہونے کو ظاہر کرتے ہوں مثلاً:اس نے کسی بدکار مرد کو اپنی بیوی کے پاس آتے جاتے دیکھا ہو۔

لعان کا عمل اختیار کرنے میں یہ حکمت ہے کہ زانیہ بیوی کو اپنے ہاں رکھنا خاوند کے لیے باعث عارہے اور غیر کے بچے کا نسب اس کے ساتھ ملنے کا خطرہ ہے نیز اسے بیوی کے برا ہونے پر یقین ہے اگرچہ اس پر دلیل یا شہادت پیش نہیں کر سکتا اور وہ خود اپنے جرم کا اعتراف نہیں کر رہی بلکہ اپنے خاوند کو جھوٹا ثابت کر رہی ہے لہٰذا اب سخت قسموں کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تو شریعت نے اس موقع پر "لعان" کی صورت پیش کی ہے جو اس مشکل کا حل ہے اور خاوند کی الجھن کی سلجھن ہے۔

جب شوہر کے پاس سوائے اپنی ذات کے کوئی گواہ نہ ہو تو عورت کو یہ موقع دیا جائے گا کہ اپنے شوہر کی قسموں کے جواب میں قسمیں کھا کر اس الزام کے سچ ہونے سےانکار کرے۔ جس کے نیتجے میں اس سے حد ساقط ہو جائے گی ۔ اگر خاوند قسمیں کھانے سے انکارکرے تو اسے قذف (الزام تراشی) کی سزا(80 کوڑے) دی جائے گی ۔ اگر مرد کے قسم کھانے کے بعد عورت نے قسمیں کھانے سے انکار کر دیا تو مرد کی قسمیں اور عورت کا انکار اس بات کی قوی دلیل ہے کہ اس سے جرم سر زد ہوا ہے۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں۔"دلائل سے یہی بات ثابت ہوتی ہے اور امام احمد  رحمۃ اللہ علیہ  ،شافعی رحمۃ اللہ علیہ  اور مالک رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی فرما یا ہے۔ اگر عورت قسمیں کھانے سے انکار کر دے تو اس پر زنا کی حد جاری کی جائے گی۔ یہی قول صحیح ہے۔جس کی تائید قرآن مجید سے بھی ہوتی ہے۔"

لعان کی مشروعیت کی دلیل سنت رسول میں سے وہ واقعہ ہے جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ جب ان سے دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ" کیا لعان کے بعد خاوند اور بیوی کے درمیان تفریق پیدا کر دی جائے؟تو انھوں نے فرمایا : سبحان اللہ! کیوں نہیں پھر انھوں نے کہا کہ فلاں بن فلاں (صحابی )نے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو کسی مرد کے ساتھ زنا کی حالت میں دیکھے تو کیا کرے؟اگر وہ اس کے بارے میں (گواہوں کے بغیر) زبان سے کچھ کہتا ہے تو یہ بہت بڑی بات ہے اور اگر چپ رہتا ہے تو اتنی بڑی بات پر خاموشی برداشت نہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  خاموش ہو گئے اور اسے کوئی جواب نہ دیا۔ ایک وقت کے بعد وہی شخص پھر آگیا اور کہا: میں نے آپ سے جو سوال کیا تھا اب خود مجھے اس سے واسطہ پڑ گیا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی آیات "وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ .....إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ "

"جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں "۔۔۔۔۔اگر اس کا خاوند سچوں میں سے ہو۔"

 نازل فرمادیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے پڑھ کر سنائیں اور اسے وعظ و نصیحت کی اور کہا کہ دنیا کی سزا آخرت کی سزا کے مقابلے میں بہت معمولی ہے۔اس شخص نے کہا:اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا ہے میں اپنی بیوی کے بارے میں جھوٹ نہیں بول رہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کی بیوی کو بلوایا اسے وعظ ونصیحت کی اور کہا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت ہلکا ہے۔ اس عورت نے کہا:اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا ہے! یہ شخص میرے بارے میں جھوٹ سے کام لے رہا ہے چنانچہ پہلے مرد نے چار قسمیں اٹھائیں کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ کہا اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  عورت کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی چار قسمیں اٹھائیں۔ اور کہا کہ میراخاوند جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کا(مجھ پر) غضب نازل ہو اگر میرا خاوند سچا ہو۔ اس عمل کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے خاوند اور بیوی کے درمیان تفریق ڈال دی۔[77] 

نسب کے اثبات کا بیان

جس کسی شخص کی بیوی یا لونڈی نے بچہ جنا اور یہ ممکن ہو کہ بچہ اسی کا ہے تو بچے کا نسب اس شخص کے ساتھ جوڑا جائے گا جس کی وہ بیوی یا لونڈی ہے۔ یہ ایسے ہی ہو گا جیسے اس نے بچے کو اس کے بستر پر جنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:

"الولد للفراش" "بچہ اسی کا ہے جس کا بستر ہے۔" یعنی جس کی بیوی یا لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔[78]

مندرجہ ذیل صورتوں میں بچے کو اسی شخص کی جائز اولاد تسلیم کیا جائے گا جس کی بیوی یا لونڈی سے وہ پیدا ہوا ہے۔

1۔عورت اپنے خاوند کے نکاح میں ہو اور وہ اس وقت سے لے کر جس میں جماع کرنے کا امکان تھا کم ازکم چھ ماہ کی مدت میں بچہ جنے۔ اس عرصے میں مرد بیوی کے پاس موجود ہو یا غائب ہو۔ اس صورت میں بچے کا اس شخص سے ہونا ممکن الثبوت ہے اور اس کے منافی کوئی قوی قرینہ موجود نہیں۔

2۔ عورت اپنے خاوند کے نکاح میں نہ رہی ہو۔ یعنی خاوند نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی ہو اور عورت وقت علیحدگی سے لے کر چار سال سے کم مدت میں بچے کو جنم دے تو بچے کو سابقہ خاوند کی جائز اولاد تسلیم کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت چار سال ہی ہوتی ہے لہٰذا اگر عورت نے چار سال سے کم مدت میں بچہ جنا تو قوی امکان ہے کہ بچہ اسی کا ہے جس نے اسے طلاق دے کر الگ کیا تھا لہٰذا اس بچے کا نسب اس سے ملایا جائے گا۔

ان دو حالتوں میں بچے کو موجود ہ یا طلاق  دینے والے شوہر کے ساتھ ملانے کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ دونوں بچہ پیدا کرنے کی پوزیشن میں ہوں یعنی ان کی عمر دس سال یا اس سے زائد ہو کیونکہ ارشاد نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے۔

"مُرُوا أَوْلادَكُمْ بِالصَّلاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ "

"اپنے بچوں کو نماز کا حکم کرو جب ان کی عمریں سات سال ہوں اور جب ان کی عمردس سال ہو جائے اور نماز نہ پڑھیں تو ان کو مارو اور ان کے بستر جدا جدا کر دو۔"[79]

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمر کے بچوں کو الگ الگ سلانے کا حکم دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عمر میں وطی ممکن ہے جس کے نتیجے میں اولاد پیدا ہو سکتی ہے۔ ثابت ہوا کہ دس سال کے لڑکے کو باپ تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ اس عمر میں اگرچہ اس پر بلوغت کا حکم نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ بالغ ہونا تو بلوغت کی علامات سے ثابت ہوتا ہے اور یہاں نسب کے الحاق کے لیے وطی کے امکان کو کافی سمجھا گیا ہے۔ کیونکہ اس سے نسب کی حفاظت بھی ہو تی ہے۔ اور احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے۔[80]

3۔جب کسی نے اپنی بیوی کو رجعی طلاق دی پھر وقت طلاق سے لے کر چار سال گزرنے پر اور عدت ختم ہونے سے پہلے اس نے بچے کو جنم دیا تو نو مولود کا نسب طلاق دینے والے آدمی سے ملایا جائے گا۔ اسی طرح اگرچار سال مکمل ہونے سے پہلے بھی بچہ جنے گی تو اس بچے کے ساتھ نسب ثابت ہو گا کیونکہ رجعیہ عورت بیوی کے حکم میں ہوتی ہے لہٰذا طلاق کے بعد بھی وہ طلاق سے پہلے والے حکم میں ہے۔

جن امور کی بنیاد پر لونڈی کے پیٹ سے جنم لینے والے بچے کا نسب اس کے آقا سے ملایا جاتا ہے درج ذیل ہیں۔

اولاً یہ کہ آدمی اعتراف کرے کہ اس نے اپنی لونڈی سے وطی کی تھی یا اس کے وطی کرنے پر واضح دلیل گواہ وغیرہ مل جائے۔ ثانیاً یہ کہ جس وطی کا اعتراف ہوا یا اس پر دلیل ملی عورت اس کے چھ ماہ بعد یا اس سے زیادہ مدت میں بچے کو جنے تو اس مولود کا نسب اس شخص سے ملایا جائے گا کیونکہ اس کا صاحب فراش ہونا ثابت ہو چکا ہےلہٰذا وہ حدیث "الولد للفراش" بچہ اس بستر والے کے لیے ہے جس کے گھر وہ پیدا ہوا۔"[81]کے عمومی حکم میں شامل ہے۔

اسی طرح اگر مالک نے اپنی لونڈی سے وطی کرنے کا اعتراف کیا۔ پھر اسے بیچ دیا یا آزاد کر دیا اور اس عورت نے وقت بیع یا وقت آزادی سے چھ ماہ گزرنے سے پہلے بچے کو جنم دیا جو زندہ رہا تو اس مولود کا نسب آقا(اعتراف کرنے والے)کے ساتھ ملایا جائے گا کیونکہ کم ازکم مدت حمل چھ ماہ ہوتی ہے۔ جب اس نے چھ ماہ گزرنے سے پہلے ہی بچے کو جنم دیا تو سمجھا جائے گا کہ عورت فروخت ہونے یا آزاد ہونے سے قبل ہی حاملہ تھی لہٰذا مالک صاحب  فراش قرارپائے گا اور "الولد للفراش" کے تحت بچے کا والد وہی ہو گا۔

دو حالتوں میں بچے کا نسب خاوند کے ساتھ نہ ملے گا۔

1۔جب بیوی نے اپنے خاوند کے نکاح میں آنے کے چھ ماہ سے پہلے ہی بچہ جنا جو زندہ رہا کیونکہ اس قلیل مدت میں قطعاً امکان نہیں کہ وہ نکاح کے بعد حاملہ ہواور اس میں بچے کو جنم دے (اور وہ زندہ بھی رہے) لہٰذا یہی سمجھا جائے گا کہ عورت نکاح سے پہلے ہی حاملہ تھی۔

 2۔جب آدمی نے بیوی کو طلاق بائن دی پھر عورت نے وقت طلاق سے لے کر چار سال کی مدت کے بعد بچہ جنا تو بچے کا نسب طلاق دینے والے کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا کیونکہ عورت نے بچے کو زیادہ سے زیادہ مدت حمل کے بعد جنا ہے لہٰذا سمجھا جائے گا کہ بچہ طلاق دینے والے سے پیدا نہیں ہوا۔

جب مالک نے لونڈی سے وطی کے بعد استبرائے رحم کا دعوی کیا۔ پھر لونڈی نے ایک مدت کے بعد بچے کو جنم دیا تو اس مولود کا نسب مالک کے ساتھ نہ ملایا جائے گا کیونکہ اسے استبرائے رحم کا یقین تھا لہٰذا یہ بچہ کسی اور شخص کا سمجھا جائے گا۔ واضح رہے استبرائے رحم ایک مخفی امرے جس پر فیصلہ دینا انتہائی مشکل امر ہےلہٰذا اس کے دعوے کو قسم کے ساتھ قبول کیا جائے گا کیونکہ یہ نسب کا معاملہ ہے جو نہایت اہم ہے۔

جب کسی مولود کے ملانے میں اشکال ہو تو صاحب فراش کو مقدم کیا جائے گا۔ مثلاً:لونڈی کے بچے کے بارے میں مالک کہتا ہے یہ بچہ میرا ہے۔ ایک اور آدمی دعوی کرتا ہے کہ میں نے اس سے شبہے کی بنا وطی کی تھی لہٰذا اس سے پیدا ہونے والا بچہ میرا ہے۔ تو اس صورت میں بچہ مالک کا ہوگا کیونکہ حدیث میں ہے۔ "الولد للفراش" بچہ اسی کا ہے جس کا بستر(لونڈی) ہے۔"[82]

بچہ نسب میں باپ کے تابع ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ"

"لے پالکوں کو ان کے(حقیقی باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ)"[83]

دینی اعتبار سے بچہ ماں باپ میں سے جو دین کے اعتبار سے بہتر ہے اس کے تابع ہو گا مثلاً:اگر کسی نصرانی نے بت پرست عورت سے شادی کی یا اس کے برعکس ہوا تو بچہ نصرانی مذہب رکھنے والے کے تابع ہو گا۔

آزادی اور غلامی میں بچہ ماں کے تابع ہو گا الایہ کہ آزاد کرنے والا شرط لگا دے اسی طرح کسی دھوکے کی صورت میں بھی وہ ماں کے تابع نہیں ہو گا۔

حسب و نسب کے ان احکام کو دین اسلام اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ انساب کی حفاظت رہے کیونکہ اس میں بہت سی مصلحتیں کار فرماہیں۔مثلاً:صلہ رحمی وراثت اور سر پرستی وغیرہ احکام۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

"يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ"

"اے لوگو! بلاشبہ ہم نے تم سب کو ایک (ہی)مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمھارے کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں تاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو ۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں سے باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے یقین مانو کہ اللہ دانا اور خوب باخبر ہے۔"[84]

الغرض حسب و نسب کی معرفت کا مقصد تفاخر اور جاہلیت کی حمیت نہیں بلکہ اس کا مقصد باہمی تعاون صلہ رحمی اور ایک دوسرے رحمت و شفقت کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے اعمال کی توفیق دے جو اسے محبوب اور پسندیدہ ہوں۔(آمین)

عدت کے احکام

طلاق کے بعد عدت گزاری جاتی ہے۔ اس سے مراد عورت کا شریعت کی طرف سے عائد کردہ بعض پابندیاں ملحوظ رکھتے ہوئے ایک محدود مدت تک انتطار کرنا ہے۔ عدت کی دلیل کتاب اللہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور اجماع امت ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد الٰہی ہے:

"وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ "

"طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔"[85]

نیز ارشاد ہے:

"وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ "

"تمھاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں۔ اگر تمھیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنھیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہواور حاملہ عورتوں کی عدت ان کا وضع حمل ہے۔"[86]

اس آیات میں اس عدت کا ذکر ہے جو زندگی میں مفارقت کی صورت میں ہوتی ہے اور اگر عدت کا تعلق شوہر کی وفات سے ہو تو اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ  "

"تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں۔"[87]

احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  میں عدت کی دلیل سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کی روایت ہے وہ فرماتی ہیں۔

" أمرت بريرة أن تعتد بثلاث حيض "

"بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کو حکم دیا گیا کہ وہ تین حیض عدت گزارے۔"[88]

عدت کی مشروعیت میں حکمت یہ ہے کہ عورت کے رحم میں حمل کی صورت حال واضح ہو جائے تاکہ نسب کا اختلاط نہ ہو۔ اسی طرح رجعی طلاق کی صورت میں طلاق دینے والے شوہر کو مہلت دینا ہے کہ اگر وہ طلاق دے کرنادم ہے تو رجوع کر لے نیز عدت میں عقد نکاح کی حرمت واحترام بھی پنہاں ہے اور طلاق دینے والے شوہر کے حق کی تعظیم بھی ہے بھی ہے۔ اگر عدت گزارنے والی حاملہ ہے تو اس کے حمل کے حق میں حفاظت بھی ہے الغرض عدت نکاح کی حرمت و عزت کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔

عدت ہر اس عورت پر لازم ہے جو اپنے شوہر سے الگ ہو۔ مفارقت کی وجہ طلاق ہو یا خلع ،فسخ نکاح ہو یا شوہر کی وفات لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے شوہر نے اس سے خلوت و مجامعت کی ہو خواہ بیوی آزاد ہو یا لونڈی ۔ اسی طرح وہ بالغ ہو یا ایسی نابالغ کہ اس جیسی سے مجامعت ہو سکتی ہو۔

اگر کسی نے اپنی زندگی میں بیوی کو مجامعت کیے بغیر طلاق دے کر الگ کر دیا تو اس عورت پر عدت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ۖ  "

"اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو۔ پھر تم انھیں ہاتھ لگانے سے قبل(ہی) طلاق دے دو تو ان پر تمھارے لیے کوئی عدت نہیں جسے شمار کرو۔"[89]

آیت میں کلمہ" تَمَسُّوهُنَّ" سے مراد"جماع"ہے لہٰذا آیت مذکورہ سے واضح ہوا کہ جس عورت کو مجامعت سے قبل طلاق دی گئی ہو اس پر عدت نہیں۔ اہل علم کا اس مسئلے پر اجماع ہے۔ واضح رہے آیت میں کلمہ "الْمُؤْمِنَاتِ" کا استعمال تغلیباً ہوا ہے کیونکہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ یہ حکم جس طرح مومنہ عورت کے لیے ہے اسی طرح اہل کتاب سے تعلق رکھنے والی عورت کے لیے بھی ہے۔

جس عورت کا شوہر فوت ہو گیا ہو اس کی وفات بیوی سے مجامعت سے قبل ہو یا اس کے بعد دونوں صورتوں میں عورت پر عدت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :

"وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ  "

"تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں"[90]

میں عموم ہے اور آیت کے حکم میں تخصیص کے لیے کوئی قرینہ نہیں ہے۔

عدت گزارنے والی خواتین کی چھ قسمیں ہیں۔(1)حاملہ عورت (2)وہ عورت جس کا خاوند فوت ہو جائے اور وہ حاملہ نہ ہو(3)غیر حاملہ حیض آتا ہو۔(4)مطلقہ جسے حیض نہ آتا ہو۔(5)بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے جس کے ایام حیض ختم ہو چکے ہوں یا ایسی کمسن ہو کہ حیض شروع نہ ہوا ہواور جس کا حیض بند ہو جائے اور معلوم نہ ہو کہ کیوں بند ہوا۔

(6)وہ عورت جس کا خاوند گم ہو جائے۔

حاملہ وضع حمل تک عدت گزارے گی۔ اس کی علیحدگی  کا سبب خاوند کی طلاق ہویا اس کی وفات اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ "

"حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل تک ہے۔"[91]

آیت کریمہ سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے چاہے اس کا خاوند فوت ہوا ہویا اس نے زندگی ہی میں اسے طلاق کے ذریعے سے الگ کر دیاہو۔ بعض سلف صالحین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ایسی حاملہ عورت جس کا خاوند فوت ہو چکا ہو وہ دو عدتوں یعنی وضع حمل یا چارماہ دس دن میں سے جو عدت لمبی ہو اس کے مطابق عدت گزارے گی البتہ بعد میں علماء کا اتفاق ہو گیا کہ وضع حمل کے بعد عدت لازماً ختم ہو جاتی ہے۔

واضح رہے ہر وضع حمل سے عدت ختم متصور نہیں ہوگی بلکہ یہاں وضع حمل سے مراد یہ ہے کہ بچے کی پیدائش اس حال میں ہوئی ہوکہ اس میں انسانی صورت واضح ہو۔ اگر عورت کے رحم سے ایسی چیز نکلی ہو جو بچے کے بجائے گوشت کا لوتھڑا محسوس ہوتی ہو۔ جس میں انسان کی خلقت واضح نہ تھی تو حاملہ کی عدت ختم نہ ہو گی۔

اسی طرح عدت اس حمل کے وضع سے ختم ہو گی جو الگ کرنے والے شوہر سے ہو۔ اگر حمل طلاق دینے والے شوہر کا نہ ہو۔یعنی شوہر اپنی عمر کے اعتبار سے اس قدر چھوٹا ہو کہ بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں یا اسے پیدائشی اور تحقیقی کمزوری ہے جس کی بنا پر بچہ پیدا کرنے کی اس میں اہلیت نہیں یا عورت نے عقد نکاح سے چھ ماہ سے پہلے ہی بچہ جن دیا جو زندہ ہے تو اس سے اس کی عدت کی مدت ختم نہ ہوگی کیونکہ بچے کا نسب اپنے باپ سے نہیں ملتا۔

حمل کی کم ازکم مدت چھ ماہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلاثُونَ شَهْرًا"

"اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے۔"[92]

نیز فرمان الٰہی ہے:

"وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ "

"مائیں اپنی اولادوں کو دو سال کامل دودھ پلائیں۔"[93]

اگر تیس ماہ کی مدت میں سے"مدت رضاعت"24ماہ(دوسال)منفی کردیں تو باقی چھ ماہ ہی رہ جاتے ہیں جو کہ حمل کم ازکم مدت ہے یاد رہے رحم مادر میں چھ ماہ سے کم مدت رہنے والا بچہ زندہ نہیں رہتا۔

حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ راجح مسلک یہ ہے کہ اس مسئلے میں دنیا میں موجود مثالوں کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ علامہ موفق الدین ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں :"جہاں نص نہ ہو وہاں وجود کی طرف رجوع کیا جائے گا لہٰذا دنیا میں پانچ سال بلکہ اس سے زیادہ مدت تک رحم مادر میں حمل بر قرار رہنے کی مثالیں موجود ہیں لیکن عموماً نو ماہ مدت تک حمل ہوتا ہے کیونکہ عام خواتین کے حمل کی مدت غالباً نو ماہ ہی ہوتی ہے۔

شریعت اسلامیہ میں حمل کی قدرو منزلت ہے اس کے بارے میں کسی قسم کی زیادتی کرنا یا اسے نقصان پہنچانا قطعاً جائز نہیں۔ اگر روح داخل ہوجانے کے بعد کسی کی زیادتی کے سبب حمل ساقط ہو جائے تو اس میں دیت و کفارہ لازمی ہوتا ہے۔

اگر حاملہ عورت پر کسی شرعی حد کا لگنا یا رجم کرنا واجب ہو گیا تو حد کے نفاذ میں تاخیر کی جائے گی حتی کہ وہ عورت بچے کو جنم دے دوائی وغیرہ استعمال کر کے حمل گرانا قطعاً جائز نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ایسی شریعت کے ذریعے سے ہماری راہنمائی کی ہے جس میں ہر قسم کے احکام موجود ہیں حتی کہ اسلام عورت کے پیٹ میں موجود بچے سے متعلق بھی اپنے احکام کے ذریعے سے ہماری راہنمائی کرتا ہے اور اس کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اسلام کے احکام پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے اور اپنی اطاعت میں خلوص کی دولت دے اگرچہ کافر لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔

جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے وہ چارماہ دس دن کی عدت گزارے بشرطیکہ وہ حمل والی نہ ہو۔ اس کا خاوند مجامعت سے قبل وفات پا گیا ہو یا بعد میں نیز عورت وطی کے قابل ہو یا نہ ہو۔ بہر صورت اس کی عدت یہی ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کے فرمان :

"وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ  "

"تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑجائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں۔"[94] کا عموم ہے۔

علامہ ابن قیم  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"عورت پر چار ماہ دس دن کی عدت اس کے شوہر کی موت کے سبب ہے شوہر نے بیوی سے مجامعت کی ہو یا نہ کی ہو کیونکہ قرآن و سنت کے دلائل میں عموم ہے نیز اہل علم کا اس پر اتفاق ہے۔

واضح رہے عدت وفات سے مقصود استبرائے رحم نہیں اور نہ محض تعبدی حکم ہے کیونکہ شریعت کے ہر حکم میں جو معنی اور حکمت پنہاں ہیں وہ بعض پر آشکار اہو جاتے ہیں اور دوسروں پر مخفی رہتے ہیں۔"[95]

علامہ وزیر اور دیگر فقہاء  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں :"علمائے کرام اس امر پر متفق ہیں کہ جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے وہ چار ماہ دس دن تک عدت گزارے بشرطیکہ وہ حاملہ نہ ہو۔"

لونڈی کا آقا یا شوہر فوت ہو جائے تو اس کی عدت آزاد عورت کی نسبت نصف ایام ہیں یعنی دو ماہ اور پانچ دن صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین کا اس امر پر اجماع تھا کہ لونڈی کی عدت طلاق اور عدت وفات آزاد عورت کی نسبت نصف ہے۔

ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:" یہی قول عام اہل علم کا ہے۔ ان میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ  ،امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  اور دیگر فقہاء بھی شامل ہیں نیز اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا اجماع تھا۔"[96]

عدت وفات سے متعلق چند مخصوص احکام مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔عورت عدت وفات اس گھر میں گزارے جہاں وہ اپنے خاوند کی وفات کے وقت رہ رہی تھی بغیر کسی شرعی عذر کے اس جگہ کو چھوڑنا جائز نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک عورت کو فرمایا تھا:"تم اس گھر میں عدت گزارو جہاں تمھیں تمھارے خاوند کی موت کی خبر دی گئی تھی۔"[97]

2۔اگر عورت عدت وفات گزارنے کے لیے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ جانے پر مجبور ہوتو حسب خواہش جہاں چاہے عدت گزارے تاکہ اسے تکلیف یا نقصان نہ ہو مثلاً:جہاں خاوند فوت ہوا تھا اس گھر میں رہنے سے اس کی جان کو خوف و خطرہ لاحق ہویا اسے وہاں سے زبردستی نکال دیا جائے یا مالک مکان کی طرف سے کرایہ بڑھ جانے کی وجہ سے اس عورت نے مکان چھوڑدیا وغیرہ۔

3۔اسی طرح خاوند کی وفات پر عدت گزارنے والی عورت دن کے وقت کسی ضروری کام کے لیے گھر سے باہر جاسکتی ہے رات کو نہیں کیونکہ رات کو جانے میں خرابی و فساد کا اندیشہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے۔

"تحدثن عند إحداكن ما بدا لكن، فإذا أردتن النوم فلتأت كل امرأة إلى بيتها"

"تم ایک دوسری کے ساتھ باتیں کرنے کے لیے (دن کے وقت) اکٹھی ہو سکتی ہو لیکن جب سونے کا ارادہ ہو تو ہر ایک اپنے گھر واپس آجائے۔"[98]

4۔عدت وفات کے احکام میں سے ایک حکم یہ بھی ہے کہ عورت عدت وفات میں"سوگ"کی کیفیت میں رہے اپنی ایسی صورت حال اور وضع قطع نہ بنائے کہ حسن و زیبائش اور بناؤسنگھار کیے ہوئے ہوکہ دعوت نظارہ دے رہی ہو۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"یہ شریعت مطہرہ کے محاسن اور حکمتوں میں سے ہے اور اس بات کی دلیل بھی ہے کہ شریعت میں بندوں کی ضروریات کا بدرجہ اتم لحاظ اور خیال رکھا گیا ہے۔ میت پر سوگ منانا موت کی گھناؤنی مصیبت کی وجہ سے ہے جس میں زمانہ جاہلیت کے لوگ انتہائی مبالغہ کرتے تھے یہاں تک کہ سوگ والی عورت حالت سوگ میں ایک سال تک تنگ و تاریک مکان میں رہتی جو گھر سے الگ تھلگ ہوتا تھا وہ نہ خوشبو وغیرہ استعمال کرتی اور نہ غسل کرتی تھی اس کے علاوہ ایسے امور انجام دیتی جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کی تقدیر پر ناراضی کا اظہار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت و حکمت سے یہ(غلط)طریقہ باطل قراردیا اور اس کے بجائے ہمیں صبراور شکر کی تعلیم دی اور ایسے موقع پر "انالله وانا اليه راجعون" کہنے کا حکم دیا ہے۔

چونکہ موت سے انسان کو گہرا دکھ حزن و ملال اور تکلیف پہنچتی ہے اور انسانی طبیعت کے یہ عین مطابق ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ حکیم و خبیر نے عورت کو کچھ گنجائش عطا کی کہ وہ خاوند کے سوا کسی دوسری میت پر تین دن تک سوگ منا کر اپنے غم کو ہلکا کر سکتی ہے اس سے زیادہ وقت سوگ میں گزارنا چونکہ خرابی اور نقصان کا باعث تھا اس لیے اس سے روک دیا گیا گویا کہ عام میت پر سوگ تین دن ہو گا اور خاوند پر سوگ مہینوں کے حساب سے ہوگا۔

مقصد یہ ہے کہ عورت کی کم عقلی اور بے صبری کی بنا پر اسے قریبی رشتے داروں کے مرنے پر تین دن تک سوگ منانے کی اجازت دی گئی ہے اور خاوند کی موت پر سوگ محض سوگ ہی نہیں بلکہ عدت بھی ہے۔

چونکہ عورت کو خاوند کی موجودگی میں خوشبو وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ذریعے سے وہ خاوند سے محبت کا اظہار کرتی ہے۔ جب وہ فوت ہوگیا تو اس کی ضرورت  نہ رہی اور چونکہ وہ عورت ابھی پہلے خاوند کی وفات کی عدت گزاررہی ہے اور کسی دوسرے خاوند کے عقد میں نہیں گئی تو اس کا تقاضا ہے کہ وہ ابھی پہلے خاوند (کی عدت) کا حق پورا کرے اور عدت مکمل کرنے تک ایسے تمام امور ترک کیے رکھے جنھیں بیویاں اپنے خاوندوں کے لیے بجالاتی ہیں۔

اس کے ساتھ عورت کا زینت اور رنگ و خوشبو کے استعمال سے اپنی حرص اور خواہش کا اظہار کرنے اور اس کی زینت و خوشبو کو دیکھ مردوں کا اس میں دلچسپی ظاہر کرنے کا سد باب ہے۔[99]

عورت پر واجب ہے کہ عدت سوگ میں زیب و زینت اختیار کر نے سے اجتناب کرے اپنے بال خضاب سے نہ رنگے ۔زینت پیدا کرنے والے رنگوں کو استعمال نہ کرے مختلف ڈیزائنوں کا زیورنہ پہنے  اور ہرقسم کی خوشبو کے استعمال سے خود کو دور رکھے شوخ لباس نہ پہنے بلکہ ایسا سادہ لباس پہنے جو زینت کا باعث نہ ہو۔ ان تمام باتوں کاتب تک خیال رکھے جب تک عدت وفات بیت نہ جائے۔

5۔عدت وفات کے لیے شریعت نے کوئی ایسا ایک لباس متعین اور مخصوص نہیں کیا۔ وہ حسب عادت اور عام معمول کا لباس پہنے البتہ وہ زینت کا لباس نہ ہو۔

6۔جب اس کی عدت وفات مکمل ہو جائے تو اس موقع پر کوئی مخصوص کام کرنا یا خاص الفاظ ادا کر کے عدت ختم کرنا شرعاً ثابت نہیں اگرچہ بعض لوگ ایسی باتیں کہتے ہیں۔

جس عورت کو حیض نہیں آتا وہ تین ماہ طلاق کی عدت پوری کرے۔

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ"

"تمھاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں۔ اگر تمھیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے ۔[100]

مطلقہ عورت جسے حیض آتا ہو وہ تین حیض کی عدت گزارے بشرطیکہ وہ حاملہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ "

"طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔انھیں حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو پیدا کیا ہوا اسے چھپائیں۔"[101]

واضح رہے آیت کلمہ "قُرُوءٍ"کے معنی"حیض "کے ہیں صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا یہی مسلک ہے علاوہ ازیں حدیث میں بھی "قرُءُ"کا لفظ حیض کے معنی میں آیا ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مستحاضہ عورت کو فرمایا:

"إِذَا أَتَى قَرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّي "

"جب تجھے حیض آئے تو نماز ادا نہ کرنا ۔"[102]

عدت میں تینوں حیض مکمل ہونے ضروری ہیں لہٰذا اگر حالت حیض میں طلاق دی گئی (اگرچہ یہ حرام کام ہے) تو یہ حیض عدت میں شمار نہ ہوگا۔

اگر مطلقہ عورت لونڈی ہے تو اس کی عدت دو حیض ہے جیسا کہ ایک روایت میں ہے:" لونڈی کی عدت دو حیض ہیں:"

سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا یہی مسلک تھا۔ نیز صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین   میں سے اس فتوے کا کوئی مخالف معلوم نہیں ہو سکا۔ یہ حکم اللہ تعالیٰ کے عام فرمان کا مخصص ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

"وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ "

"طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔"[103]

قیاس کا تقاضا یہ تھا کہ لونڈی کی عدت ڈیڑھ حیض ہوتی لیکن حیض کا اجزا میں تقسیم ہونا ناممکن ہے۔ اس لیے عدت دو حیض قرارپائی۔

ایسی عورت جس کا بڑھاپے کی وجہ سے حیض بندہو چکا ہو یا بچی جسے ابھی حیض آنا شروع ہی نہیں ہوا دونوں تین ماہ عدت گزاریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ "

"تمھاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں۔ اگر تمھیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور(اسی طرح)ان کی بھی جنھیں ابھی حیض  نہیں آیا۔"[104]

امام ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے بیان کیا ہے"اہل علم کا اجماع ہے کہ بڑی عمر کی آزاد عورت اور بچی جسے ابھی حیض آنا شروع نہیں ہوا کی عدت تین ماہ ہے۔"[105]

جو عورت بالغ ہو گئی لیکن کسی وجہ سے اسے حیض آنا شروع نہیں ہوا تو اس کی عدت بھی تین ماہ ہے کیونکہ وہ بھی آیت مذکورہ کے عام حکم میں شامل ہے۔

اگر کسی لونڈی کا حیض بند ہو گیا یا عمر میں ابھی چھوٹی ہے تو اس کی عدت طلاق دو ماہ ہے سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا قول ہے:

"عِدَّةُ أمِّ الولدِ حَيْضَتَانِ، ولو لم تَحِضْ كانَتْ عِدَّتُها شَهْرَيْنِ"

"ام ولد کی عدت دو حیض ہے اگر اسے حیض آنا شروع نہیں ہوا تو اس کی عدت دو ماہ ہے۔[106]

کیونکہ اس صورت میں "مہینہ "حیض کابدل قرار پائے گا۔ بعض علماء ایسی عورت کی ڈیڑھ ماہ کی عدت کے قائل ہیں کیونکہ لونڈی کی عدت آزاد عورت کی نسبت نصف ہے تو جب آزاد عورت جسے حیض نہیں آتا کی عدت تین ماہ ہے تو لونڈی کی عدت لازماً ڈیڑھ ماہ ہوگی۔[107]

ایسی مطلقہ عورت جسے پہلے حیض آتا رہا پھر کسی عارضہ کی وجہ( نہ کہ بڑھاپے کی وجہ) سے رک گیا تو ایسی عورت کی دو حالتیں ہوں گی۔

1۔اسے حیض کے رک جانے کا سبب معلوم نہ ہو۔ ایسی عورت کی عدت طلاق ایک سال ہے۔ اس میں نو ماہ حمل کے لیے تین ماہ طلاق کی عدت کے ہوں  گے جو حیض سے مایوس عورت کی عدت ہے۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"یہ فیصلہ (کہ مذکورہ عورت کی عدت ایک سال ہے)سیدنا  عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا تھا جو انصارو مہاجرین میں جاری و ساری تھا۔ ہماری معلومات کے مطابق کسی انکار کرنے والے نے اس کا انکار نہیں کیا۔ یاد رہے ایک سال کی عدت میں غرض یہ ہے کہ عورت کے رحم میں حمل کی صورت حال واضح ہو جائے لہٰذا جب نو ماہ گزر جائیں حمل کے بارے میں کوئی اشکال باقی نہ رہے گا اگر حمل نہ ہواتو تین ماہ عدت گزارے جو حیض سے گزرجائیں تو حمل کے بارے میں کوئی اشکال باقی نہ رہے گا۔ اگر حمل نہ ہوا تو تین عدت گزارے جو حیض سے مایوس عورت کی عدت ہے۔ اس طرح اس عورت کی مجموعی عدت ایک سال ہو گی۔"[108]

2۔عورت کو حیض رک جانے کا سبب معلوم ہومثلاً: بیماری یا رضاعت یا ایسی ادویات کا استعمال جو مانع حیض ہیں۔

ایسی عورت اولاً رکاوٹ حیض کے سبب کے ختم ہونے کا انتظار کرے۔ سب زائل ہوجانے کے بعد حیض آجائے تو تین حیض عدت پوری کرے۔ اگر سبب زائل ہو جانے کے باوجود حیض آنا شروع نہیں ہوا تو صحیح بات یہی ہے کہ وہ اس عورت کی طرح ایک سال کی عدت پوری کرے جس کا حیض کسی ایسی وجہ سے رک گیا ہے جس کا اسے علم نہیں جیسا کہ ابھی ذکر ہوا ہے۔ شیخ الا سلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے اسی موقف کو پسند کیا ہے نیز امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  کا بھی ایک قول یہی ہے۔

مستحاضہ عورت کی درج ذیل تین صورتیں ہیں۔

1۔استحاضہ شروع ہونے سے قبل اسے ایام حیض کی تعداد اور وقت کا علم ہو۔ ایسی عورت اپنے معمول اور عادت کے مطابق طلاق کی عدت تین حیض پورے کرے۔

2۔اگر اسے ایام حیض کی تعداد بھول گئی ہو لیکن وہ حیض کے خون اور استحاضہ کے خون میں فرق و امتیاز کر سکتی ہو تو اس امتیاز کو پیش نظر رکھ کر طلاق کی عدت تین حیض پوری کرے۔

3۔اسے ایام حیض بھول گئے ہوں اور وہ حیض اور استحاضہ دونوں کے خون میں فرق و امتیاز نہ کر سکتی ہو تو وہ حیض سے مایوس عورت کی طرح تین مہینے عدت گزارے گی۔

عدت سے متعلق احکام میں سے ایک مسئلہ "خطبہ"یعنی پیغام نکاح کا ہے اگر عورت اپنے شوہر کی وفات کی عدت پوری کر رہی ہو یا اسے طلاق بائن ہو چکی ہوتو ان دونوں قسم کی عورتوں کو دوران عدت میں صاف اور واضح الفاظ میں نکاح کا پیغام دینا حرام ہے: مثلاً: کوئی کہے:"میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ۔"البتہ اشارے کنایے سے نکاح کا پیغام دیا جا سکتا ہے مثلاً:کوئی کہے:"میں نکاح کے لیے تم جیسی عورت چاہتا ہوں۔"اس کے جواز کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُم بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ"

"تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارے کنایے سے ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو۔"[109]

جب کسی شخص نے بیوی کو تین طلاقوں سے کم طلاقیں دیں یا اس نے بیوی کو رجعی طلاق دی تو اس آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ عدت پوری ہونے کی صورت میں دوبارہ نکاح کے لیے کہے یا دوران عدت میں صاف لفظوں میں یا اشارے کنایے سے جیسے چاہے پیغام نکاح دے کیونکہ اس کا اس عورت سے نکاح کرنا مباح ہے اور جب تک عدت میں ہے اس سے رجوع کا حق حاصل ہے۔

جس عورت کا خاوند گم ہو گیا یعنی اس کا اتاپتا نہ مل رہا ہو کہ زندہ ہے یا فوت ہو گیا ہے تو قاضی یا حاکم کو چاہیے کہ اس کے حالات کے پیش نظر ایک مدت مقرر کرے جس میں عورت خاوند کے لوٹ کر آنے کا انتظار کرےیا پھر اس کی زندگی یا موت کی ایسی خبر ملے جس سے صورت حال واضح ہو جائے۔ عورت اس عدت کے دوران میں گم شدہ کے نکاح میں متصور ہو گی کیونکہ خاوند کا زندہ ہونا اصل حکم ہے۔ جب مقررہ مدت ختم ہو جائے تو قاضی اس کی وفات کا فیصلہ جاری کرے گا۔ اس فیصلے کے بعد عورت شوہر کی وفات والی عدت یعنی چار ماہ دس دن گزارے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت کا یہی فیصلہ ہے۔

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ثابت ہے کہ انھوں نے مفقود (گم شدہ) کی بیوی کو چار سال انتظار کرنے کا حکم دیا اس کے بعد اس کو شادی کی اجازت دی کچھ مدت بعد گم شدہ خاوند واپس آگیا تو سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اس مرد کو اختیار دیا کہ وہ اپنی بیوی کو لوٹا ئےیا حق مہر واپس لے لے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے۔ امام ابو داؤد  رحمۃ اللہ علیہ  اپنی کتاب "المسائل "میں فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  سے سنا وہ فرماتے ہیں:"مجھے اس مسئلے میں کوئی شک نہیں کیونکہ پانچ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے یہ فتوی دیا ہے کہ وہ (چار سال)انتظار کرے۔"[110]

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا قول سب سے صحیح قول ہے اور عقل کے زیادہ قریب ہے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:" یہی قول درست ہے۔"

جب ایسی عورت کی عدت گزر جائے تو کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا مباح ہو جا تا ہےعورت کو عدت وفات کے بعد گم شدہ شخص کے ولی سے طلاق لینے کی ضرورت نہیں اگر اس نے دوسری جگہ شادی کر لی۔ پھر اس کا پہلا شوہر آگیا تو اسے اختیار ہے کہ وہ شوہر ثانی سے طلاق کا مطالبہ کرے یا اپنی  بیوی کو اس شخص کے نکاح میں رہنے دے اور اپنا ادا شدہ حق مہر واپس لے لے۔ اس میں کوئی فرق نہیں کہ پہلے شوہر کی واپسی دوسرے شوہر کے جماع کرنے کے بعد ہو یا پہلے ہو۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں۔گم شدہ شخص کی بیوی کی عدت کے بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا مذہب درست ہے اور وہ یہ اولاً چار سال گزارے پھر (قاضی کے فیصلے کے بعد) عدت وفات چار ماہ دس دن پورے کرے۔ اس کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے۔ نکاح کی صورت میں ظاہر و باطن دوسرے شخص کی بیوی ہو گی پہلے گم شدہ شخص کی نہیں دوسرے آدمی سے نکاح کر لینے کے بعد اگر عورت کا پہلا شوہر لوٹ آیا تو اسے اختیار ہو گا کہ وہ اپنی بیوی کو دوبارہ حاصل کرے یا اس سے ادا شدہ حق مہر واپس لے اور اسے دوسرے آدمی کے نکاح میں رہنے دے۔ شوہر ثانی نے اس عورت سے مجامعت کر لی ہو یا نہ کی ہو۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  کا ظاہر مذہب یہی ہے۔"

شیخ موصوف فرماتے ہیں:"شوہر اول کو عورت اور مہر کے بارے میں جو اختیار دیا گیا ہے وہ عدل و انصاف سے پوری طرح مطابقت وموافقت رکھتا ہے۔"[111]

استبرائے رحم کا بیان

استبرائے رحم کا مطلب یہ ہے کہ لونڈی کے حصول کے بعد اور اس سے جماع کرنے سے پہلے کچھ وقت انتظار کرنا تاکہ اس کے رحم میں حمل ہونے یا نہ ہونے کی صورت حال واضح ہو جائے۔

جس نے کوئی لونڈی خریدی یا اسے ہبہ کی گئی یا قیدی بنی اور پھر اسے حاصل ہو گئی اور وہ وطی کے قابل ہو تو اس سے وطی و استفادہ تب تک حرام ہے جب تک استبرائے رحم (رحم کے خالی ہونے ) کا یقین نہ ہو جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:

" من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يسقي ماءه زرع غيره "

"جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے اس کے لائق نہیں کہ وہ کسی کی کھیتی کو اپنا پانی دے۔"[112]

ایک روایت میں ہے:

"لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ "

"حاملہ (لونڈی)سے وطی نہ کی جائے جب تک اس کے ہاں ولادت نہ ہو جائے۔"[113]

حاملہ لونڈی کا "استبرا"وضع حمل سے ختم ہو جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان عام ہے۔

"وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ "

"اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کا وضع حمل ہے۔"[114]

اگر وہ حاملہ نہیں اور اسے حیض آتا ہے تو ایک حیض کا آنا "استبرائے رحم" کے لیے کافی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اوطاس کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا تھا:

"لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً"

"حاملہ سے وطی نہ کی جائے حتی کہ وہ حمل کو جنم دے اور غیر حاملہ سے وطی نہ کی جائےحتی کہ اسے ایک مرتبہ حیض آجائے۔[115]

اس روایت سے واضح ہوا کہ قیدی بن جانے والی عورت لونڈی بن جائے یا کسی اورطریقے سے لونڈی حاصل ہو تووطی سے قبل استبرائے رحم کے لیے ایک حیض کاانتظار کرنا واجب ہے۔

(الف) لونڈی حیض کے ایام سے مایوس ہوگئی ہو یاوہ ابھی چھوٹی عمر میں ہو جسے حیض آنا شروع نہیں  ہوا تو استبرائے رحم کے لیے ایک مہینہ گزرنے کا انتظار کیا جائے کیونکہ عدت میں ایک حیض ایک ماہ کے قائم مقام ہوتا ہے۔

(ب)۔لونڈی کے بارے میں وطی سے قبل استبرائے رحم کی ہدایت میں حکمت ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرمان:

" من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يسقي ماءه زرع غيره "

"جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے اس کے لائق نہیں کہ وہ اپنا پانی غیر کی کھیتی کو  دے۔"[116]

سے خود واضح ہورہی ہے کہ استبرائے رحم کی غرض پانی(مادہ منویہ) کے اختلاط سے احتراز کرنا اور نسب میں اشتباہ سے بچناہے۔

رضاعت کے احکام

اللہ تعالیٰ نے"محرمات"(جن عورتوں سے نکاح کرناحرام ہے)  کاتذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:

"وَأُمَّهاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَواتُكُمْ مِنَ الرَّضاعَةِ"

"اور تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں(بھی تم پر حرام کردی گئی ہیں۔")[117]

نیزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:

" يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ "

"رضاعت سے وہ عورتیں حرام ہوجاتی ہیں جو نسب سے حرام ہوتی ہیں۔"[118]

ایک روایت میں ہے:

"يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة"

"رضاعت سے وہ عورتیں حرام ہوجاتی ہیں جو ولادت سے حرام ہوتی ہیں۔"[119]

(1)۔رضاعت کے لغوی معنی ہیں"بچے کا عورت کے پستان سے دودھ پینا۔"شرعی معنی ہیں:" د وسال سے کم عمر  کے بچے کاعورت کے پستان سے کم از کم پانچ مرتبہ دودھ پینا۔"

(2)۔نکاح،خلوت محرم ہونے اور عورت کو دیکھنے وغیرہ میں رضاعت کا وہی حکم ہے جو نسبی رشتے کا ہوتا ہے۔

(3)۔رضاعت تب ثابت ہوگی جب دو شرطیں پائی جائیں:

1۔بچے نے ایک عورت کا کم از کم پانچ مرتبہ دودھ پیا ہو۔سیدہ عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے مروی ہے ،وہ فرماتی ہیں:

" كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ، بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُنَّ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ "

"قرآن مجید میں اول حکم یہ نازل ہوا تھا کہ ایک عورت کادس مرتبہ  دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے،پھر پانچ مرتبہ دودھ پینے والا حکم نازل ہوا جس سے پہلا حکم منسوخ ہوگیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  جب فوت ہوئے تو یہی حکم جاری و ساری تھا۔"[120]

واضح رہے پانچ مرتبہ دودھ پینے سےرضاعت ثابت ہونے کاحکم منسوخ نہیں ہوا،اگرچہ قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت منسوخ ہوچکی ہے۔یہ حکم آیت کے اجمال اور رضاعت کی احادیث سے واضح طور پر ثابت ہوتاہے۔

2۔دوسری شرط یہ ہے کہ بچہ دو سال  سے کم عمر میں پانچ مرتبہ یا زیادہ دودھ ہے۔اللہ تعالیٰ کاارشادہے:

"وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ  ۖ  "

"مائیں اپنی اولاد کو دوسال کامل دودھ پلائیں۔ جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو۔"[121]

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ رضاعت تب معتبر ہوگی جب بچے کی عمر دو سال یا اس سے کم ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:

"لَا يُحَرِّمُ مِنْ الرِّضَاعَةِ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ فِي الثَّدْيِ وَكَانَ قَبْلَ الْفِطَامِ"

"رضاعت سے حرمت اس وقت تک ثابت نہیں ہوتی جب تک دودھ انتڑیوں کوپھلا نہ دے اور یہ عمل دودھ چھڑانے کی عمر سے پہلے پہلے ہو۔"[122]

یعنی دودھ کی وہ مقدار جو بچے کے پیٹ میں پہنچ کرانتڑیوں کو پھلائے،بھوک ختم کرے اور اس سے گوشت بنے،اس سے رضاعت ثابت ہوتی ہے اس سے کم سے نہیں۔

(4)۔ایک رضعہ(ایک بار دودھ پینے) سے مراد یہ ہے کہ بچہ پستان سے دودھ پینا شروع کرے،پھر اپنی مرضی سے سانس وغیرہ لینے کی خاطر دودھ پینا چھوڑدے یا پھر دوسرے پستان سے پینا شروع کردے۔یہ ایک رضعہ(ایک بار دودھ پینا) شمار ہوگا۔اگر بچے نے پھردوبارہ اسی طرح کیا تو دو رضعے،یعنی دوبار پینا شمار ہوگا اگرچہ مجلس ایک ہی ہو۔اس توضیح کی وجہ یہ ہے کہ شریعت نے"رضعہ" کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی،لہذا اس کی حد بندی کے لیے ہم عرف کی طرف رجوع کریں گے۔

(5)۔اگر کسی عورت نے پستان کے علاوہ کسی اور ذریعے سے اپنا دودھ بچے کے پیٹ میں پہنچا دیا تو اس پر بھی رضاعت کا حکم لگ جائے گا کیونکہ اس عمل سے غذا حاصل ہوگئی جو رضاعت کا مقصود تھا بشرط یہ کہ یہ عمل پانچ مرتبہ کیا جائے۔

(6)۔رضاعت سے حرمت ثابت ہوجاتی ہے،یعنی جب کسی عورت نےدو سال سے کم عمر والے بچے کو پانچ یا زیادہ مرتبہ دودھ  پلادیا تو دودھ پینے والابچہ اس اعتبار سے عورت کابچہ کہلائے گا اور اس بچے کااس عورت سے نکاح کرنا حرام ہوگا،نیز اس عورت کو دیکھنا اور اسے علیحدگی میں ملنا اس بچے کےلیے جائز ہوگا۔یہ بچہ عورت کا محرم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ"

"تمہاری مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایاہو(وہ بھی تمہارے لیے حرام ہیں۔)"[123]

واضح رہے مذکورہ امور کے علاوہ دیگر احکام میں یہ اس عورت کا بچہ شمار نہ ہوگا،یعنی بچے پر اس عورت کا نان ونفقہ واجب نہ ہوگا۔دونوں میں کوئی ایک دوسرے کا وارث نہ ہوگا۔بصورت جنایت بچہ دیت دینے والوں میں شامل نہ ہوگا اور نہ ولی بن سکے گا کیونکہ نسب رضاعت سے قوی تر ہوتا ہے۔دونوں میں برابری ان امور میں مسلم ہوگی جن میں شریعت کی نص وارد ہوئی ہے جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے۔

(7)۔جس طرح دودھ پینے والا لڑکا اور لڑکی عورت کے بچے کہلائیں گے جس کاانھوں نے دودھ پیا ہے اسی طرح عورت کے دودھ کے مالک،یعنی خاوند یا آقا کے بھی بچے کہلائیں گے کیونکہ دودھ پلانے والی عورت بوقت رضاعت اس کے نکاح  میں یا اس کی ملکیت میں تھی،لہذا مذکورہ احکام عورت کے خاوند یا آقا اور دودھ پینے والے کے درمیان بھی جاری وساری ہوں گے،مثلاً:دودھ پینے والی لڑکی ہے تو دودھ پلانے والی عورت کے خاوند یا لونڈی ہوتواس کے مالک کے ساتھ اس کا نکاح حرام ہوگا۔ان کا ایک دوسرے کو دیکھنا جائز ہوگا اور خلوت میں ان کی ملاقات مباح ہوگی۔

(8)۔نسب میں جو رشتے محرم ہیں،رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے محرم بن جاتے ہیں،مثلاً:جس عورت سے رضاعت ثابت ہوئی ہوتو اس کا باپ ،دادا،اولاد،ماں،نانی،بہنیں،چچے،پھوپھیاں،ماموں،خالائیں دودھ پینے والے کے محرم ہیں۔اسی طرح دودھ پلانے والی عورت کے خاوند کے تمام رشتے داررضاعی بیٹے،بیٹی کے لیے محرم ہیں۔

(9)۔جس طرح دودھ پینے والے بچے کے لیے یہ  حرمت ثابت ہوتی ہے اسی طرح اس بچے کی اولاد یا اولاد کی اولاد پر بھی حرمت ثابت ہوگی الا یہ کہ وہ اصول(باپ،دادا) وحواشی(بھائی وغیرہ) ہوں،لہذا اس بچے کے اوپر درجے کے اقارب،یعنی آباءواجداد،مائیں،چچے،ماموں اورخالاؤں کے لیے حرمت ثابت نہ ہوگی،جیسا کہ اس کے برابر کے درجے کے حواشی کے لیےحرمت ثابت نہیں ہوتی،یعنی بچے کے دوسرے بہن بھائی اس رضاعی ماں یا رضاعی باپ کے محرم نہیں ہوں گے۔

(9)۔جس بچے نے ایسی عورت کادودھ پیا جس سے باطل طریقے یا زنا سے وطی کی گئی تو وہ بچی صرف دودھ پلانے والی کا بیٹا کہلائے گا کیونکہ جب مرد کا نسب کے اعتبار سے باپ ہونا ثابت نہیں تو رضاعت سے بھی باپ ثابت نہ ہو گا کیونکہ رضاعت نسب کی فرع ہے۔

(10)۔ایک جانور کا دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی،مثلاً:کسی بچے اور بچی نے ایک جانور کادودھ پیا ہے تو اس بنیاد پر ان کا آپس میں نکاح حرام نہ ہوگا۔

(11)۔اگر بچے نے کسی عورت کاایسا دودھ پیا جو وطی اور وضع حمل کے بغیر اتر آیا تو اس میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ایک رائے یہ ہے کہ وہ حرمت کاباعث نہیں کیونکہ وہ حقیقتاً دودھ ہی نہیں بلکہ وہ نکلنے والی ایک رطوبت ہے،نیز دودھ وہ ہوتا ہے جو بچے کی ہڈیوں اور اس کے گوشت کی نشوونما کا موجب بنے جبکہ یہ دودھ ایسا نہیں ہے۔اہل علم کی دوسری رائے یہ ہے کہ اس سے حرمت ورضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔امام ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ  وغیرہ کا یہی مسلک ہے۔

(12)۔ایک عورت(جس نے بچے کو اپنا دودھ پلایا ہے) کی شہادت سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے بشرط یہ کہ وہ دین اسلام کے احکام کی پیروکار ہو۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:" جب عورت سچ بولنے میں معروف ومشہور ہو اور وہ بتائے کہ اس نے فلاں کو پانچ بار دودھ پلایاتھا تو صحیح بات یہی ہے کہ اس کی بات قبول ہوگی اور رضاعت کا حکم ثابت ہوگا۔"[124]

(13)۔اگررضاعت کے ثابت ہونے یا نہ ہونے میں شک ہویا رضاعت کے کامل ہونے میں تردد ہو،یعنی پانچ بار دودھ پیاتھایا کم اور اس کی واضح دلیل بھی نہ ہوتو حرمت ورضاعت ثابت نہ ہوگی کیونکہ دودھ کا نہ پینا اصل امر ہے۔واللہ اعلم۔

حق پرورش کے احکام

"حضانت" لغوی معنی"حق پرورش" کے ہیں۔شرعی معنی"بچے یا جو بچے کے حکم میں ہے،کو نقصان دہ امور سے بچانے اور اس کی جسمانی وروحانی مصلحتوں اور فوائد کالحاظ کرتے ہوئے پرورش اور تربیت کرنے" کے ہیں۔

بچہ یاجوشخص بچے کی طرح کم عقل،دیوانہ وغیرہ ہو،اسے پرورش میں لینے میں یہ حکمت ہے کہ ایسے افراداپنی مصلحتوں کاخیال نہیں رکھ سکتے تو لازماً انھیں کسی سرپرست کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی حفاظت ونگرانی کرسکے اور ان کے منافع وفوائد کا لحاظ رکھے،انھیں نقصان دہ امور سے بچائے اور ان کی اچھے انداز میں پرورش اورتربیت کرسکے۔

(1)۔ہماری شریعت ،شریعت اسلامیہ نے ایسے لوگوں کی تربیت وپرورش کے اصول وضوابط بیان فرمائے ہیں کیونکہ یہ لوگ اپنی صورت احوال کے پیش نظر شفقت ورحمت کے نہایت مستحق ہیں اوراس لائق ہیں کہ ان کےساتھ احسان اور بھلائی کی جائے۔اگر انھیں نظر انداز کردیا جائے گا توان کا نقصان ہوگا بلکہ وہ ضائع ہوجائیں گے ہماراد ین انھیں ضائع کرنے سے روکتا ہے،ان کی کفالت کا ہمیں ذمے دارٹھہراتا ہے اور یہ پرورش پانا زیر کفالت بچے کا حق ہے جو اس کے قرابت داروں پر عائد ہوتا ہے۔اور پرورش کنندہ کا یہ حق ہے کہ اپنے قریبی(بچے) کے معاملات کا اسی طرح خیال رکھے جس طرح وہ باقی ذمے داریاں نبھاتا ہے۔

(2)۔پرورش کرنا جن اقرباء پر لازم ہے ان کی ترتیب یوں ہے:

1۔بچےکی پرورش کرنے کی سب سے زیادہ حقدار اس کی ماں ہے۔

ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:" جب خاوند اور بیوی کے درمیان علیحدگی ہوجائے اور ان کی چھوٹی اولاد ہویا بچہ بچی بڑا ہولیکن کم عقل ہوتوان کی کفالت کی سب سے زیادہ حق دار بچے کی ماں ہے بشرط یہ کہ ماں میں بچے کی کفالت کی تمام شرائط موجود ہوں۔امام مالک  رحمۃ اللہ علیہ اور اصحاب الرائے کا یہی قول ہے۔ہمارے علم کے مطابق اس رائے کی کسی نے مخالفت نہیں کی۔[125]

اگر بچے کی ماں کسی اور شخص سے شادی کرلے تو ماں کاحق پرورش ختم ہوکرکسی دوسرے کی طرف منتقل ہوجائے گا جیسا کہ ایک حدیث میں ہے:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں آکر ایک عورت نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے،میں نے اپنے پیٹ میں اسے اٹھایا،یہ میرے سینے سے دودھ پیتارہا، اس نے میری گود میں پرورش پائی،اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اب اس بچے کو بھی مجھ سے چھیننا چاہتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"أنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحي"

"بچے کو لینے کی حقدار تو ہی ہے جب تک  تو کسی دوسرے آدمی سے شادی نہیں کرتی۔"[126]

اس روایت سے واضح ہواکہ بچے کی ماں پرورش کی زیادہ حقدار ہے،البتہ اگر وہ کسی دوسری جگہ شادی کرلے تو اس کا حق ساقط ہوجاتا ہے۔

بچے کی پرورش میں ماں کو دوسروں پر ترجیح دینے میں حکمت یہ ہے کہ وہ بچے پر زیادہ مہربان،اور رشتے میں قریب ترین ہے۔رشتے میں ماں کے ساتھ باپ بھی شریک ہے لیکن باپ کے سینے میں شفقت ماں کے برابر نہیں ہوتی اور وہ خود پرورش کر بھی نہیں سکتا۔لازماً وہ بچے کو اپنی بیوی ہی کے سپرد کرے گا،لہذا بچے کو اس کی ماں کے حوالے کرنا اور کی سوتیلی ماں کی نسبت زیادہ مناسب اور بہتر ہے ۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے ایک شخص سے کہا:" بچے کے لیے ماں کی خوشبو،اس کا بستر اور اس کی گودتجھ سے بہتر ہے حتیٰ کہ وہ جوان ہوجائے اور اپنے لیے کسی ایک کاانتخاب کرلے۔"[127]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"چھوٹے بچے کی پرورش کے لیے ماں موزوں ترین ہے کیونکہ عورتیں چھوٹے بچوں پر زیادہ شفیق،ان کی خوراک کا انتظام کرنے میں اور پرورش کرنے میں زیادہ باصلاحیت ہوتی ہیں اور پیش آمدہ تکالیف پرزیادہ صابر اوربچے کے حق میں زیادہ مہربان ہوتی ہیں،لہذا ماں اس موقع پر زیادہ خبر گیری کرنے،رحمت وشفقت کرنے اور صبر کرنے کی وجہ سے زیادہ لائق ہے،اسی لیے نابالغ بچے کی پرورش کے لیے ماں کومتعین کیا گیا ہے۔"[128]

2۔اگر کسی وجہ سے بچے کی پرورش میں ماں کاحق ساقط ہوجائے تو یہ حق نانی،پر نانی وغیرہ کو حاصل ہوجاتا ہے، کیونکہ وہ ماں کے قائم مقام ہیں اور بچے کا خیال دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر طورپر رکھ سکتی ہیں۔

3۔ان کے بعد یہ حق بچے کے باپ کی طرف منتقل ہوجاتا ہے کیونکہ بچے کا اصلی اورنسبی تعلق باپ کے ساتھ ہی ہے،نیز دوسروں کی نسبت وہ قریبی ہے۔بچے کے حق میں وہ شفیق اور مہربان ہے،لہذا اسے دوسروں پر ترجیح دی جائے گی۔

4۔اگر باپ کا حق ساقط ہوجائے تو بچے کی دادی،پردادی کوحق پرورش حاصل ہوگا کیونکہ ان کا بچے سے تعلق قریبی عصبہ،یعنی باپ کی وجہ سے ہے،واضح رہے دادی،پردادی بچے کی دادا،پردادا پرمقدم ہوگی جس طرح بچے کی ماں اس کے باپ سے مقدم ہوتی ہے۔

5۔دادی ،پردادی کے بعد یہ حق دادا،پردادا کو حاصل ہوتا ہے کیونکہ وہ باپ کے قائم مقام ہے۔

6۔دادا،پردادا نہ ہوتو بچے کی پرورش کا حق دادا کی ماں کو حاصل ہوگا۔جو زیادہ قریبی ہوگی وہ دور والی سے مقدم ہوگی کیونکہ وہ بھی ایک لحاظ سے جننے والیاں ہیں گویا بچہ ان کا ایک جز ہے۔

7۔داد کی ماں کے بعدبچے کی حضانت بچے کی بہنوں کی طرف منتقل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ بچے کے والدین یا کسی ایک سبب سے اس سے تعلق رکھتی ہیں۔اس میں سگی بہن مقدم ہوگی وہ نہ ہوتو مادری(اخیافی) بہن کیونکہ اس کا تعلق ماں کی نسبت سے ہے۔اور ماں،باپ پرمقدم ہے۔اگر وہ نہ ہوتو پدری(علاتی) بہن حقدار ہے۔بعض علماء نے پدری بہن کو مادری بہن پر ترجیح دی ہے کیونکہ اصل ولایت باپ کے لیے ہے اور یہ وراثت میں قوی ترین سبب ہے۔علاوہ ازیں علاتی(پدری) بہن یہاں حقیقی بہن کے قائم مقام ہے۔واللہ اعلم۔

8۔پھر ان کےبعد خالائیں حقدار ہیں کیونکہ وہ ماں کےقائم مقام ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ "

"خالہ ماں کے مرتبے میں ہے۔"[129]

اس میں سگی خالہ کو ترجیح ہوگی،پھر اخیافی خالہ کا حق ہے۔اگر وہ نہ ہوتو علاتی خالہ بچے کی کفالت کرے گی جیسا کہ بہنوں کے بارے میں ذکر ہوا ہے۔

9۔خالائیں نہ ہوں تو"حق حضانت" پھوپھیوں کی طرف چلاجاتا ہے کیونکہ وہ بچے کے ساتھ باپ کے واسطے سے تعلق رکھتی ہیں اور اس معاملے میں باپ کا درجہ ماں کے بعد ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:" پھوپھی خالہ پر مقدم ہوگی۔اسی طرح باپ کے واسطے سےتعلق رکھنے والی عورتیں،مثلاً :دادیاں ان عورتوں سے مقدم ہوں گی جن کاتعلق بچے کی ماں کے واسطے سے ہے،مثلاً:نانیاں کیونکہ اولاً سرپرستی کا حق باپ کو ہے،پھراسی طرح اس کے اقارب کو۔باقی رہا ماں کو باپ پر  ترجیح دینا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بچے کی مصلحتوں اور فوائد وبھلائی کو دوسروں کی نسبت زیادہ سمجھتی ہے ۔باقی رہی یہ بات کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی بیٹی کی کفالت میں خالہ کوپھوپھی پر مقدم رکھا تو اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ بچی کی پھوپھی (صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ) نے پرورش کرنے کامطالبہ ہی نہیں کیاتھا۔جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے بچی کی خالہ کانائب بن کر مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کے حق میں  فیصلہ دے دیا۔"

شیخ موصوف آگے چل کر فرماتے ہیں:"اصول شریعت باپ کے اقارب کو ماں کے اقارب پر ترجیح دیتے ہیں،لہذا جو شخص بچے کی پرورش میں اس کے برعکس کرتا ہے وہ اصول اور شریعت کی مخالفت کرتاہے۔"[130]

10۔پھوپھیوں کے بعد حضانت کا حق بھتیجوں کو حاصل ہے۔

11۔پھر بھانجیاں حقدار ہیں۔

12۔ان کے بعد چچے کی بیٹیاں حق رکھتی ہیں۔

13۔پھر پھوپھیوں کی بیٹیوں کا حق ہے۔

14۔پھرا ن کے بعد قربت میں درجہ بدرجہ باقی عصبات کو حق حضانت حاصل ہوگا،یعنی بھائی  اور ان کے بیٹے،پھر چچے،پھر ان کے بیٹے۔

(3)۔جس کی پرورش وکفالت مقصود ہے اگر وہ لڑکی ہے تو پرورش کرنے والے مرد کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ اس کا محرم ہو۔اگر محرم میسر نہ ہوتو اسے کسی بھی بااعتماد شخص کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔

حق پرورش کے موانع کا بیان

حق پرورش کی راہ میں حائل رکاوٹوں میں سے ایک رکاوٹ غلامی ہے، لہذا جب تک کوئی غلام ہے اگرچہ غلامی ناقص ہی کیوں نہ ہو،وہ پرورش کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا کیونکہ پرورش کرنا ایک قسم کی سرپرستی ہے اور غلامی کی وجہ سے کوئی سرپرست نہیں ہوسکتا۔علاوہ ازیں وہ ہمہ وقت اپنے آقا کی خدمت میں مشغول رہتا ہے،نیز اس کے تمام منافع مالک کی کھیت میں ہوتے ہیں۔ان وجوہ کی بنا پر غلام پرورش کرنے کا اہل نہیں۔

(1)۔فاسق وفاجر شخص بھی پرورش کرنے کا اہل نہیں کیونکہ وہ قابل اعتماد نہیں۔علاوہ ازیں بچے کے ایسے شخص کی سرپرستی میں رہنے سے اس کا دینی نقصان ہے ۔وہ اس کی تربیت غلط انداز سےکرے گا اور اسے اپنے طریقے پر لگائے گا۔

(2)۔کوئی کافر مسلمان بچے کا سرپرست نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ فاسق سے بھی زیادہ غیر مستحق ہے ،لہذا اس کی طرف سے پہنچنے والا نقصان بھی زیادہ ہوگا۔وہ بچے کو کفریہ تعلیم وتربیت دے کر اسے اسلام سے خارج کردے گا۔"[131]

(3)۔اگر کوئی عورت دوسری جگہ کسی ایسے مرد سے شادی کرلے جو اس بچے کے لیے اجنبی ہے تو وہ بھی اس بچے کی پرورش کی اہل نہیں کیونکہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک عورت کو،جو بچے کی ماں تھی فرمایا:

"أنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحي"

"بچے کو لینے کی حقدار تو ہی ہے جب تک  تو کسی دوسرے آدمی سے شادی نہیں کرتی۔"[132]

اس كی وجہ یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی کے منافع کا مالک ہے اوروہ اپنی بیوی کو سابق شوہر سے پیدا ہونے والے بچے کی پرورش سے روک سکتا ہے۔واضح رہے کہ"اجنبی شخص" سے مراد وہ ہے جو بچے کا عصبہ نہیں۔اگر عورت بچے کے کسی عصبہ(رشتے دار) سے دوسری شادی کرلیتی ہے تو بچے کا حق پرورش ماں سے ساقط نہ ہوگا۔

(4)۔اگر مذکورہ موانع زائل ہوجائیں،یعنی غلام آزاد ہوجائے،فاسق توبہ کرلے ،کافر مسلمان ہوجائے یا دوسری جگہ شادی کرنے والی عورت کو طلاق ہوجائے تو ہر ایک کو "حق پرورش" حاصل ہوجائے گا کیونکہ اب رکاوٹ موجود نہیں رہی۔

(5)۔اگر بچے کے والدین میں سے کوئی ایک طویل سفر کاارادہ رکھتا ہوتا کہ کسی دوسرے شہر یاملک میں رہائش اختیار کرے  اور اس کا مقصد نقصان پہنچانا نہ ہو،راستہ اور دنیا شہر یا ملک بھی پرامن ہوں تو باپ مسافر ہو یا مقیم بہرصورت پرورش کی ذمے داری اسی پر ہوگی کیونکہ بچے کی حفاظت وتربیت اور پرورش کا وہی ذمے دار ہے جبکہ وہ دور رہ کر اپنے ذمے داری کو پورا نہ کرسکے گا تو بچے کا نقصان ہوگا۔

(6)۔اگر سفر قریب شہر کا ہو کہ جس میں احکام قصر لازم نہیں ہوتے اور جانےوالے کا مقصد وہاں رہائش رکھنا ہے تو پرورش کی ذمے داری ماں پر ہوگی وہ مسافر ہو یامقیم کیونکہ وہ بہتر طور پر پرورش کرسکتی ہے۔علاوہ ازیں باپ کے لیے نگرانی کرنا بھی ممکن ہے۔

(7)۔اگر سفر کسی ضرورت کے پیش نظر ہوکہ ضرورت پوری ہونے پر واپس آجانا ہویاراستے میں خطرہ ہویا جس شہر میں جانا مقصود ہے وہاں کے حالات امن وامان کے لحاظ سے خطرناک ہیں تو پرورش کی ذمے داری مقیم پر ہوگی ،وہ والد ہویا والدہ کیونکہ ان صورتوں میں بچے کو نقصان پہنچنے کااندیشہ ہے۔

امام ابن قیم  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"اگر والد نے والدہ کا حق پرورش ساقط کرنے کے لیے نقصان پہنچانے  کی کوشش کی یاکوئی حیلہ سازی کی،مثلاً:سفر پر چلا گیا تا کہ بچہ اس کے پیچھے آجائے تو یہ حیلہ شریعت کے خلاف ہے کیونکہ شریعت نے بچے کی پرورش میں ماں کو باپ کی نسبت زیادہ حقدار قراردیا ہے باوجود یکہ رہائش قریب ہے اور ہر وقت ملاقات کا امکان ہے۔"[133]

نیز فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"

"جس نے والدہ اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈالی تو اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان جدائی ڈالے گا۔"[134]

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ماں(لونڈی) کو بچے کے بغیر یا بچے کو ماں کے بغیر فروخت کرنے سے منع کیا ہے اگرچہ ایک ہی شہر میں ہوں۔ان فرامین کے ہوتے ہوئے اس امر کی گنجائش کیسے ہوسکتی ہے کہ کسی حیلے بہانے سے والدہ اور اس کے بچے میں تفریق کی جائے جس کے نتیجے میں ماں کے لیے بچے کو دیکھنا اور اس سے ملاقات کرنا مشکل ہو؟ماں کے لیے اس جدائی پر صبر کرنا نہایت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔جو لوگ ایسا کرتے ہیں انھیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اورا س کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فیصلے کو تسلیم کریں کہ باپ سفر پر جائے یا اسی شہر میں اقامت اختیار کرے،بچہ ماں کے پاس رہے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک عورت سے فرمایا:

"أنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحي"

"بچے کو لینے کی حقدار تو ہی ہے جب تک  تو کسی دوسرے آدمی سے شادی نہیں کرتی۔"[135]

حدیث میں یہ نہیں ہے کہ تو بچے کی زیادہ حقدار ہے  جب تک بچے کا باپ سفر پر روانہ نہیں ہوجاتا۔یہ بات قرآن مجید کی کس آیت میں ہے یاکون سی حدیث میں ہے؟کیا کسی صحابی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے فتوے میں ہے یاکسی قیاس صحیح میں ہے؟ درحقیقت نہ نص ہے ،نہ قیاس اور نہ اس میں کوئی مصلحت ہی ہے۔"[136]

(8)۔باقی رہا بچے کو والدین میں سے کسی ایک کے انتخاب کے لیے اختیار دینا تو وہ تب ہے جب وہ سات برس کا ہو جائے اور سات برس کا بچہ عقل مند ہوتا ہے وہ جسے پسند کرے گا اس کے پاس رہے گا۔خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین  میں سے حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا یہی فیصلہ تھا۔سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں ایک عورت آئی اور کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا شوہر مجھ سے بچہ چھیننا چاہتاہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ ، فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ " ، فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ"

"(اے بچے!) یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے تو جس کا ہاتھ تھامنا چاہتا ہے تھام لے،چنانچہ اس نے ماں کاہاتھ پکڑلیا اور وہ اسے لے گئی۔"[137]

اس روایت سے واضح ہوا کہ جب بچہ والدین میں سے کسی کا محتاج نہ رہے تو اسے اختیار ہوگا کہ والدین میں سے جس کے ساتھ چاہے رہے۔جب بچہ سمجھدار عمر کو پہنچ جائے گا تو اس کا کسی ایک کی طرف میلان اور اس کا انتخاب دلالت کرتا ہے کہ وہ اسے اپنے حق میں دوسرے سے زیادہ رحیم وشفیق سمجھتا ہے۔

(9)الغرض سمجھدار بچے کو والدین میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار تب ہوگا جب وہ شرطیں موجود ہوں گی:

1۔والدین میں سے ہر ایک پرورش کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔

2۔بچہ سمجھداراور عقل مند ہو۔اگر وہ کم عقل(معتوہ) ہے تو وہ ماں کے پاس رہے گا کیونکہ ماں اسے زیادہ شفقت کرنے والی اور اس کی مصلحتوں کا خیال رکھنے والی ہوتی ہے۔

(10)۔جب سمجھدار بچہ باپ کاانتخاب کرے گا تو دن رات اس کے ہاں رہے گا تاکہ باپ اس کی حفاظت کرسکے اور تعلیم وادب سکھانےکا بندوبست کرسکے لیکن وہ اسے ماں سے ملاقات کرنے سے نہ روکے کیونکہ ایسا کرنے سےبچہ والدہ کو ناراض کرنے اور قطع رحمی کا سبق سیکھتا ہے۔اسی طرح ماں کاانتخاب کرنے کی صورت میں وہ رات کو اس کے پاس دن کو باپ کے پاس رہے گا تاکہ وہ اس کی تعلیم وتربیت جاری رکھ سکے۔اگر وہ کسی کا بھی انتخاب نہ کرے تو والدین میں قرعہ اندازی کرلی جائے کیونکہ اب کسی ایک کو دوسرے پر فوقیت دینے کی صورت قرعہ کے سوا اور کوئی نہیں۔

(11)۔لڑکی سات برس کی ہوجائے تو وہ باپ کے پاس رہے گی حتیٰ کہ اس کی شادی ہوجائے کیونکہ باپ اپنی بیٹی کی حفاظت اور سرپرستی دوسروں کی نسبت بہتر طور پر کرسکتا ہے۔ماں کو لڑکی کے ہاں آنے جانے سے روکا نہیں جائے کیونکہ وہ اسکی بیٹی ہے بشرط یہ کہ ملاقات سے کوئی خرابی اور بگاڑ پیدا نہ ہوتا ہو۔اگر باپ بیٹی کی حفاظت کرنے سے عاجز ہو یا وہ مشغولیت یادین کی کمی کی وجہ سے بے پروا ثابت ہوا ہو اور ماں نگرانی وحفاظت کرسکتی ہو تو بچی اپنی ماں کے پاس رہے گی۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"امام احمد اور ان کے رفقاء کا یہی( درج بالا) نقطہ نظر ہے ۔نیز فرماتے ہیں :"جب یقین ہو کہ کوئی شخص اپنی بیٹی کو دوسری بیوی کے پاس رکھے گا جو اس کے مصالح کا خیال نہیں رکھے گی بلکہ اسے تکلیف دے گی اور اس کی ضروریات زندگی پوری کرنے میں کوتاہی کرے  گی جب کہ بچی کی حقیقی ماں اس کے مصالح وفوائد کا خیال رکھے گی اور اسے تکلیف نہ پہنچنے دے گی تو اس  صورت میں پرورش کا قطعی حق ماں کو حاصل ہے۔"[138]واللہ اعلم۔

بیوی کے نان و نفقہ کا بیان

لغوی طور پر نفقے سے مراد درہم و دینار اور اس کے مثل اموال ہیں جبکہ شرعی طور پر نفقے سے مراد جس شخص کی کفالت کی ذمہ داری ہواسے کھانا پینا ،لباس اور رہائش وغیرہ دینا ہے۔

انسان پر سب سے پہلے بیوی کا نفقہ واجب ہے یعنی اسے کھانے ،پینے ، لباس اور ایسی رہائش دے جو اس کے لیے مناسب ہو چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ "

"کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہیے۔"[139]

نیز فرمایا:

"وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ "

"اور دستور کے مطابق عورتوں کے بھی وایسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں۔"[140]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:

"وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ"

"تم پر لازم ہے کہ اپنی بیویوں کو نان و نفقہ اور لباس جو مناسب ہو مہیا کرو۔"[141]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں۔"

اللہ تعالیٰ کے ارشاد :

"وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ "

میں وہ تمام حقوق اور فرائض داخل ہیں جو بیوی سے متعلق ہیں یعنی جو بیوی پر لازم ہیں اور جو بیوی کے لیے لازم ہیں ان کا داومداراور معیار وہ ہو گا جو لوگوں میں معروف ہے اور جسے وہ اہمیت دیتے ہیں اور جس پر خرچ کی بار بار ضرورت پیش آتی ہے۔[142]

اگر خاوند اور بیوی میں نفقے کے بارے میں اختلاف پیدا ہو جائے تو حاکم زوجین یا کسی ایک کی امیری یا غریبی کو ملحوظ رکھ کر بیوی کا نفقہ متعین کرے گا۔

اگر کوئی مالدار آدمی کی بیوی ہے تو اسے وہ حقوق ملیں گے جو اس جیسی امیر عورت کو اس معاشرے میں حاصل ہیں۔ مثلاً: اچھے معیار کا نان و نفقہ ،لباس و رہائش کی بہتر سہولتیں گھر کا سامان اور قالین وغیرہ جو اس شہر میں معروف ہیں جہاں وہ رہتے ہیں۔ اسی طرح اگر غریب عورت غریب آدمی کی بیوی ہو یا کوئی متوسط درجے کی عورت متوسط درجے کے شوہر کی بیوی ہو تو اسے اپنے شوہر کی حیثیت کے مطابق کھانے پینے اور رہن سہن کے وہ حقوق حاصل ہوں گے جو اس علاقے میں معروف ہیں جہاں ان کا بسیرا ہے۔

اگر کوئی مالدار عورت غریب شخص کے نکاح میں ہے یا کوئی غریب عورت مالدار شخص کی بیوی ہے تو اسے متوسط درجے کی ضروریات زندگی دی جائیں۔

خوراک لباس اور رہائش کے علاوہ شوہر اپنی بیوی کو وہ اشیاء بھی مہیا  کرے جو اس کی جسمانی صفائی کے لیے ضروری ہیں مثلاً: تیل صابن پینے اور طہارت حاصل کرنے کے لیے صاف پانی وغیرہ۔

مذکورہ اشیاء کا مہیا کرنا تب ہے جب عورت اس کے نکاح میں ہو اور اگر اس نے اسے طلاق دے دی ہو تو اگر طلاق رجعی ہو تو جب تک عورت عدت میں ہو اس کے اخراجات اور حقوق ادا کرنا مرد پر واجب ہیں کیونکہ وہ اس کی بیوی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ"

"اور ان کے خاوند انھیں لوٹا لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔"[143]

جس عورت کو طلاق بائن ہو چکی ہو اسے خاوند کی طرف سے نفقہ اور رہائش وغیرہ میں سے کچھ نہیں ملے گا کیونکہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کو جب ان کے خاوند نے طلاق بائن دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"لاَ نَفَقَةَ لَكِ وَلاَ سُكْنَى"

"تجھے نہ نفقہ ملے گا اور نہ رہائش۔"[144]

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ"جسے طلاق بائنہ ہو چکی ہو اسے صحیح حدیث کے مطابق نان و نفقہ اور رہائش نہیں ملے گی بلکہ یہ مسئلہ کتاب اللہ اور قیاس کے عین مطابق ہے نیز فقہائے  محدثین کا بھی یہی مسلک ہے۔[145]

اگر مطلقہ بائنہ حاملہ ہوتو اسے نفقہ ملے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ"

"اگر وہ حمل سے ہوں تو جب تک وضع حمل نہ ہو۔انھیں خرچ دیتے رہا کرو۔"[146]

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ "

"تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں رہتے ہو وہاں ان عورتوں کو بھی رکھو۔"[147]

نیز حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے الفاظ ہیں۔

"لَا نَفَقَةَ لَكِ ، إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا "

"تیرے لیے کوئی نفقہ نہیں البتہ اگر تو حاملہ ہوتی تو تجھے نفقہ ضرور ملتا۔"[148]

اس کی وجہ یہ ہے کہ" حمل"طلاق دینے والے کی اولاد ہے لہٰذا اس کے لیے اس کے باپ پر نفقہ واجب ہے۔اب اس کی یہی صورت ہے کہ بچے کی ماں پر مال خرچ کرے۔

امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں۔"اس مسئلے پر اہل علم کا اجماع ہے البتہ اس مسئلے میں علماء میں اختلاف یہ ہے کہ نفقہ حمل کا حق ہے یا حمل کی وجہ سے حاملہ کا۔"[149]

اس اختلاف کی تفصیل اور دائل معلوم کرنے کے لیے فقہ کی بڑی کتب کی طرف رجوع کیا جائے۔

متعدد اسباب کی وجہ سے بیوی حق نفقہ سے محروم ہو جاتی ہے ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔

جب عورت کو خاوند کے پاس جانے سے روک دیا جائے تو اس کا نفقہ خاوند کے ذمے نہ رہے گا کیونکہ نفقہ فائدہ اٹھانے کے عوض میں تھا جواب حاصل نہیں ہو رہا ہے۔

2۔جب عورت خاوند کی نافرمان ہو جائے تو اس کا "حق نفقہ"ساقط ہو جائے گا مثلاً: وہ شوہر کے بستر پر نہ آئے یا شوہر کے ساتھ ایسی جگہ رہائش اختیار نہ کرے جو اس کے لیے مناسب ہے یا وہ خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلتی ہو۔

3۔اگر عورت اپنے کسی خاص کام کے لیے سفر پر چلی گئی تب بھی اسے نفقہ نہیں ملے گا کیونکہ اس نے اپنے وجود کو خاوند سے ایسے سبب کی بنا پر دورکیا ہے جو اس کی ذات کی طرف سے تھا نہ کہ شوہر کی طرف سے۔

جس عورت کا خاوند فوت ہو گیا تو اسے خاوند کے ترکہ سے نفقہ نہیں ملے گا کیونکہ اس کے خاوند کا مال اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔اب وہ اپنے اخرجات خود برداشت کرے یا اگر تنگ دست ہوتو اس کا ولی اسے نفقہ دے گا ۔

جس حاملہ عورت کا خاوند فوت ہو گیا ہو اسے شوہر کے ترکہ میں سے حمل کا حصہ بطور نفقہ ملے گا بشرطیکہ فوت شدہ شوہر کا ترکہ ہو ورنہ حمل کا مالدار وارث حاملہ کا نفقہ برداشت کرے گا۔

اگر خاوند اور بیوی نفقے کی ایک مقدار یا قیمت پر متفق ہو جائیں یا اس کی ادائیگی میں نقد یا زیادہ یا تھوڑے عرصے تک ادھار پر رضا مند ہو جائیں تو جائز ہے کیونکہ یہ خالص ان کا حق ہے۔ اگر ان میں اختلاف پیدا ہو جائے تو روزانہ صبح کے وقت اس دن کا مطلوبہ خرچ دے دیا جائے ۔اور اناج لینے پر متفق ہو جائیں تو یہ بھی جائز ہے۔کیونکہ اس میں تکلیف بھی ہوتا ہے اور خرچ بھی آتا ہے اس لیے اگر عورت اس پر راضی ہو تو قبول کر سکتی ہے۔

خاوند پر لازم ہے کہ ہر سال شروع ہی میں پورے سال کے لیے لباس مہیا کردے۔ اگر کوئی شخص غائب ہو گیا اور اس نے بیوی کے لیے نفقہ وغیرہ کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا یا وہ خود موجود تھا لیکن اس نے بیوی کو نفقہ نہیں دیا تو ایسی حالت میں گزرے ہوئے تمام ایام کا خرچہ دینا اس پر واجب ہے کیونکہ یہ خاوند کی ذمہ داری ہے وہ امیر ہو یا غریب لہٰذا ایام بیت جانے کی وجہ سے حق نفقہ ختم نہیں ہو گا۔

شوہر پر بیوی کا نفقہ اس وقت سے شروع ہو جاتا ہے جب اس نے خود کو شوہر کے حوالے کردیا۔اگر اس کے پاس نفقہ دینے کی گنجائش نہ ہوتو عورت کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہو گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی کو نفقہ نہیں دے سکتا فرمایا :

"يفرق بينهما"

 "ان میں تفریق کر دی جائے۔"[150]

نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ "

" یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔"[151]

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کو بسانے کے لیے اپنے پاس رکھنا لیکن نفقہ وغیرہ نہ دینا یہ صورت معروف طریقے سے بسانے والی نہیں ہے۔

اگر شوہر امیر ہے لیکن وہ غائب ہو گیا اور وہ بیوی کے لیے کوئی نفقہ چھوڑ کر بھی نہیں گیا اور وہ اس کے مال میں سے وصول کرنے یا اس کے نام سے قرض لینے کی طاقت نہیں رکھتی تو حاکم کی اجازت کے ساتھ بیوی کوفسخ نکاح کا اختیار حاصل ہوگا۔ اگر اس کے ہاتھ میں شوہر کا مال آجائے تو بقدر ضرورت لے سکتی ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدہ ہند کو فرمایا تھا۔

"خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ "

"جس قدر تجھے اور تیری اولاد کو مال کفایت کرے اس قدر مناسب طریق سے لے سکتی ہو۔"[152]

واضح رہے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس وقت فرمائی جب سیدہ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے کہا تھا کہ اس کا شوہر اسے اور اس کی اولاد کو بقدر ضرورت اخراجات کے لیے مال نہیں دیتا۔

یہ جملہ احکام "شریعت اسلامی"کے کامل ہونے پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ ہرحق والے کو اس کا حق دینے کی رغبت دلاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شریعت کا مقام دوسری شریعتوں سے بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سزا دےجو اسے چھوڑ کر کافرانہ قوانین اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

"أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ "

"کیا یہ لوگ پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہو سکتا ہے۔"[153]

اقرباء اور غلاموں کو نان و نفقہ دینے کا بیان

یہاں اقرباء سے مراد انسان کے وہ قریبی رشتے دار ہیں جو صاحب فرض یا عصبہ کی حیثیت سے وارث ہوتے ہیں:"اور مملوک "سے مراد غلام لونڈی اور چوپائے وغیرہ ہیں۔

اقرباء پر خرچ کرنا تب واجب ہے جب وہ:

1۔بنیادی نسبی تعلق رکھتے ہوں مثلاً:خرچ کرنے والے کے والدین دادااور پردادا وغیرہ اسی طرح اس کی اولاد بیٹا، بیٹی پوتا اور پوتی وغیرہ۔

2۔جس پر خرچ کیا جائے وہ اس قدر  تنگ دست ہو کہ کسی شے کا مالک نہ ہو یا بقدر کفایت مال کا مالک نہ ہواور کام کاج کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔

3۔خرچ کرنے والا مالدار ہو، اس کے پاس اس قدر مال ہو جو اس کے اور اس کے اہل و عیال اور مملوک کی حاجت ضرورت سے زائد ہو۔

4۔خرچ کرنے والے اور جس پر خرچ کیا جا رہا ہے دونوں کا دین ایک ہو۔

5۔ جس فرد پر خرچ کیا جائے اگر وہ خرچ کرنے والے کی اولاد یا آباء واجداد میں سے نہیں تو ایک اضافی شرط یہ ہے کہ خرچ کرنے والا اس کے ورثاء میں ہو۔

والدین پر بقدر ضرورت خرچ کرنا واجب ہے۔

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ "

"اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو۔"[154]

واضح رہے والدین پر مال خرچ کرنا حسن سلوک میں شامل ہے بلکہ ان کے ساتھ بہت بڑا احسان ہے۔

والدین پر  بھی لازم  ہے کہ وہ اپنی اولاد پر مال خرچ کریں۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

"وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ"

"اور باپ کے ذمے ہے کہ ان (کی ماؤں) کو دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا دے۔"[155]

واضح رہے والدین کے ذمے اولاد کا خرچ اس قدر واجب ہے جو ان کی حسب طاقت ہواور اس شہر کے باشندوں میں معروف ہو۔اس میں نہ فضول خرچی ہواور نہ کنجوسی سے کام لیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدہ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے کہا تھا ۔

"خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ "

"خاوند کے مال میں سے اس قدر لے سکتی ہو جو تجھے اور تیری اولاد کے لیے مناسب اور کافی ہو۔[156]

خرچ کرنے والا اپنے جن اقرباء کا صاحب فرض یا عصبہ کی حیثیت سے وارث ہوتا ہے اگر وہ محتاج ہوں تو بقدر استطاعت ان کی ضروریات کو پورا کرنا اس پر فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَٰلِكَ ۗ "

"وارث پر بھی اس جیسی ذمے داری ہے"[157]

اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ باہم وارث بننے والوں کے درمیان جو قرابت ہے وہ اس امر کی متقاضی ہے کہ خرچ کرتے وقت وارث کا غیر وارث کی نسبت زیادہ خیال رکھا جائے۔علاوہ ازیں اس میں صلہ رحمی بھی ہے جس کی دین اسلام میں نہایت اہمیت ہے۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ"

"اور رشتے داروں کا حق ادا کرتے رہو۔"[158]

مزید برآں  بہت سی ایسی آیات ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ مالدارلوگوں پر فرض ہے کہ اپنے محتاج اقرباء پر خرچ کریں۔ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھا کہ میرے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"أُمَّكَ وَأَبَاكَ, وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ "

"تیری والدہ تیرا والد ، تیری بہن اور تیرا بھائی۔[159]

"وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ: أُمَّكَ وَأَبَاكَ, وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ, ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ"

"اس سے ابتدا کر جس نان و نفقہ تیرے ذمے ہے یعنی تیری والدہ تیرا والد ،تیری بہن اور تیرا بھائی ،پھر اس کے بعد کے قریبی رشتے دار کو دو۔"[160]

درحقیقت یہ روایت اللہ تعالیٰ کے فرمان :

"وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ""کی وضاحت کر رہی ہے۔

والد کا فرض ہے کہ وہ اکیلا اپنی اولاد کے جملہ اخراجات (نان و نفقہ وغیرہ)پورے کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدہ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کو یہی بات کہی تھی کہ"خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " اس روایت سے واضح ہوتا ہے۔کہ اکیلے باپ پر لازم ہے کہ وہ اپنے بیٹے کا نفقہ برداشت کرے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ"

"اور باپ کے ذمے ہے کہ ان (کی ماؤں) کو دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا دے۔"[161]

نیز فرمان الٰہی ہے:

"فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۖ "

"اگر تمھارے کہنے سے وہی دودھ پلائیں تو تم ان کو ان کی اجرت دے دو۔"[162]

اس آیت سے واضح ہوا کہ بچے کی رضاعت کے اخراجات اس کے باپ کے ذمے ہیں ماں کے ذمے نہیں۔

اگر کسی فقیر شخص کے اقرباء مالدار ہوں(ان میں باپ نہ ہو) تو اسے نان و نفقہ مہیا کرنے میں سب رشتے دار شریک ہوں گے اور وہ اس قدر حصہ ڈالیں گے جس قدر اس کی وراثت میں ان کا حصہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نفقہ مہیا کرنے کی مقدار کا دارومدار اس کے حق وراثت پر رکھا ہے چنانچہ ارشاد ہے۔

"وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَٰلِكَ"

"وارث پر بھی اس جیسی ذمے داری ہے"[163]

 مثلاً: کسی شخص کی دادی اور اس کا سگا بھائی دونوں مالداہوں تو دادی اس فقیر شخص کی ضروریات زندگی کا چھٹا حصہ پورا کرے باقی مال سگا بھائی مہیا کرے گا کیونکہ یہ فقیر شخص اگر مال چھوڑ کر مر گیا تو اس کے ترکہ میں سے ان دونوں کا حصہ اسی قدر ہے۔

جہاں تک غلاموں اور لونڈیوں کے نفقہ و لباس وغیرہ اور جانوروں کو خوراک وغیرہ مہیا کرنے کا مسئلہ ہے تو اس کی ذمے داری ان کے مالک پر ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

"لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ بِالْمَعْرُوفِ , وَلا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لا يُطِيقُ "

"مملوک کا کھانا اور اس کا لباس وغیرہ اس کے مالک کے ذمے ہے جو معروف طریقے سے ہواور اس پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالا جائے۔"[164]

سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت میں ہے۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ(1)جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلاَ تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، "

"تمھارے خدام تمھارے بھائی ہیں انھیں اللہ تعالیٰ نے تمھارے ماتحت کیا ہے اگر تمھارا کوئی بھائی تمھارے ماتحت ہو تو اسے وہ کچھ کھلاؤ جو خود کھاؤ اور ویسا ہی لباس پہناؤ جیسا خود پہنو اور انھیں ایسے کاموں کی تکلیف نہ دو جن کا سرانجام دینا ان کی طاقت سے بڑھ کر ہو۔[165]

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ"

"ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں (احکام) مقرر کر رکھے ہیں۔"[166]

ان دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ غلام اور لونڈی کا نان و نفقہ ان کے مالک کے ذمے ہے۔

اگر غلام نے نکاح کا مطالبہ کیا تو اس کے مالک کو چاہیے کہ اس کی شادی کرے یا اسے فروخت کر دے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَأَنكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ"

"تم میں سے جو مرد و عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیکو کار غلام اور لونڈیوں کا بھی۔"[167]

آیت میں صیغہ امر وجوب کا متقاضی ہے۔

اگر لونڈی کا بھی اسی قسم کا مطالبہ ہو تو اس کے مالک کو اختیار ہے کہ وہ اس سے وطی کرے یا اس کی کسی دوسری جگہ شادی کر دے یا اسے فروخت کر دے تاکہ اس کے فطری جذبات کی تسکین ہو۔

جو شخص کسی جانور چوپائے کا مالک ہو اس پر لازم ہے کہ اسے چارہ کھلائے پانی پلائے اور اس کی جملہ امور میں حفاظت و نگرانی کرے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے۔

"عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ، لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا، إِذْ حَبَسَتْهَا، وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ"

"ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ اس نے بلی کو باندھ کر رکھا حتی کہ وہ بھوک سے مر گئی نہ اس نے اسے کچھ کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ خود زمین کے کیڑے مکوڑے کھاپی لیتی۔"[168]

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر کوئی حیوان کسی کی ملکیت میں ہے تو وہ اس کا پورا پورا خیال رکھے اور اسے بلاوجہ تکلیف نہ دے۔ اگر بلی کو تکلیف دینے کی وجہ سے جہنم کا عذاب ہو سکتا ہے تو دیگر حیوانات میں تو بالاولیٰ عذاب ہو گا۔

جانور کے مالک کو چاہیے کہ اس پر اس کی طاقت سے زیادہ وزن نہ ڈالے کیونکہ اس سے جانور کو تکلیف ہوتی ہے اور بلاوجہ تکلیف دینا جائز نہیں۔

مالک اپنے جانور کا دودھ اس قدر نہ دوہے کہ اس کے بچے کو تکلیف ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

" لا ضرر ولا ضرار "

"نہ تکلیف اٹھاؤ اور نہ تکلیف پہنچاؤ۔"[169]

جانور پر لعنت کرنا اس کے چہرے پر مارنا یا چہرے کو آگ سے داغنا حرام ہے اگر جانور کا مالک جانور کی ضروریات پوری کرنے سے عاجز ہو تو اسے مجبور کیا جائے گا کہ اسے فروخت کرے۔ یا اجرت پر دے یا پھر اسے ذبح کرے بشرطیکہ اس کا گوشت کھایا جاتا ہو کیونکہ اسے اپنی ملکیت میں برقرار رکھ کر اس کی طبعی و فطری ضروریات کو پورا نہ کرنا ظلم ہے اور ظلم کا خاتمہ ضروری ہے۔

[1] ۔البقرۃ:2/187۔

[2] ۔الروم:30۔21۔

[3] ۔البقرۃ:2/229۔

[4] ۔النساء:4/130۔

[5] ۔البقرۃ:2/229۔

[6] ۔سنن ابی داؤد الطلاق فی الخلع حدیث 2226۔وجامع الترمذی الطلاق باب ماجاء فی المختلعات حدیث 1187وسنن ابن ماجہ الطلاق باب کراھیہ الخلع للسراۃ حدیث 2055 ومسند احمد 5/277۔

[7] ۔مجموع  الفتاوی16/397۔

[8] ۔النساء:4/19۔

[9] ۔النساء:4/19۔

[10] ۔البقرۃ:2/229۔

[11] ۔صحیح البخاری الطلاق باب الخلع و کیف الطلاق فیہ؟ حدیث 73۔52۔

[12] ۔النساء:4/20۔

[13] ۔البقرۃ:2/229۔

[14] ۔البقرۃ:2/229۔

[15] ۔البقرۃ:2/230۔

[16] ۔(ضعیف ) سنن ابی داؤد الطلاق باب فی کراھیہ الطلاق حدیث 2178۔

[17] ۔سنن ابن ماجہ الاحکام باب من بنی فی حقہ ما یضربجارہ حدیث 2340۔

[18] ۔الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ باب المحرمات فی النکاح 5/460۔

[19] ۔البقرۃ:2۔226۔227۔

[20] ۔البقرۃ:2/229۔

[21] ۔الطلاق 1/65۔

[22] ۔سنن ابن ماجہ الطلاق باب العبدحدیث 2081۔

[23] ۔البقرۃ:2/229۔

[24] ۔النساء:4/130۔

[25] ۔سنن ابن ماجہ الطلاق باب العبدحدیث 2081۔

[26]۔صحیح البخاری الطلاق باب الطلاق فی الاغلاق والکرہ والسکران قبل حدیث 5269تعلیقاً

[27] ۔النحل16/106۔

[28] ۔سنن ابی داؤد الطلاق علی غلط حدیث2193۔وسنن ابی ماجہ الطلاق باب طلاق المکرہ والناسی حدیث 2046ومسند احمد 6/276۔

[29] ۔الطلاق1/65۔

[30] ۔السنن الکبری للبیہقی :7/325۔

[31] ۔المحلی لابن حزم 10/173۔

[32] ۔ایک ہی مجلس میں دی گئیں تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوگی تین نہیں لہٰذا خاوند کو رجوع کا حق حاصل ہوگا۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ااور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے عہد میں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے ابتدائی زمانہ خلافت میں بیک وقت تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا۔ باقی رہے آیت کریمہ کے کلمات "فَإِن طَلَّقَهَا" تو حدیث شریف کی روشنی میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خاوند نے تیسری مجلس میں یا تیسرے موقع پر تیسری طلاق دے دی تو اس کے لیے وہ حلال نہ ہوگی جب تک کسی اور شخص سے اس کانکاح نہ ہواور وہ اسے طلاق نہ دے یا فوت نہ ہو جائے۔(صارم)

[33] ۔البقرۃ:2/230۔

[34] صحیح البخاری تفسیر سورۃ الطلاق حدیث 4908وصحیح مسلم الطلاق باب تحریم طلاق الحائض حدیث 1471۔

[35] ۔البقرۃ:2/229۔

[36] ۔الطلاق 1/65۔

[37] ۔سنن النسائی الطلاق باب الثلاث المجموعہ وما فیہ من التغلیظ حدیث3430۔

[38] ۔مصنف نےعرب کے ماحول کے مطابق مثالیں دی ہیں دوسری زبانوں میں ان کے محاورات اور الفاظ کا اعتبار ہوگا یعنی جو الفاظ طلاق کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں اور اپنی آغوش میں دوسرے معانی بھی رکھتے ہیں۔ وہ سب"طلاق کنایہ"میں شامل ہیں(صارم)

[39]۔سنن ابی داؤد الطلاق باب فی الطلاق علی الھزل حدیث 2194وجامع الترمذی الطلاق باب ماجاء فی الجد والھزل فی الطلاق حدیث1184۔

[40] ۔صحیح البخاری الطلاق باب الطلاق فی الاغلاق والکرہ والسکران قبل حدیث 5269۔

[41] ۔الطلاق 1/65۔

[42] ۔البقرۃ:2/231۔

[43] ۔سنن ابن ماجہ الطلاق باب الطلاق العبد حدیث2081۔

[44] ۔ہم پیچھے حاشیے میں ثابت کر چکے ہیں کہ ایک وقت کی تین طلاقیں ایک طلاق شمار ہو گی۔(صارم)

[45] ۔سنن ابی داؤد الایمان والنلور باب الیمین فی قطبعہ الرحم حدیث 3274وجامع الترمذی الطلاق واللعان باب ماجاء لا طلاق قبل النکاح حدیث 1181واللفظ لہ۔

[46] ۔الاحزاب:33۔49۔

[47] ۔صحیح البخاری البیوع باب تفسیر المشبہات قبل حدیث 2052 معلقاًوجامع الترمذی صفہ القیامہ باب حدیث اعقلہا وتوکل حدیث 2518۔

[48] ۔صحیح البخاری والوضو ءباب لا یتوضا من الشک حتی یستیقن حدیث:137۔

[49] ۔البقرۃ:2/228۔

[50]۔البقرۃ:2/229۔

[51]۔الطلاق:2/65۔

[52]۔صحیح البخاری الطلاق باب وقول اللہ تعالیٰ"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ" حدیث 5251۔وصحیح مسلم الطلاق الحائض حدیث 1471۔

[53] ۔سنن ابی داود الطلاق باب فی المراجعہ حدیث 2283والسنن الکبری للنسائی الطلاق باب الرجعہ حدیث 5755وسنن ابن ماجہ الطلاق باب حدثنا سوید بن سعید حدیث :2016۔

[54] ۔الاحزاب33۔49۔

[55] ۔البقرۃ: 2/228۔

[56] ۔البقرۃ:2/228۔

[57] ۔۔الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ الرجعۃ 5/503۔

[58] ۔الطلاق2/65۔

[59] ۔الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ الرجعۃ 5/503۔

[60] ۔البقرۃ:2/228۔

[61] ۔البقرۃ:2/230۔

[62] ۔البقرۃ:2۔226۔227۔

[63] اگر ایلاء میں قسم چار ماہ سے کم عرصے کی ہو جس کو اس نے پورا کر دیا تو اس پر قسم کا کفارہ نہیں۔ اگر ایلاء میں قسم چار ماہ سے زائد عرصے کی ہے تو وہ قسم کا کفارہ دے جو سورۃ مائدہ 5/89۔میں مذکورہے۔(صارم)

[64] ۔البقرۃ:2/228۔

[65] ۔البقرۃ:2۔226۔227۔

[66] ۔حق یہ ہے کہ ظہار صرف "أنت علي كظهر أمي "تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہے۔"سے ثابت ہوتا ہے۔

[67] ۔ المجادلہ:58۔2۔

[68]المجادلہ:58۔3۔4۔

[69]۔سنن ابی داؤد الطلاق باب فی الظہار حدیث 2221وجامع الترمذی الطلاق باب ماجاء فی المظاہر یواقع قبل ان یکفر حدیث 1199واللفظ لہ۔

[70] ۔المجادلہ:58۔3۔4۔

[71] ۔النساء:4/92۔

[72] ۔صحیح البخاری بدءالوحی باب کیف کان بدء لوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  حدیث1۔

[73] ۔سنن ابی داؤدالطلاق باب فی الظہار حدیث2214۔

[74] ۔النور:24۔23۔25۔

[75] ۔النور:24۔4۔5

[76] ۔۔النور:24۔6۔9۔

[77] ۔ صحیح مسلم اللعان حدیث 1493

[78] ۔صحیح البخاری الحدود باب للعاہر الحجر حدیث 68۔18۔وجامع الترمذی الرضاع باب ماجاء ان الولد للفراش حدیث1157۔

[79] ۔سنن ابی داؤد الصلاۃ باب متی یومر الغلام بالصلاۃ حدیث 495۔

[80] ۔مؤلف کے استدلال کو جمہور علماء نے تسلیم نہیں کیا۔ لہٰذا  یہ محل نظر ہے(صارم)

[81] ۔صحیح البخاری الجدودباب للعاہر الحجر حدیث:6818۔

[82] ۔صحیح البخاری الجدود باب للعاہر الحجر حدیث68۔18۔

[83] ۔الاحزاب 5/33۔

[84] ۔الحجرات:13۔49۔

[85] ۔البقرۃ:2/228۔

[86] ۔الطلاق:4/55۔

[87] ۔البقرۃ:2/234۔

[88] ۔سنن ابن ماجہ الطلاق باب خیار الا مۃ اذ اعفت حدیث2077۔

[89] ۔الاحزاب:33۔49۔

[90] ۔البقرۃ:2/234۔

[91] ۔الطلاق:4/65۔

[92] ۔الاحقاف:46۔15۔

[93] ۔البقرۃ:2/233۔

[94] ۔البقرۃ:2/234۔

[95] ۔اعلام الموقعین 2/76۔

[96] ۔المغنی والشرح الکبیر9/108۔

[97] ۔سنن ابی داود الطلاق باب فی المتوفی عنہا تتقل حدیث 2300۔وسنن النسائی الطلاق باب مقام المتوفی عنہا زوجہا فی یتہا حتی تحل حدیث 3559۔3560۔وجامع الترمذی الطلاق باب ماجاء ابن تعتد المتوفی عنہا زوجہا حدیث۔1204۔

[98]۔(ضعیف) منارالسبیل ص612۔613۔حدیث 2135۔والسنن الکبری للبیہقی 7/436۔تاہم شدید ضرورت کے پیش نظر عورت گھر سے باہر نکل سکتی ہے۔

[99] ۔اعلام الموقعین:2/145۔147۔

[100] ۔الطلاق:4/55۔

[101] ۔البقرۃ:2/228۔

[102] ۔سنن ابی داؤد الطہارۃ باب فی المراۃ تستخاض  حدیث 280وسنن النسائی الحیض باب ذکر الامراء حدیث 358۔

 

[103] ۔البقرۃ:2/228۔

[104] ۔الطلاق:4/55۔

[105] المغنی والشرح الکبیر لا بن قدامہ:9/90۔

[106]۔منار السبیل ص608۔حدیث:2122السنن الکبری للبیہقی بلفظ«ﻋـﺪﺓ ﺍﻷﻣـﺔ ﺇﺫﺍ ﱂ ﲢﺾ .(٣)ﺷﻬﺮﻳﻦ، ﻭﺇﺫﺍ ﺣﺎﺿﺖ ﺣﻴﻀﺘﲔ» 7/425۔

[107] ۔اس کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ایک اثر منقول ہے دیکھئےالسنن الکبری للبیہقی :7/425۔

[108] ۔المغنی والشرح الکبیر9/98۔

[109] ۔البقر:2/235۔

۔اعلام الموقعین:2/49۔[110]

[111] ۔الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ ،العدد :5/511۔512۔

[112] ۔ جامع الترمذی النکاح باب ماجاء فی الرجل یشتری الجاریہ وھی حامل بلفظ "وَلدَ غَيْرِهِ" حدیث1131 ومسند احمد 4/108وسنن ابی داؤد بلفظ( لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ....) النکاح باب فی وطء السبایا حدیث 2158۔

[113] ۔سنن ابی داود النکاح باب فی وط ء السبایا حدیث 2157۔

[114] ۔الطلاق 4/65۔

[115]۔سنن ابی داود النکاح باب فی وطاء السبایا حدیث :2157ومسند احمد:3/62۔87۔

[116] ۔ جامع الترمذی النکاح باب ماجاء فی الرجل یشتری الجاریہ وھی حامل بلفظ "وَلدَ غَيْرِهِ" حدیث1131 ومسند احمد 4/108وسنن ابی داؤد بلفظ( لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ....) النکاح باب فی وطء السبایا حدیث 2158۔

[117]۔النساء:4/23۔

[118]۔صحیح البخاری الشھادات باب الشھادۃ علی الانساب والرضاع۔۔۔حدیث 2645 وصحیح مسلم الرضاع باب تحریم الرضاعۃ من ماء الفحل حدیث 1445۔

[119]۔صحیح البخاری النکاح باب ما یحل من الدخول والنظر الی النساء فی الرضاع؟حدیث:5239۔وصحیح مسلم،الرضاع باب یحرم من الرضاع ما یحرم من الولادۃ حدیث 1444۔

[120]۔صحیح مسلم الرضاع باب التحریم بخمس رضعات حدیث:1452۔

[121] ۔البقرۃ:2/233۔

[122]۔جامع الترمذی الرضاع باب ماجاء(ماذکر) ان الرضاعۃ لا تحرم الافی الصغر دون الحولین،حدیث:1152۔

[123]۔النساء:4/23۔

[124]۔مجموع الفتاویٰ :34/52۔

[125]۔المغنی والشرح الکبیر:9/299،300۔

[126]۔سنن ابی داودالطلاق،باب من احق بالولد؟حدیث2276،ومسند احمد:2/182۔

[127]۔سبل السلام باب الحضانۃ :3/1562۔تحت حدیث :1079۔

[128]۔مجموع الفتاویٰ :17/216۔

[129]۔صحیح البخاری الصلح باب کیف یکتب ھذا ما صالح فلان بن فلان وفلان بن فلان۔۔۔؟حدیث 2699۔

[130]۔مجموع الفتاویٰ:34/122۔123۔

[131]۔1990 ء کی دہائی میں سرب نصرانی دہشت گردوں نے بوسنیا ہرزمی گوینا میں مسلمانوں کا قتل عام کیا تو ان کے ہزاروں بچے یتیم ہوگئے۔اس دوران میں"قیام امن" کے لیے وہاں نیٹو کے فوجی دستے آگئے اور نصرانی این جی اوز اور مشنری ادارے ہزاروں یتیم مسلمان بچوں کو مختلف یورپی ممالک لے گئے جہاں انھیں نصرانی بنا لیاگیا۔بعض دیگر علاقوں میں بھی ان گنت مسلم بچے نصرانی مشنریوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔یہ ایک المیہ اورلمحہ فکریہ ہے۔اسلامی ممالک بالخصوص تنظیم اسلامی کانفرنس پر یہ ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ یتیم اور لاوارث مسلمان بچوں کی اسلامی ماحول میں تعلیم وتربیت کے ادارے قائم کریں تاکہ مسلمانون کی اولاد نصرانیت کے دام ہمہ رنگ زمین سے بچائی جاسکے۔(محسن فارانی)

[132]۔سنن ابی داودالطلاق،باب من احق بالولد؟حدیث2276،ومسند احمد:2/182۔

[133]۔اعلام الموقعین :3/257۔

[134]۔جامع الترمذی البیوع باب ماجاء فی کراھیۃ الفرق بین الاخوین اوبین الوالدۃ وولدھا فی البیع،حدیث 1283۔

[135]۔سنن ابی داودالطلاق،باب من احق بالولد؟حدیث2276،ومسند احمد:2/182۔

[136]۔اعلام الموقعین 3/257،258۔

[137]۔سنن ابی داود الطلاق باب من احق بالولدحدیث 2277۔

[138]۔مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ 34/132۔

[139]۔الطلاق:7/65۔

[140]۔البقرۃ:2/228۔

[141]۔صحیح مسلم الحج باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم  حدیث 1218وسنن ابی داود المناسک باب صفۃ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم  حدیث 1905۔

[142]۔مجموع الفتاوی لشیخ الاسلام ابن تیمیہ 17/193۔بتصرف۔

[143]۔البقرۃ:2/228۔

[144]۔صحیح البخاری الطلاق باب فصہ فاطمہ بنت قیس  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   حدیث 5323۔5324۔

وصحیح مسلم الطلاق باب المطلقۃ البائن لا نفقہ لہا حدیث 1480واللفظ لہ۔

[145]۔اعلام الموقعین 3/321۔

[146]۔۔الطلاق:5۔65۔

[147]۔الطلاق 6/65۔

[148]۔سنن ابی داود الطلاق باب فی نفقہ المبتوتۃ حدیث 2290۔

[149]۔المغنی والشرح الکبیر 9/292۔

[150]۔السنن الکبر للبیہقی 7/469۔470۔

[151]۔البقرۃ:2/229۔

[152]۔صحیح البخاری النفقات باب اذالم ینفق الرجل حدیث 5364۔

[153] ۔المائدہ:5/50۔

[154]۔الانعام16۔15۔

[155]۔البقرۃ:2/233۔

[156]۔صحیح البخاری النفقات باب اذا لم  ینفق الرجل حدیث۔5364۔

[157]۔البقرۃ:2/233۔

[158] ۔بنی اسرائیل:26۔17۔

[159]۔سنن ابی داؤد الادب باب فی یر الوالدین حدیث 5140

[160]۔سنن النسائی ازکاۃ باب ایتہا الید العلیا حدیث 2533۔

[161]۔البقرۃ:2/233۔

[162]۔الطلاق:65۔6۔

[163]۔البقرۃ:2/233۔

[164]۔صحیح مسلم الایمان باب طعام المملوک مما یاکل حدیث1662۔ومسند احمد 2/247واللفظ لہ

[165]۔صحیح البخاری الایمان باب المعاصی من امر الجاھلیہ حدیث 30۔

[166]۔الاحزاب33۔50۔

[167]۔النور:24۔32۔

[168]۔صحیح البخاری المساقاۃ باب فصل سقی الماء حدیث 2364۔2365۔وصحیح مسلم السلام باب تحریم قتل الھرۃ حدیث 2242ومنار السبیل حدیث 2182واللفظ لہ۔

[169]۔سنن ابن ماجہ الاحکام باب من بنی فی حقہ مایضر بجارہ حدیث 2340۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل

طلاق کے مسائل:جلد 02: صفحہ299

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ