سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(17) استحاضہ اور اس کے احکام

  • 23692
  • تاریخ اشاعت : 2017-11-26
  • مشاہدات : 2566

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

استحاضہ اور اس کے احکام


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

استحاضہ ایسا جاری خون ہوتاہے جس کاکوئی وقت متعین نہیں ہوتا اور یہ خون بیماری کے سبب خارج ہوتا ہے۔مستحاضہ کے معاملہ میں کچھ اشکال ہوتاہے کیونکہ کبھی حیض کا خون استحاضہ کے خون کے مشابہ ہوتا ہے۔جس وقت  خون مسلسل یا اکثر اوقات میں خارج ہوتو کیا اسے حیض سمجھے گی یا اسے استحاضہ قرار دے گی جس کی وجہ سے نماز اورروزہ نہ چھوڑے گی؟ مستحاضہ کے احکام پاک عورتوں والے ہیں،جس کی تین حالتیں ہیں:

(1)۔اگر کسی عورت کو پہلی مرتبہ استحاضہ کاخون آیا اور اس کے حیض کے ایام مقرر ہیں،مثلاً:اسے ہر ماہ کے شروع یا درمیان میں پانچ یا آٹھ دن حیض آتا ہے تو یہ مقررہ دن اس کے ایام حیض شمار ہوں گے ،ان میں نماز روزہ چھوڑ دے گی اور اس حیض کےدیگر جملہ احکام جاری ساری ہوں گے،جب اس کی عادت اور معمول کے مطابق ایام حیض پورے ہوجائیں گے تو وہ غسل کرکے نماز اداکرےگی اوربقیہ خون"استحاضہ" شمار ہوگا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدہ ام حبیبہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے فرمایا:

"امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي "

"تو جتنا عرصہ حیض کی وجہ سے رکا کرتی تھی اتنے دن رک جا  پھر غسل کراور نماز پڑھ۔"[1]

اور آپ نے سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے فرمایا:

"إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَ بِحَيْضٍ. فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلاَةَ"

"استحاضہ ایک رگ کاخون ہے،حیض نہیں۔جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑدے۔"[2]

(2)۔اگر کسی عورت کی ایام حیض کے سلسلہ میں کوئی عادت اورمعمول مقرر نہیں لیکن اس کے خون میں امتیازی اوصاف موجود ہیں،مثلاً:سیاہ گاڑھا اور بدبودار ہوتو حیض ہے،اس میں نماز روزہ چھوڑدے گی۔اگروہ سرخ ہو اور وہ گاڑھا بدبودار نہ ہوتو اس صورت میں  وہ استحاضہ کا خون ہوگا،جس میں  نماز روزہ نہ چھوڑے گی۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش کوفرمایاتھا:

"إِنَّ دَمَ الْحَيْضِ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ ، وَإِذَا كَانَ الْآخَرُ، فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي"

"جب حیض کا خون آئے جوسیاہ رنگت سے پہچانا جاتا ہے،جب یہ ہوتو نمازپڑھنے سے رک جا،جب دوسری قسم کا ہوتو وضو کر اور نماز پڑھ۔"[3]

اس روایت سے واضح ہوا کہ عورت علامات وصفات سے استحاضہ اورحیض میں آسانی سےامتیاز وفرق کرسکتی ہے۔

(3)۔جب کسی عورت کی ایام حیض کے سلسلہ  میں کوئی سابقہ عادت اور معمول نہ ہو اور اسے حیض اور استحاضہ کی تمیز بھی نہ ہوتو وہ گمان غالب کے مطابق ایک ماہ کے چھ یا سات دن حیض کے سمجھ لے کیونکہ اکثر خواتین کے ایام حیض اسی قدر ہوتے ہیں،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے فرمایا:

"إِنَّمَا هِيَ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي، فَإِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا، وَصُومِي وَصَلِّي، فَإِنَّ ذَلِكِ يُجْزِئُكِ، وَكَذَلِكِ فَافْعَلِي، كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ "

"استحاضہ کا آنا شیطان کا اثر ہوتا ہے تو اللہ کے علم کے مطابق تو چھ یا سات دن ایام حیض سمجھ لے،پھر غسل کر اور جب تو اچھی طرح پاک وصاف ہوجائے توچوبیس یا تئیس دن تک روزہ رکھ اورنماز پڑھ،تیرے لیے یہ کافی ہے اور اسی طرح کرجس طرح حیض والی عورتیں کرتی ہیں۔"[4]

گزشتہ بحث کا حاصل یہ ہے کہ جس عورت کے  دن مقرر اور معروف ہیں اس کے وہی دن"ایام حیض" شمار ہوں گے اور جو عورت دونوں خونوں میں امتیاز کرسکتی ہے تو وہ امتیاز کرکے صورت حال کےمطابق عمل کرے۔اور جس عورت کے حیض کے دن مقرر نہ ہوں اور نہ وہ خون میں فرق وتمیز کرسکتی ہو تو اس کے ایام حیض چھ یا سات دن قرار پائیں گے۔یہ تطبیق کی ایک ایسی صورت ہے جس میں مستحاضہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے منقول تینوں طریقے جمع ہوجاتےہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:" علماء کے اقوال کے مطابق جن علامات سے حیض کے خون کی تعین ہوسکتی ہے،وہ چھ ہیں۔ان میں سے ایک علامت عادت ہے۔عادت ومعمول سب سے قوی علامت ہے کیونکہ اصل یہ ہے کہ جب تک یہ یقین نہ ہوجائے کہ حیض ختم ہوچکا ہے توجاری خون کو حیض ہی سمجھا جائے گا۔یا دوسری علامت تمیز ہے۔سیاہ،گاڑھے اور بدبودار خون کوحیض کا خون کہنا سرخ اور پتلے خون سے زیادہ مناسب ہے۔تیسری علامت عورتوں کی غالب اور عام عادت ہے کیونکہ قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ فردواحد پر اکثریت کے احکام ہی جاری ہوتے ہیں۔یہ تین علامات ایسی ہیں جو سنت اور قیاس سے ثابت ہوتی ہیں۔"

پھر شیخ موصوف نے بقیہ تین علامات کا ذکر کیا اور آخر میں فرمایا:"سب سے درست اور مناسب قول یہ ہے کہ ان علامات کا اعتبار ولحاظ کیا جائے جن کے بارے میں سنت نے وضاحت کردی ہے اور باقی سب نظر اندازکرنے کے قابل ہیں۔"[5]

مستحاضہ کا حکم

1۔جب اس کے(غالب گمان کے مطابق) حیض کے ایام پورے ہوجائیں تو وہ غسل کرے۔

2۔ہر نماز کے وقت استنجا کرے،فرج سے نکلنے والی آلائشوں اور نجاستوں کو صاف کرے اور انھیں روکنے کے لیے شرم گاہ میں روئی کا ا ستعمال کرے۔مناسب ہے کہ انڈر وئیر پہن لے تاکہ روئی گرنہ سکے۔

3۔ہر نماز کے لیے وضو کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مستحاضہ ہی کے بارے میں فرمایا:

"تَدَعُ الصَّلاَةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ فِيهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ" 

"وہ حیض کے دنوں میں نماز چھوڑدے۔جب حیض بند ہوجائے تو غسل کرے اور پھر ہرنماز کے لیے وضو کرے۔"[6]

اور فرمایا:

"أَنْعَتُ لَكِ الكُرْسُفَ، فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ"

"میرا مشورہ ہے روئی استعمال کرو کیونکہ وہ خون بند کردے گی۔"[7]

(1)۔آج کل بازار سے دستیاب ہونے والی حفاظتی طبی اشیاء کا استعمال مناسب ہے۔


[1]۔صحیح مسلم الحیض باب المستحاضہ وغسلھا وصلاتھا حدیث 334۔

[2]۔صحیح البخاری الوضوء باب غسل الدم،حدیث 228 وصحیح مسلم الحیض باب المستحاضہ وغسلھا وصلاتھا۔حدیث 333۔

[3]۔سنن ابی داود الطھارۃ باب من قال توضا لکل صلاۃ حدیث 304 وسنن النسائی الطھارۃ باب الفرق بین دم الحیض والاستحاضۃ حدیث 216۔217 وصحیح ابن حبان(الاحسان) الطھارۃ باب الحیض والاستحاضۃ 2/318 حدیث 1345 والمستدرک للحاکم 1/174 حدیث 618۔

[4]۔ جامع الترمذی الطھارۃ باب ماجاء فی المستحاضۃ انھا تجمع بین الصلاتین یغسل واحد حدیث 128 وسنن ابی داود الطھارۃ باب اذا اقبلت الحیضۃ تدع الصلاۃ حدیث 287 وسنن ابن ماجہ الطھارۃ وسننھا باب ماجاءفی البکر اذا ابتدات مستحاضۃ اوکان لھا ایام حیض فنسیتھا حدیث 627۔

[5]۔مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  21/630۔631۔

[6]۔سنن ابی داود الطھارۃ باب من قال تغتسل من طھر الی طھر،حدیث 297 وجامع الترمذی الطھارۃ باب ماجاء ان المستحاضۃ تتوضا لکل صلاۃ،حدیث 126 وسنن ابن ماجہ الطھارۃ وسننھا باب ماجاء فی المستحاضۃ التی قد عدت ایام اقرائھا قبل ان یستمر بھاالدم،حدیث 625۔

[7]۔سنن ابی داود الطھارۃ باب اذا اقبلت الحیضۃ تدع الصلاۃ حدیث 287 وجامع الترمذی الطھارۃ باب ماجاء فی المستحاضۃ انھا تجمع بین الصلاتین بغسل واحد حدیث 128 وسنن ابن ماجہ الطھارۃ وسننھا باب ماجاء فی المستحاضۃ التی قد عدت ایام اقرائھا۔۔۔حدیث 622۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل

جلد 01: صفحہ 74

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ