سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(301) مختصر نام سے بلانا؟

  • 23670
  • تاریخ اشاعت : 2017-11-25
  • مشاہدات : 191

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کسی کو بلاتے وقت اسے مختصر نام سے بلانا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی کو محبت و پیار اور شفقت سے مختصر نام سے بلانا جائز ہے۔ بشرطیکہ اس اختصار کا معنی غلط نہ بنتا ہو اور جسے مختصر نام سے بلایا جا رہا وہ برا محسوس نہ کرتا ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بعض اوقات عائش کہہ کر بلاتے تھے، ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما «يا عائش هذا جبريل يقرئك السلام» فقلت وعليه السلام ورحمة الله وبركاته ترى ما لا ارى

(بخاری، المناقب، فضل عائشۃ، ح: 2768)

"ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: عائش! یہ جبریل ہیں تمہیں سلام کہتے ہیں، تو میں نے کہا: وعليه السلام ورحمة الله وبركاته ۔ آپ کو وہ چیزیں دکھائی دیتی ہیں  جو ہمیں نہیں دکھائی دیتیں۔"

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوهر کہہ کر بلایا تھا۔ ابوہریرہ فرماتے ہیں:

قال لى النبى صلى الله عليه وسلم «يا اباهر»

(بخاری، الادب، من دعا صاحبہ فنقص من اسمہ حرفا)

"مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہر!"

(واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے: بخاری، الاطمعۃ، ح: 5375)

اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک غلام انجشہ رضی اللہ عنہ کو انجش کہہ کر بلایا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

كانت ام سليم فى الثقل وانجشة غلام النبى صلى الله عليه وسلم يسوق بهن فقال النبى صلى الله عليه وسلم «يا انجش! رويدك سوقك بالقوارير»

(بخاری، الادب، من دعی صاحبہ ۔۔، ح: 6207)

"ام سلیم بھی اُن عورتوں میں تھیں (جو اونٹوں پر سوار جا رہی تھیں) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام انجشہ ان اونٹوں کو ہانک رہا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انجش! ذرا اس طرح (آہستگی سے) لے چل جیسے شیشوں کو لے جاتا ہے۔"

لیکن نام بگاڑنا درست نہیں جیسے اقبال کو بالا، منور کو منا، جاوید کو جیدا اور محمود کو مودا وغیرہ کہنا۔ نام بگاڑنے سے بسا اوقات عقیدہ توحید پر بھی حرف آتا ہے۔ بعض دفعہ نام بگاڑنا اللہ تعالیٰ کی بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے، مثلا عبداللہ کو عبداللے یا دُلا کہہ کر بلانا، عبدالرشید کو شِیدا، عبدالرحمٰن کو مانا، رب نواز کو ربُو کہہ کر بلانا اللہ تعالیٰ کی بے ادبی ہے۔ بعض لوگ عبدالرحمٰن نامی شخص کو رحمٰن کہہ کر بلاتے جو غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو رحمٰن کہنا صحیح نہیں۔ اور کچھ لوگ تو بچوں کا نام ہی رحمٰن رکھ دیتے ہیں، یہ عقیدہ توحید کے خلاف ہے، ایسا نام فورا تبدیل کر دینا چاہئے۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

اسلامی آداب و اخلاق،صفحہ:631

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ