سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(300) چھینک آئے تو کیا کوئی یاد کر رہا ہوتا ہے؟

  • 23669
  • تاریخ اشاعت : 2017-11-25
  • مشاہدات : 438

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب کسی انسان کو چھینک آتی ہے تو کیا اسے کوئی یاد کر رہا ہوتا ہے؟ ہمارے ایک دوست کو چھینک آئی تو انہوں نے کہا: لا حول ولا قوة الا بالله ۔ میں نے ان سے کہا: یہ تم نے کیا کہا ہے؟ الحمدلله کہنا چاہئے تو انہوں نے کہا: میں بھی یہی کہا کرتا تھا، مجھے کسی عالم نے کہا تھا لا حول ولا قوة الا بالله کہنا چاہئے کیونکہ کوئی (برے الفاظ میں) یاد کرتا ہے تو واقعتا کوئی یاد کر رہا ہوتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چھینک آنے پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنی چاہئے۔ حدیث نبوی ہے:

(إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَحَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يُشَمِّتَهُ)

(بخاری، الادب، ما یستحب من العطاس، ح: 6223)

"یقینا اللہ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے جب کسی کو چھینک آئے تو وہ اللہ کی تعریف کرے تو سننے والے ہر مسلمان پر حق ہے کہ چھینک کا جواب دے۔"

دو آدمیوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ نے ایک کی چھینک کا جواب دیا دوسرے کی چھینک کا جواب نہ دیا۔ تو اس آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی چھینک کا جواب دیا مگر میری چھینک کا جواب نہیں دیا؟ تو آپ نے فرمایا:

(ان هذا حمدالله ولم تحمدالله)
(ایضا، لا یشمت العاطس اذا لم یحمداللہ، ح: 6225)

"اس نے اللہ کی تعریف کی تھی اور تم نے اللہ کی تعریف نہیں کی تھی۔"

چھینک آنے پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کے مختلف الفاظ احادیث میں ملتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمدلله کہے تو اس کا مسلمان بھائی یا ساتھی کہے: يرحمك الله (اللہ آپ پر رحم کرے) جب وہ اسے يرحمك الله کہہ دے تو وہ کہے:

(يهديكم الله ويصلح بالكم)

"اللہ آپ کو ہدایت دے اور تمہارے حالات درست کرے۔"

(ایضا، اذا عطس کیف یشمت، ح: 6224)

بعض احادیث میں (الحمدلله على كل حال) (ہر حالت میں اللہ کی تعریف ہے) کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ (ترمذی: 2738)

رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی مجھے چھینک آئی تو میں نے کہا:

(الحمدلله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا و يرضٰى) (ایضا، ح: 404)

"ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، تعریف بہت زیادہ، پاکیزہ جس میں برکت کی گئی ہے جس پر برکت نازل کی گئی ہے جس طرح ہمارا رب چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے۔"

جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا:

نماز میں یہ الفاظ کس نے کہے ہیں؟ میں نے عرض کی: میں نے کہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تیس سے زیادہ فرشتے اس (کلام) کی طرف جلدی سے بڑھے کہ ان میں سے کون اسے لے کر اوپر چڑھے۔"

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ یہ الفاظ کہے جائیں تو اور زیادہ ثواب ملتا ہے۔

مذکورہ بالا تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ چھینک آنے پر الحمدللہ کہنا چاہئے نہ کہ لا حول ولا قوة الا بالله۔ بعض لوگ چھینک آنے پر سورۃ الفاتحہ پڑھتے ہیں اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں۔ دوسری یہ بات بھی غلط ہے کہ جب چھینک آتی ہے تو کوئی یاد کر رہا ہوتا ہے۔ چھینک تو جسمانی مسئلہ ہے جس کا تعلق انسان کے نظام تنفس کے ساتھ ہے۔ جب چھینک آتی ہے تو دماغ میں رکے ہوئے فضلات اور بخارات خارج ہو جاتے ہیں۔ دماغی رگوں اور پٹھوں کی رکاوٹیں ختم ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے انسان کئی بیماریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ لوگوں کا یہ کہنا کہ جب چھینک آتی ہے تو کوئی یاد کر رہا ہوتا ہے مشاہدے کے خلاف ہے اور عقلی طور پر بھی غلط ہے۔

کئی دفعہ کوئی یاد کر رہا ہوتا ہے مگر چھینک نہیں آتی۔

کوئی یاد نہ کر رہا تب بھی چھینک آ جاتی ہے، بعض دفعہ کسی کو جاننے والے دو چار یا آٹھ دس آدمی ہوتے ہیں ان میں سے کتنے ہوں گے جو رات کے دو بجے اسے یاد کر رہے ہوں گے مگر چھینک تو اس وقت بھی آجا تی ہے۔

اگر یہ بات درست ہو تو پھر تو جس سے دشمنی کرنی ہو اُسے یاد کرنا شروع کر دیا جائے تاکہ وہ ہر وقت چھینکیں ہی مارتا رہے اور اپنا کوئی کام نہ کر سکے بلکہ چھینکیں مار مار کر بے ہوش ہو جائے!

بعض اوقات سورج کی طرف تِرچھا دیکھنے سے بھی چھینک آ جاتی ہے۔

بعض چیزوں کو سونگھنے سے بھی چھینکیں آتی ہیں۔

بعض اوقات آدمی کو علاج کے طور پر بھی چھینکیں دلوائی جاتی ہیں۔

اگرچہ چھینک کو روکنا درست نہیں مگر آدمی روکنا چاہے تو ایک خاص وقت میں ناک بند کر کے روک بھی سکتا ہے، تو کیا ناک بند کرنے سے یاد کرنے والے کا منہ بھی بند ہو جاتا ہے کہ وہ یاد کرنا چھوڑ دیتا ہے!

مزید برآں چھینک تو دو چار سیکنڈ کی بات ہوتی ہے جبکہ اتنے وقت میں کوئی کسی کو کیا یاد کر سکتا ہے۔ لہذا یہ بات ہر لحاظ سے قطعی طور پر غلط ہے کہ جب چھینک آتی ہے تو کوئی یاد کر رہا ہوتا ہے۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

اسلامی آداب و اخلاق،صفحہ:628

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ