سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(294) پیالہ کٹ وغیرہ کی شرعی حیثیت؟

  • 23663
  • تاریخ اشاعت : 2017-11-25
  • مشاہدات : 102

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ہمارے معاشرے میں جہاں کئی اور فیشن رواج پا رہے ہیں وہاں بالوں کے کاٹنے کے بارے میں بھی کئی نت نئے رواج جنم لے رہی ہیں، کہ جس کے مطابق کچھ بال کاٹ دئیے جاتے ہیں اور بعض چھوڑ دئیے جاتے ہیں، مثلا پیالہ کٹ وغیرہ نیز بچوں کے بال اس انداز سے کاٹے جاتے ہیں کہ چند بالوں کو چھوڑ کر باقی سب بال کاٹ دیے جاتے ہیں، یہ بالون کی چوٹی کسی بزرگ کے نام پر رکھی جاتی ہے۔ کیا اس طرح کا طرزِ عمل درست ہے؟ خصوصا بچوں کے بعض بال کاٹنے اور بعض باقی رکھنے کے حوالے سے راہنمائی کریں۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے معاشرے میں جہاں کئی اور فیشن رواج پا رہے ہیں وہاں بالوں کے کاٹنے کے بارے میں بھی کئی نت نئے رواج جنم لے رہی ہیں، کہ جس کے مطابق کچھ بال کاٹ دئیے جاتے ہیں اور بعض چھوڑ دئیے جاتے ہیں، مثلا پیالہ کٹ وغیرہ نیز بچوں کے بال اس انداز سے کاٹے جاتے ہیں کہ چند بالوں کو چھوڑ کر باقی سب بال کاٹ دیے جاتے ہیں، یہ بالون کی چوٹی کسی بزرگ کے نام پر رکھی جاتی ہے۔ کیا اس طرح کا طرزِ عمل درست ہے؟ خصوصا بچوں کے بعض بال کاٹنے اور بعض باقی رکھنے کے حوالے سے راہنمائی کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سر کے کچھ بال منڈوانا اور کچھ چھوڑ دینا عربی زبان میں قزع کہلاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع سے منع کیا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

نهى رسول الله عن القزع

(بخاری، اللباس، القزع، ح: 5921، مسلم، اللباس، کراھیۃ القزع، ح: 2120)

"عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

«رائ رسول الله صلى الله عليه وسلم صبيا قد حلق بعض شعره و ترك بعضه فنهاهم عن ذلك وال:«احلقوه كله او اتركوه كله»

(ابوداؤد، الترجل، الذؤابۃ، ح: 4195، مسلم، ح: 2120)

"اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے سر کے کچھ بال مونڈھے ہوئے ہیں اور کچھ چھوڑے ہوئے، تو آپ نے لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا: اس کے سارے بال مونڈ دو یا سارے چھوڑ دو۔"

اگر کسی نے سر کے چند بال (چوٹی کی صورت میں) لمبے رکھنے کی کسی بزرگ کے لیے نذر مانی ہو تو اور بھی برا ہے بلکہ یہ شرک کے زمرے میں آ جائے گا۔ کیونکہ غیراللہ کے نام کی نذر ماننا شرک ہے۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

اسلامی آداب و اخلاق،صفحہ:620

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ