سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(259) فکسڈڈ ذیپازٹ پر رقم کی وصولی؟

  • 23629
  • تاریخ اشاعت : 2017-11-18
  • مشاہدات : 197

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کچھ لوگ بینک میں ایک مقررہ رقم رکھ کر مثلا پچاس ہزار یا لاکھ، دو لاکھ رکھ کر ہر ماہ اس رقم پر پانچ ہزار یا دس ہزار روپے لیتے ہیں اور اس کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ بینک ہمارے روپے سے کاروبار کرتا ہے، اس واسطے ہمارے لیے ہر ماہ یہ رقم لینی جائز ہے جبکہ اصل رقم، جو کہ جمع کی گئی ہے، وہ جوں کی توں قائم رہتی ہے اور مقررہ مدت کے بعد وہ تمام رقم جو کہ جمع کی گئی تھی، واپس مل جاتی ہے تو کیا شرعی اعتبار سے ایسا کرنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسا کرنا جائز نہیں، اس لیے کہ اس رقم پر وہ پر وہ ہر ماہ جو پانچ یا دس ہزار روپے لیتا ہے وہ شرعی نقطہ نظر سے سود ہے۔ گویا اس نے ایک رقم دی ہے اور ماہانہ یا سالانہ اس رقم پر جو سود ملتا ہے اسے لے کر وہ استعمال کرتا ہے تو یہ شرعی نقطہ نظر سے سود خوری ہوئی اور یہ جائز نہیں ہے۔ (سود اور اس کے احکام و مسائل، ص: 91، از ڈاکٹر فضل الرحمٰن مدنی)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

خریدوفروخت اور حلال و حرام کے مسائل،صفحہ:558

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ