سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(174) ماہ رمضان میں شیطانی اعمال کیوں ہوتے ہیں؟

  • 23544
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-27
  • مشاہدات : 1568

سوال

(174) ماہ رمضان میں شیطانی اعمال کیوں ہوتے ہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم نے سنا ہے کہ رمضان المبارک میں شیطان قید کر دیے جاتے ہیں، اگر ایسا ہی ہے تو پھر اس میں جو شیطانی کام قتل و غارت، چوری، ڈاکہ زنی، دغا بازی، قمار بازی اور حرام خوری وغیرہ کیونکر ظہور پذیر ہوتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے صحیح سنا ہے کہ رمضان المبارک میں شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں۔ کئی احادیث میں (صفدت الشياطين) (مسلم، ح: 1079)، (تصفد فيه الشياطين) (مسند احمد 411/5) اور (سلسلت الشياطين) (بخاري، ح: 1899) جیسے الفاظ آئے ہیں۔

بعض احادیث میں (مردة الشياطين) (سرکش شیاطین) کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ (نسائي، ح: 2104) اور سرکش شیاطین کو زنجیروں میں جکڑنے کا ہی نتیجہ ہوتا ہے کہ اس ماہ مبارک میں گناہوں میں مجموعی طور پر کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اعمال صالحہ اکثر اور عام دیکھنے میں آتے ہیں۔ اس کا ایک منہ بولتا ثبوت مساجد میں نمازیوں کا ہجوم بھی ہے، وہ لوگ جنہوں نے کبھی مسجد کا منہ نہیں دیکھا ہوتا وہ بھی رمضان المبارک میں پیش پیش ہوتے ہیں۔

جو لوگ رمضان المبارک کی قدر کرتے ہیں اور روزوں کے آداب و شرائط کا لحاظ رکھتے ہیں وہ یقینا شیاطین سے کافی ھد تک محفوظ رہتے ہیں۔

یہ ضروری نہیں کہ نافرمانای صرف شیطان کے اکسانے یا بہکانے پر ہی ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر شیطان کے لیے ایک شیطان ہوتا اور پھر اس طرح یہ سلسلہ چل نکلتا اور یہ بھی معلوم ہے کہ ابلیس سے پہلے کوئی شیطان نہیں تھا تو اس نے جو معصیت کی تھی اس کا سبب اس کا نفس ہی تھا۔ (حاشیه مسلم از ابوالحسن سندھی، الصیام)

شیاطین کے علاوہ شر اور نافرمانی کے دیگر بھی کئی اسباب ہیں جیسے:

"النفوس الخبيثة والعادات القبيحة والشياطين الإنسية"

"ناپاک نفس، بری عادات اور انسانی شیطان۔" (فتح الباري 249/8، مکتبہ قاہرہ)

قرآن حکیم میں ہے:

﴿ إِنَّ النَّفسَ لَأَمّارَةٌ بِالسّوءِ... ﴿٥٣﴾... سورة يوسف

’’بےشک نفس برائی پر اُکسانے والا ہے۔‘‘

خطبہ مسنونہ میں ہے:

(ونعوذ بالله من شرور انفسنا)(ابن ماجه، النکاح، خطبة النکاح، ح: 1893)

’’ہم اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔‘‘

بعض لوگ برائیوں میں اس قدر آگے نکل جاتے ہیں کہ نافرمانیاں کرتے کرتے خود شیطان صفت بن جاتے ہیں۔ سورۃ الناس میں اس کا تذکرہ ملتا ہے کہ شیطان انسانوں سے بھی ہوتے ہیں۔ ﴿مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿٦﴾

یہ شیطان صفت لوگ ہی ہوتے ہیں جن کے دلوں پر تالے اور مہریں لگ چکی ہوتی ہیں اور ان کی بدعملی کی بنا پر ان کے دل زنگ آلود ہو چکے ہوتے ہیں۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

رمضان المبارک اور روزہ،صفحہ:439

محدث فتویٰ

تبصرے