سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(113) بدعت حسنہ

  • 23483
  • تاریخ اشاعت : 2017-11-08
  • مشاہدات : 116

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بدعات و خرافات سے بھرپور "الحقیقۃ" نامی ایک رسالہ نظر سے گزرا، جس میں ایک مقالہ نگار نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ بدعت حسنہ ایجاد کرنے میں ثواب ہوتا ہے۔ بلکہ جو ان پر عمل کرنے والے ہوں گے ان کا بھی ثواب اچھے نئے کاموں کے موجد کو ہو گا۔ اور بدعت وہ مردود ہے جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔ جیسے نوحہ کرنا ہے، اس موقف کو انہوں نے حدیث کے طور پر بیان کیا ہے۔ کیا یہ موقف درست ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بدعات و خرافات سے بھرپور "الحقیقۃ" نامی ایک رسالہ نظر سے گزرا، جس میں ایک مقالہ نگار نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ بدعت حسنہ ایجاد کرنے میں ثواب ہوتا ہے۔ بلکہ جو ان پر عمل کرنے والے ہوں گے ان کا بھی ثواب اچھے نئے کاموں کے موجد کو ہو گا۔ اور بدعت وہ مردود ہے جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔ جیسے نوحہ کرنا ہے، اس موقف کو انہوں نے حدیث کے طور پر بیان کیا ہے۔ کیا یہ موقف درست ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دین اسلام کی تکمیل کر دی۔ اور اسی دین کی پیروی کو ذریعہ نجات قرار دیا اور اس کی مخالفت کو ناکامی کا سبب گردانا۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں عبادات کے اصول (دین کے طور طریقے) مقرر کئے وہاں احکام و عبادات کے طریقے بھی متعین مکمل کئے جو کہ مکمل شکل میں اہل اسلام کے پاس محفوظ ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَضيتُ لَكُمُ الإِسلـٰمَ دينًا ...﴿٣﴾... سورة المائدة

دین و شریعت چونکہ مکمل ہے۔ اس لیے اسی کی پیروی کا حکم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ ان سے انحراف گمراہی ہے۔ ارشاد نبوی ہے:

(فإنه من يعش منكم بعدي فسيرى اختلافا كثيرا ، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين تمسكوا بها ، وعضوا عليها بالنواجذ ، وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة ، وكل بدعة ضلالة) (ابوداؤد، السنة، لزوم السنة، ح: 4607)

"تم میں جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا پس تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا۔ اسے خوب مضبوطی سے تھامنا، اسے ڈاڑھوں سے مضبوط پکڑنا، نئے نئے کام (بدعات) ایجاد کرنے سے بچنا۔ اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔"

اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعات کی واضح طور پر اور مطلقا تردید کی اور ہر بدعت کو گمراہی قرار دیا۔ (وكل بدعة ضلالة) کے الفاظ قابل غور ہیں۔ بدعت ظاہری طور پر اچھی ہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ وہ ثواب کے حصول کے لیے اور دین قرار دے کر کی جاتی ہے۔ مگر خلاف سنت ہونے کی وجہ سے مذموم قرار پاتی ہے۔ مثلا ایک آدمی ساری رات عبادت کرنے کو معمول بناتا ہے تو بادی النظر میں یہ عمل بہت اچھا ہے مگر خلافِ سنت ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ اسی طرح ایک آدمی ہمیشہ یعنی بارہ مہینے کے روزے رکھتا ہے یہ عمل بھی بظاہر اچھا ہے مگر خلافِ سنت ہونے کی وجہ سے مسترد ہو گا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای:

(لا صام من صام الابد) (مسلم، الصیام، النھی عن صوم الدھر، ح: 1159)

حالانکہ نفلی روزے رکھنا باعث اجروثواب ہے۔ مگر طریقہ بھی وہی اختیار کرنا چاہئے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا تھا۔ یا جس کی آپ نے اجازت دی تھی۔ اگر ایک آدمی مغرب کے چار فرض ادا کرے تو چوتھی رکعت میں ظاہر ہے قرآن کی تلاوت اور رکوع و سجود میں تسبیحات پڑھے گا اور مغرب کے چار فرض پڑھنے سے آپ نے منع بھی نہیں کیا۔ تو کیا اس وجہ سے کہ آپ نے منع نہیں کیا اور تلاوت قرآن و تسبیحات پڑھنا اچھا کام ہے، مغرب کی فرض رکعات چار عدد پڑھنا جائز ہو گا؟ بدعات کو حسنہ قرار دینے والوں کے نزدیک تو جائز ہونا چاہئے! جب کہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔ مگر اپنا اُلو سیدھا کرنے کے لیے "اچھی بدعت" کا انوکھا سہارا ڈھونڈ لیا جاتا ہے۔

بدعات کو حسنہ قرار دینے والے رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر غور کریں اور اپنی فکر کا زاویہ درست کر لیں۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

تین آدمی (علی، عبداللہ بن عمرو اور عثمان بن معظون رضی اللہ عنہم) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھر آئے، انہوں نے آپ کی عبادت کا حال پوچھا، جب انہیں بتلایا گیا تو انہوں نے اس عبادت کو کم خیال کیا، کہنے لگے: ہم کہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہاں! ہمیں آپ سے کیا نسبت، آپ کے اللہ نے اگلے پچھلے سب قصور معاف کر دیے ہیں (ہم لوگ گنہگار ہیں ہمیں بہت عبادت کرنا چاہئے) ان میں سے ایک کہنے لگا: میں تو ساری عمر رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا، دوسرا کہنے لگا: میں ہمیشہ روزہ دار رہوں گا کبھی دن کو افطار نہیں کروں گا اور تیسرا کہنے لگا: میں تو عمر بھر عورتوں سے الگ رہوں گا، نکاح نہیں کروں گا۔ اتنے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ نے فرمایا:

(أَنْتُمْ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِله وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي)

(بخاری، النکاح، الترغیب فی النکاح، ح: 5063)

"آپ لوگوں نے ایسی ایسی باتیں کہیں؟ سن لو! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور میں تم سب سے بڑھ کر پرہیزگار ہوں مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں تو جو کوئی میرے طریق کو پسند نہ کرے وہ میرا نہیں ہے۔"

کاش کہ دین کو اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق ڈھالنے والے (فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي) پر غور کریں۔

مزید برآں جن روایات سے استدلال کر کے بدعات ایجاد کرنے کا جواز کشید کرنے کی کوشش کی گئی ہے اگر اُن کا وہی مچلب و معنیٰ ہوتا جو یہ لوگ مراد لیتے ہیں تو یہ "کارخیر" سب سے پہلے صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ دین سر انجام دیتے کیونکہ یہ لوگ نیکی کے کاموں میں سبقت کرنے والے تھے۔ ان حضرات نے اس طرح کی کوئی بات نہ کہی اور نہ کوئی ایسا عمل ہی کیا، جس سے ہمیں یقینی طور پر معلوم ہوا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے جو "بدعت حسنہ" کے حمایتی سمجھتے ہیں۔

سوال میں جس حدیث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اگر اس کا معنی یہ ہوتا کہ ایجادِ بدعت اچھی چیز ہے تو عہدِ رسالت میں نہ صرف یہ کہ ایسا کرنے کی اجازت ہوتی بلکہ بدعت کے موجد کی حوصلہ افزائی کی جاتی جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث میں گزرا ہے کہ بدعات ایجاد کرنے کی حوصلہ شکنی اور ممانعت کی گئی ہے۔

حدیث میں تو دین کے ثابت شدہ عمل کے اجراء کی بات کی گئی ہے۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعت حسنہ نہیں سنت حسنہ کے الفاظ استعمال کیے۔ اس حدیث سے "بدعت حسنہ" کی حمایت حاصل کرنے والے اگر مکمل حدیث اس کے شانِ ورود سمیت ذکر کریں تو اُن کی قلعی کھل جائے۔ حدیث ثابت شدہ شرعی عمل کے اجراء کے بارے میں ہی ہے۔ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

ہم ان کے اول حصہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک جماعت ننگے بدن آئی، اون کی دھاری دھار چادریں یا کمبل ڈالے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے کہ جن میں اکثر بلکہ سب مضر قبیلے کے لوگ تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اُن کا فرقہ و فاقہ دیکھ کر متغیر ہو گیا۔ آپ (گھر کے) اندر گئے پھر باہر آئے اور بلال کو حکم دیا، انہوں نے اذان پڑھی (نماز کا وقت ہو چکا تھا) اور تکبیر کہی، آپ نے نماز پڑھائی، خطبہ دیا اور یہ آیت پڑھی:

"لوگو! اس اللہ سے ڈرو کہ جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ۔۔۔

اور دوسری وہ آیت پڑھی جو سورۃ الحشر میں ہے:

ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور غور کرو کہ تم نے کل کے لیے کیا آگے پہنچا رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: صدقہ کرو اشرفی، درہم، کپڑے، گیہوں کے صاع اور کھجور کے صاع سے (صاع: اڑھائی کلو) حتی کہ آپ نے فرمایا: اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ انصار میں سے ایک صاحب ایک تھیلی لے کر آئے گویا کہ ان کا ہاتھ اس سے تھکا جاتا ہے بلکہ تھک ہی گیا تھا پھر تو لوگوں کا تانتا بندھ گیا یہاں تک کہ میں نے دو ڈھیر کھانے اور کپڑے کے دیکھے اور میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھا کہ وہ چمک رہا ہے گویا کہ وہ سونے کا ٹکڑا ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(من سن في الإسلام سنة حسنة كان له أجرها وأجر من عمل بها من بعده لا ينقص من أجورهم شيئاً، ومن سن في الإسلام سنة سيئة كان عليه وزرها ووزر من عمل بها من بعده لا ينقص من أزوارهم شيئاً)

(مسلم، الزکوٰۃ، الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ او بکلمۃ طیبۃ، ح: 1017)

''جو شخص اسلام میں کسی نیک کام کی بنیاد ڈالے تو اس کے لیے اس کے عمل اور جو اُس کے بعد عمل پیرا ہوں ان کا ثوب بھی ہے بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے اور جس نے اسلام میں بری بات نکالی تو اس پر اس کے عمل کا بھی گناہ ہے اور جو اُس کے بعد اس پر عمل کریں ان کا بھی گناہ ہے بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کچھ کمی ہو۔"

یہ حدیث بھی واضح ہے اور اس کی مزید وضاحت دیگر احادیث سے بھی ہو جاتی ہے جس سے یہ بات پوری طرح کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو جاری کرنے والے کے لیے مذکورہ بالا اجروثواب کا اعلان کیا گیا ہے نہ کہ بدعات ایجاد کرنے والے اور دین کا حلیہ بگاڑنے والے کے لیے۔ ایک حدیث میں ہے:

(مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى, كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ, لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا, وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ, كَانَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ, لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أوزارهم شَيْئًا)

(مسلم، العلم، من سن سنۃ حسنۃ او سیئۃ، ح: 2674)

"جس نے کسی کو ہدایت کی طرف بلایا تو اسے ان تمام لوگوں کے برابر اجر ملے گا جو اُس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا، یہ ان کے اجر سے کچھ کمی نہیں کرے گا اور جو کسی کو کسی گمراہی کی طرف بلائے تو اس پر ان تمام لوگوں کے گناہوں کا اتنا ہی وبال ہو گا جو اُس کی پیروی کرنے والوں کو گناہ کرنے کا ہو گا۔ یہ ان کے گناہوں میں سے کچھ کمی نہیں کرے گا۔"

اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ)

(مسلم، الامارۃ، فضل اعانۃ الغازی۔۔، ح: 1893)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلامِ ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَوَاللَّهِ لأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلا وَاحِدًا ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ)

(بخاری، الجھاد، فضل من اسلم علی یدیہ رجل، ح: 3009، مسلم، فضائل الصحابۃ، من فضائل علی رضی اللہ عنہ، ح: 2406)

"پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ تم پر اللہ تعالیٰ کے یہ یہ حق واجب ہیں، اللہ کی قسم! تمہارے ذریعے سے کسی ایک آدمی کا ہدایت یافتہ ہو جانا تمہارے لیے (بیش قیمت) سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔"

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ افکارِ اسلامی

سنت و بدعت،صفحہ:319

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ