سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(55) مخلوط سوئمنگ پول میں گارڈ کی نوکری کرنا

  • 23342
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-25
  • مشاہدات : 61

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں تیراکی تالاب میں گارڈ کی حیثیت سےکام کرتا ہوں۔میرا کام ڈوبتے ہوئے لوگوں کوبچانا ہے۔تیرنےوالوں میں مرد بھی ہیں اور زیادہ عورتیں ہیں جو تیراکی کا مختصر لباس پہن کرتیرتی ہیں، کیا یہ کام میرے لیے جائز ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں تیراکی تالاب میں گارڈ کی حیثیت سےکام کرتا ہوں۔میرا کام ڈوبتے ہوئے لوگوں کوبچانا ہے۔تیرنےوالوں میں مرد بھی ہیں اور زیادہ عورتیں ہیں جو تیراکی کا مختصر لباس پہن کرتیرتی ہیں، کیا یہ کام میرے لیے جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسی عورت جومردوں کی موجودگی میں تیرنے کےلیے آتی ہیں،بہت بڑے منکر کاارتکاب کررہی ہیں۔ بہتر صورت تویہی ہےکہ وہ عورتوں  کےساتھ مخصوص تالابوں میں جائیں جہاں صرف خواتین گارڑ زہی ہوں۔سائل کےسوال سےاندازہ ہوتاہےکہ اس کی مراد غیرمسلم عورتوں سےہےجن کےپاس شرم وحیا کا اسلام تصور سرے سےموجودنہیں ہےلیکن ایک مسلمان مرد کاایسی جگہ ملازمت کرناجہاں عورتیں اپنے اختیار ارادہ کےساتھ مختصر اور بےحیا لباس میں آکر تیراکی کریں اورجہاں مردگارڈ کوہروقت ان پرنظر رکھنا مطلوب ہو، شرعاً صحیح نہیں ہے۔نہ صرف یہ کہ اس کام میں ایک منکر کےساتھ تعاون ہوتا ہےبلکہ ہروقت ایک دوسر ے منکر کابھی ارتکاب ہوتا ہےاور وہ ہےکہ خواتنی کونیم برہنگی کی حالت میں دیکھتے رہنا۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

حلال وحرام کےمسائل،صفحہ:366

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ