سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(49) باپ کی کمائی مشکوک ہو اور ماں نےکم علمی سے سود لیا ہو تو ایسی جائیداد کی وراثت

  • 23336
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-03
  • مشاہدات : 649

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک شادی شدہ خاتون ہوں، دوبچے ہیں اور میرے شوہر متوسط آمدنی کےمالک ہیں۔ میری والدہ کاانتقال ہوگیا ہےاورانہوں نے اپنے پیچھے کچھ مال،سونا اوراپنےآبائی شہر میں ایک مکان چھوڑا ہے۔ یہ سب کچھ انہیں ہمارے والد سےبطور ہدیہ ملا تھا لیکن میرے والد کی کمائی کےبارےمیں شک کیا جاتاہے کہ وہ حرام کمائی تھی لیکن جب والدہ نےاس بارے میں پوچھا تووالد نےاس کمائی کامال حرام ہونے سےانکار کیا۔ میری والدہ نےیہ مال بھی کسی حرام مصرف میں خرچ نہیں کیا بلکہ اس مال سےہماری بھی مدد کی اوردوسرے کئی خیر کےکام بھی کیے ایک غلط حرکت ان سے ضرور سرزد ہوئی اور وہ یہ کہ اس سال مال کوبینک سےسودی کھاتے میں رکھا اوروہ بھی اسلام سےاپنی لاعلمی اورعدم واقفیت کی بناپر۔ اب میرا سوال یہ ہےکہ کیاہم ورثہ کےطورپر یہ مال لےسکتےہیں اورشک وشبہ کورفع کرنے کےلیے آیا ہم کچھ مال صدقہ کردیں یاسرے سے یہ ورثہ نہ لیں، حالانکہ ہم ضرورت مند بھی ہیں۔دوسرا سوال یہ ہےکہ ہم سات بہنیں ہیں، سوائے ایک کےسب شادی شدہ ہیں توکیا ہمارے اخیافی بھائی(ماں کی طرف سےبھائی) ہمارے ساتھ وراثت میں شریک ہوں گے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جہاں تک مالِ وراثت کےتعلق ہےتوآپ کےوالد انکار کرچکےہیں کہ وہ مال حرام تھا، نہ آپ کےپاس اس کےحرام ہونےکی کوئی دلیل ہی ہے۔آپ کی والدہ نےیہ مال بطور ہدیہ وصول کیاتھا تووہ ان کےلیے حلال تھا۔ جہاں تک اس کے سودی کھاتے میں رکھنے کاسوال ہے تواصل مال تو شروع ہی سے حلال ہونے کوبناپر حلال ہی شمار ہوگا، چاہے وہ سودی کھاتے میں کیوں نہ رکھا گیا ہوکیونکہ سودی کھاتے میں رکھنے کی وجہ سے اصل مال حرام نہیں ہوگا، البتہ اس مال پرحاصل ہونے والا سود یقیناً  حرام ہے لیکن چونکہ آپ نے یہ سارا مال(اصل زرمع سود) بطور میراث حاصل کیا ہے توہاتھ بدلنے کی بناپر آپ کےلیے حلال ہوگا۔(ہاتھ بدلنے سےمراد کہ پہلے شخص نےتومال حرام طریقے سے حاصل کیا لیکن جب دوسرے شخص کےہاتھ میں وہ ایک جائز طریقے سے آیا توپہلے آدمی کا گناہ دوسرے کومنتقل نہیں ہوگا)اورقاعدہ ہے کہ حرام اگر ایک آدمی کےذمہ پرہواور وہ چیز عین حرام بھی نہ ہو اورپھر دوسرے شخص کےذمہ می جائز طریقے سے چلی جائے تو حرمت دوسرے شخص تک منتقل نہیں ہوگی اوریہ واضح ہےکہ آپ لوگوں کویہ مال ایک جائز سبب( یعنی وراثت) کی بناپر ملا ہے۔

یہاں تک تواس کےجائز ہونے کا حکم تھالیکن افضل یہ ہوگاکہ سود والی رقم فقراء اورمساکین پرخرچ کردی جائے اور سودی کھاتے سے اس رقم کونکال لیا جائے اورجہاں تک وراثت کی تقسیم کاتعلق ہےتوترکے کادو تہائی ساتوں بہنوں میں تقسیم ہوگا اور باقی  ایک تہائی اخیافی بھائیوں اوربہنوں میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرد کوعورت سےدوگنا حصہ ملے گا لیکن اگر صرف مرد ہوں یا صرف عورتیں ہوں توان میں برابربرابر حصہ تقسیم ہوگا۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

حلال وحرام کےمسائل،صفحہ:356

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ