سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(139) مشرک مرتے وقت کلمہ پڑھے تو کیا وہ جنت میں جائے گا؟

  • 2333
  • تاریخ اشاعت : 2013-01-28
  • مشاہدات : 2395

سوال

 السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی ساری عمر شرکیہ کام کرتا ہے اور مرتے وقت کلمہ طیبہ پڑھتا ہے کیا وہ بھی جنت میں جائے گا؟

________________________________________________________________________________

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس کا آخر قول:  لَا إِلٰه إِلَّا الله ہوا وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘

3اہل ایمان کے متعلق ہے کافر و مشرک مرتے وقت کلمہ پڑھتا ہے تو وہ مذکور بالا حدیث کا مصداق نہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتے ہیں:

﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّىٰ إِذَا حَضَرَ‌ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ‌ ۚ  (١٨)﴾ (النساء)

’’ ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے جائیں ، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائےتو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی، ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر پر ہی مرجائیں۔‘‘

پھر فرعون کے متعلق ہے:

﴿حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَ‌كَهُ الْغَرَ‌قُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَ‌ائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ (٩٠) آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ (٩١)﴾ (یونس)

’’ یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لاتا ہوں اس (اللہ پر) کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ( جواب دیا گیا کہ) اب ایمان لاتا ہے اور پہلے سرکشی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل رہا۔‘‘


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 09 ص 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ