سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(35) حالت روزہ میں ریستوران میں مسلم وغیر مسلم کو کھانا پیش کرنا

  • 23322
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-22
  • مشاہدات : 780

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حالت روزہ میں کیا بالغ مسلمانوں کوکھانا پیش کیا جاسکتاہےیا نہیں؟میں ایک پیزا کی دکان میں ملازم ہوں، دن کےاوقات میں کچھ مسلمان حضرات بھی کھانے کےلیے آتےہیں، کیا ان کےروزہ نہ رکھنے کےگناہ میں، میں بھی شامل ہوجاؤں گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ریستوران میں کھانا پیش کرنا آپ کےکام میں داخل ہے، چاہے وہ دن کاوقت ہویارات کا۔ جولوگ کھانے کےلیےآتے ہیں ان میں مسافر بھی ہوسکتےہیں اورایسے لوگ بھی جو کسی نہ کسی عذر کی بناپر روزہ نہ رکھ سکتےہوں۔

آپ اس بات کےمکلف نہیں کہ لوگوں کی نیتوں کوجانچیں، اس لیے اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کےکھانا کھارہا ہےتو وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔ آپ اس کےاس عمل میں شریک نہ ہوں گے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنامکان کسی کوکرایہ پردیتےہیں۔آپ مکان کاکرایہ وصول کرتےہیں لیکن اسی مکان میں اگر کرایہ دار کوئی گناہ کا کام کرتاہے تووہ خود اس کا ذمہ دار ہوگا۔

دوسرے یہ کہ اگر آپ خود دوکان کےمالک ہیں تویا تودن کےاوقات میں ماہ رمضان کےایام میں دوکان کوبند رکھیں یایہ ہدایت لکھ کرلگائیں کہ دن کےاوقات میں کھانا خریدا جاسکتاہےلیکن دوکان کےاندر کھانے کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ اوراس طرح آپ روزہ کشی سےلوگوں کوباز رکھنے میں مدد دے سکیں گے۔ لیکن اگر آپ ملازم ہیں تو پھر کھانا پیش کرنے کی حدتک آپ ان شاء اللہ بری الذمہ ہوں گے۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

روزے کےمسائل،صفحہ:316

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ