سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(513) ایک بہن اور علاتی بھائی
  • 23278
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 1199

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت لاولد نے انتقال کیا ایک حقیقی بہن اور ایک علاتی بھائی کو وارث چھوڑا پس متروکہ میت کیونکر تقسیم ہو گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں کہ مسماۃ لاولد ایک حقیقی بہن اور ایک علاتی بھائی چھوڑ کر قضا کی بعد تقدیم ماتقدم علی الارث ورفع موانعہ کے ترکہ مسماۃ مذکورسے نصف حقیقی بہن کو اور باقی علاتی بھائی کو ملے گا سراجیہ میں ہے۔

"واماللخوات لاب وام فاحوال خمس النصف للواحدة "

(عینی بہنوں کے پانچ احوال ہیں اگر وہ ایک ہوتو اسے نصف ملے گا)

نیز اس میں ہے۔

"اولهم بالميراث جذء الميت.....الي قوله ثم جزء ابيه اي الاخوة"[1]

(ان میں سے میراث کے سب سے زیادہ مستحق میت کے اجزا ہیں۔ پھر اس کے باپ کے اجزا یعنی بھائی ہیں)


[1] ۔السراجی فی المیراث(ص:16)

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الفرائض،صفحہ:754

محدث فتویٰ

تبصرے