سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(486) غیر مسلم حکومت کا مسلمانوں کے قبر ستان وغیرہ امور میں مداخلت کرنا

  • 23251
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-16
  • مشاہدات : 83

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میونسپلٹی مسلمانان سے چاہتی ہے کہ تم اپنے مردے باہر شہر کے دفن کرو اور اگر امر مانع ہوتو اس قطعہ زمین میں دفن کرو جو اس کام کے لیے میونسپلٹی اپنے روپیہ سے خرید کرے۔انتظام اس زمین کا اور مسلمانوں کے مردے دفن ہونے کا میونسپلٹی اپنے ہاتھ میں رکھے گی اور تم سے بابت دفن ان مردہ مسلمانوں کے جن کی فیس ناداری کی وجہ سے کسی طرح ادا نہ ہو سکتی ہو۔ ایک فیس مقررہ لے گی اور خام و پختہ میں فرق ہوگا میونسپلٹی یہ قاعدہ بنانے پر اس لیے مجبور ہوئی ہے کہ اس کو خیال ہے کہ متفرق اندرون آبادی مردوں کے جابجا دفن ہونے سے صحت کو ضرر پہنچتا ہے۔
میونسپلٹی ایک ایسا محکمہ ہے جس نے حقوق و احکام شاہی سے رفاہ عام کے لیے قریب قریب تمام اشیا ءپر(مستثنیات جزوی کے سوا) جو باہر سے اندرون میونسپلٹی بغرض تجارت یا خاص استعمال آئیں چنگی لینے کا عام رعایا سے قاعدہ مقرر کیا ہے خواہ رعایا یا کسی قوم و مذہب کی ہو۔ واجب الادامال کی چنگی نہ ادا ہونے پر وہ مال ضبط ہو جا تا ہے یا جرمانہ لیا جا تا ہے۔ بہت زیادہ حصہ رعایا کا اس چنگی کو بہت کراہت اور مجبوری کے ساتھ ادا کرتا ہے میونسپلٹی اس رقم چنگی سے جس میں ہندومسلمانوں وغیرہ کا روپیہ شامل ہے مسلمان مردوں کے لیے قطعہ زمین خرید کرنا چاہتی ہے اور زمین خرید نے کا یہ قاعدہ ہے کہ گوبیچنے والا راضی نہ ہو بیچنا نہ چاہتا ہو یا کتنی ہی تعداد میں قیمت مانگتا ہو مگر اس کی پروا نہیں کیا جائے گی نہ وہ راضی کیا جائے گا بلکہ قاعدہ سرکاری کی مقررہ قیمت اس کو دے دی جائے گی اور اس زمین پر مالکانہ قبضہ کرلیا جائے گا۔
ایسی صورت میں میونسپلٹی کی آمدنی سے جس کی تشریح اوپر کی گئی اور اس طرح زمین کا معاوضہ بالجہر کے ساتھ خریدنا جیسا کہ بیان کیا گیا شرعاً ناجائز و غضب ہے یا نہیں اور اس میں مردوں کا دفن ہونا غیر مذہب والوں کو فیس ادا کر کے جائز ہے یا ناجائز ؟مکروہ ہے یا حرام اور مردہ دفن کرنے والا داخل معصیت ہے یا نہیں؟ریاض الاخبارپریس گور کھپور۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میونسپلٹی مسلمانان سے چاہتی ہے کہ تم اپنے مردے باہر شہر کے دفن کرو اور اگر امر مانع ہوتو اس قطعہ زمین میں دفن کرو جو اس کام کے لیے میونسپلٹی اپنے روپیہ سے خرید کرے۔انتظام اس زمین کا اور مسلمانوں کے مردے دفن ہونے کا میونسپلٹی اپنے ہاتھ میں رکھے گی اور تم سے بابت دفن ان مردہ مسلمانوں کے جن کی فیس ناداری کی وجہ سے کسی طرح ادا نہ ہو سکتی ہو۔ ایک فیس مقررہ لے گی اور خام و پختہ میں فرق ہوگا میونسپلٹی یہ قاعدہ بنانے پر اس لیے مجبور ہوئی ہے کہ اس کو خیال ہے کہ متفرق اندرون آبادی مردوں کے جابجا دفن ہونے سے صحت کو ضرر پہنچتا ہے۔

میونسپلٹی ایک ایسا محکمہ ہے جس نے حقوق و احکام شاہی سے رفاہ عام کے لیے قریب قریب تمام اشیا ءپر(مستثنیات جزوی کے سوا) جو باہر سے اندرون میونسپلٹی بغرض تجارت یا خاص استعمال آئیں چنگی لینے کا عام رعایا سے قاعدہ مقرر کیا ہے خواہ رعایا یا کسی قوم و مذہب کی ہو۔ واجب الادامال کی چنگی نہ ادا ہونے پر وہ مال ضبط ہو جا تا ہے یا جرمانہ لیا جا تا ہے۔ بہت زیادہ حصہ رعایا کا اس چنگی کو بہت کراہت اور مجبوری کے ساتھ ادا کرتا ہے میونسپلٹی اس رقم چنگی سے جس میں ہندومسلمانوں وغیرہ کا روپیہ شامل ہے مسلمان مردوں کے لیے قطعہ زمین خرید کرنا چاہتی ہے اور زمین خرید نے کا یہ قاعدہ ہے کہ گوبیچنے والا راضی نہ ہو بیچنا نہ چاہتا ہو یا کتنی ہی تعداد میں قیمت مانگتا ہو مگر اس کی پروا نہیں کیا جائے گی نہ وہ راضی کیا جائے گا بلکہ قاعدہ سرکاری کی مقررہ قیمت اس کو دے دی جائے گی اور اس زمین پر مالکانہ قبضہ کرلیا جائے گا۔

ایسی صورت میں میونسپلٹی کی آمدنی سے جس کی تشریح اوپر کی گئی اور اس طرح زمین کا معاوضہ بالجہر کے ساتھ خریدنا جیسا کہ بیان کیا گیا شرعاً ناجائز و غضب ہے یا نہیں اور اس میں مردوں کا دفن ہونا غیر مذہب والوں کو فیس ادا کر کے جائز ہے یا ناجائز ؟مکروہ ہے یا حرام اور مردہ دفن کرنے والا داخل معصیت ہے یا نہیں؟ریاض الاخبارپریس گور کھپور۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

گورنمنٹ کا زمین کو معاوضہ بالجہر کے ساتھ خریدنے کے جواز و عدم جواز کے ہم جواب دہ نہیں ہیں رہا اس میں مسلمان مردوں کا دفن ہونا غیر مذہب والوں کو فیس ادا کرکے مجبور مسلمانوں کے لیے تویہ جائز ہے اور وہ زمین مسلمانوں کے حق میں مغصوب نہیں ہے شاہی قانون نے اپنے قانون کے روسے اس کو حاصل کیا ہے اور اپنے قانون کے روسے ہم کو مجاز کیاہے۔

یہاں یہ سوال زیادہ مفید ہے کہ مسلمانوں کے مذہب کے روسے مردوں کا دفن کرنا مسلمانوں کا مذہبی کام ہے۔یانہیں اور اس کے متعلق کوئی قید بڑھادینا مذہب میں دست اندازی ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو گورنمنٹ کو اپنے معاہدے اور قانون کے روسے مسلمانوں کے مذہبی کاموں میں دست اندازی کرنے سے بچنا ضرورہے یا نہیں؟

جواب۔ دفن کرنا مسلمانوں کے مذہبی کاموں میں نہایت ضروری کام ہے اور اس میں کوئی قید بڑا دینا مذہب میں بہت بڑی دست اندازی ہے۔ عادل گور نمنٹ کو اپنے مسکین رعایا پر مہربانی فرما کر ان کے زندہ اور مردوں کو اس نئے اور نہایت تکلیف رساں قانون سے ضرور بچانا چاہیے۔[1]


[1] ۔اصلی مجیب کا نام درج نہیں ہے حافظ صاحب وغیرہ کی صرف تصحیح درج ہے (کذافی الاصل)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

كتاب الحظر والاباحة،صفحہ:728

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ