سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(407) آڑھت کی آمدنی

  • 23172
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-12
  • مشاہدات : 160

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید آڑھت کاکام کرتا ہے اور بکر کامال اپنی آڑھت میں فروخت کرتا ہے تو بکرکے پاس مال کے آنے پریا بدون مال کے فروخت ہوئے یا بدون روپیہ خریدار سے وصول ہوئے زید کا روپیہ بکر کو اور آڑھت لینا یہ آمدنی آڑھت کی سود ہوگی یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر آڑھت کے کام میں پیشگی روپیہ دینے کی شرط نہیں ہے بلکہ پیشگی روپیہ دینا بطور احسان ہے تو اس صورت میں آڑھت کی آمدنی سود میں داخل نہیں ہے بلکہ والے کا حق المحنت ہے اور اگر پیشگی روپیہ دینے کی شرط ہے تو ایک حصہ آمدنی مذکورکا داخل سود ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ کتبہ محمد عبد اللہ

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب البیوع،صفحہ:622

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ