سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(390) تانبے پیتل کے برتنوں کی ادھار خرید و فروخت اور بیع سلم

  • 23155
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-10
  • مشاہدات : 78

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
1۔کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس سودے کے بارے میں اور کیا مطلب ہے اس حدیث کا۔
"عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلاً بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ "
 (رواہ مسلم 1587)
(رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :" سونے کے بدلے سونا چاندی کے بدلے چاندی گندم کے بدلے گندم جوَکے بدلے جو کھجور کے بدلے کھجوراور نمک کے بدلے نمک ایک دوسرے کے برابر ہوں اور نقد بنقد ہوں جب یہ اضاف بدل جائیں تو پھر اگر وہ نقد ہو تو جیسے چاہے بیچو)
مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ برتن تانبے و پیتل و کانسی وغیرہ کے بیچتے بھی ہیں اور خریدتے بھی ہیں اس میں ادھار لاتے بھی ہیں اور دیتے بھی ہیں تویہ ادھار خریدنا بیچنا سود ہے یا نہیں؟
2۔ہم لوگ کبھی اس مال کا پیشگی روپیہ دیتے ہیں اور مال دویا تین ماہ کے بعد لیتے ہیں غرض وقت مقرر کر لیتے ہیں اور مال بعد میں تلواتے ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ زبانی بھاؤ کر لیتے ہیں اور مال دوماہ کے بعد تلواتے ہیں ان دونوں صورتوں میں کونسی صورت جائز ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

1۔کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس سودے کے بارے میں اور کیا مطلب ہے اس حدیث کا۔

"عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلاً بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ "

 (رواہ مسلم 1587)

(رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :" سونے کے بدلے سونا چاندی کے بدلے چاندی گندم کے بدلے گندم جوَکے بدلے جو کھجور کے بدلے کھجوراور نمک کے بدلے نمک ایک دوسرے کے برابر ہوں اور نقد بنقد ہوں جب یہ اضاف بدل جائیں تو پھر اگر وہ نقد ہو تو جیسے چاہے بیچو)

مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ برتن تانبے و پیتل و کانسی وغیرہ کے بیچتے بھی ہیں اور خریدتے بھی ہیں اس میں ادھار لاتے بھی ہیں اور دیتے بھی ہیں تویہ ادھار خریدنا بیچنا سود ہے یا نہیں؟

2۔ہم لوگ کبھی اس مال کا پیشگی روپیہ دیتے ہیں اور مال دویا تین ماہ کے بعد لیتے ہیں غرض وقت مقرر کر لیتے ہیں اور مال بعد میں تلواتے ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ زبانی بھاؤ کر لیتے ہیں اور مال دوماہ کے بعد تلواتے ہیں ان دونوں صورتوں میں کونسی صورت جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

1۔ادھار کی صورت جو سوال میں مذکورہے جائز ہے اس میں سود نہیں ہے خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک یہودی سے تیس صاع جو خریداتھا اور اس یہودی کے اطمینان کے لیے اس کے پاس اپنی خاص زرہ رہن رکھ دی تھی کہ جس وقت جوَکا دام ادا کردیں گے اپنی زرہ چھڑا لیں گے حالانکہ جوَ ان چھ چیزوں میں سے ہے جوعبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حدیث مندرجہ سوال میں مذکور ہیں حدیث مذکور کے یہ الفاظ ہیں۔

"عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا قَالَتِ: اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا بِنَسِيئَةٍ وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ"

[1](متفق علیہ)

(عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک یہودی سے غلہ ادھار خریدا اور اپنی زرہ اس کے پاس رہن رکھی)

"وعنها قالت:توفي رسول الله صلي الله عليه وسلم ودرعه مرهونة عند يهودي بثلاثين صاعا من شعير"[2](رواہ البخاری)

(انھیں سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اس حال میں فوت ہوئے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جوَکے عوض گروی پڑی ہوئی تھی)

"واعلم انه اتفق العلماء علي جواز بيع ربوي بربوي لا يشاركه في الجنس مؤجلا ومتفضلا كبيع الذهب بالحنطة والفضة بالشعير وغيره من المكيل واتفقوا علي انه لا يجوز بيع الشئي بجنسه واحدهما مؤجل"(سبل السلام (2/20)

(علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایک ربوی چیز کی ادھار اور تفاضل کے ساتھ ایسی ربوی چیز کے ساتھ بیع کرنا جا ئز ہے جو جنس میں اس کی شریک نہ ہو جیسے سونے کی گندم کے بدلے اور چاندی کی جوَکے بدلے وغیرہ ماپ والی چیزوں کی بیع کرنا ۔ انھوں نے اس پر بھی اتفاق کیا ہے کہ کسی چیز کی اس کی جنس کے ساتھ بیع جائز نہیں جب کہ ان میں سے ایک ادھار ہو) 

اصل یہ ہے کہ ادھار کی صورت میں سود اس وقت ہوتا ہے کہ سودا اور دام دونوں ہم جنس ہوں اور قدر (کیل یا وزن ) میں دونوں متفق ہوں اگر سودا اور دام دونوں مختلف الجنس ہوں اور قدر میں متفق ہوں تو ایسی صورت میں سود نہیں ہوتا نہ نقد میں نہ ادھار میں اور صورت مسئول عنہا میں نہ دونوں ایک جنس ہیں(کیونکہ سودا تانبا پیتل کانسی وغیرہ کی قسم کی چیزوں سے ہے اور دام روپیہ یعنی چاندی ہے) اور نہ دونوں قدر میں متفق ہیں (اس لیے کہ گو چاندی اور تانبا پیتل وغیرہ کا وزن سیر اور پنیری اور من سے ہو تا ہے اور چاندی کا وزن تولہ اور ماشہ سے ہو تا ہے پس دونوں جس طرح مختلف الجنس ہیں مختلف القدر بھی ہیں) لہٰذا ایسی صورت میں سود نہیں ہے نہ نقد میں نہ ادھار میں اور حنفی مذہب میں بھی ادھار کی یہ صورت جو مندرجہ سوال ہے۔جائز ہے اس میں سود نہیں ہے ۔ ہدایہ (2/81مطبع یوسفی لکھنوی) میں ہے۔

"اذا اسلم النقود في الزعفران ونحوه يجوز وان جمعهما الوزن لانهما لا يتفقان في صفة الوزن فان الزعفران يوزن بالامناء وهو ثمن يتعين بالتعين والنقود توزن بالسنجات وهو ثمن لا يتعين بالتعين انتهي "واللہ تعالیٰ اعلم ۔

(اگر اس نے مال نقد کو زعفران وغیرہ کی بیع سلم میں دیا تو جائز ہے اگر چہ زر نقد اور یہ چیزیں دونوں وزنی ہیں لیکن ان کا جواز اس لیے ہے کہ دونوں کی وزن صفت یکساں نہیں ہے چنانچہ زعفران کو من و سیر سے تولتے ہیں اور وہ ثمن ہے کہ وہ معین کرنے سے متعین ہوجاتا ہے اور نقود کو وزن درم یعنی مثقال سے تولتے ہیں اور وہ ثمن ہے کہ معین کرنے سے متعین نہیں ہوتا ہے)

2۔یہ دوسری بیع سلم کی صورت ہے بیع سلم کی بھی صورت جائز ہے۔

ابن عباس رضي الله عنهما قال : " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ بِالتَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاَثَ، فَقَالَ: ( مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ، فَفِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ) [3]" (رواه البخاري (2240) ، ومسلم (4202) .

(عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے۔کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  مدینہ منورہ تشریف لائے تولوگ دو دو تین تین سال پہلے رقم دے کر کھجور یں خریدلیتے تھے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : جو شخص کھجوروں کی بیع سلف کرے تو اسے چاہیے کہ معلوم ماپ اور معلوم تول کے ساتھ معلوم مدت کے لیے بیع سلف کرے)


[1] ۔ صحیح البخاری رقم الحدیث (1962)صحیح مسلم رقم الحدیث (1603)

[2] ۔صحیح البخاری رقم الحدیث (2759)

[3] ۔صحیح البخاری رقم الحدیث(2125)صحیح مسلم رقم الحدیث (1604)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب البیوع،صفحہ:605

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ