سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(389) ادھار ربیع کی ایک صورت

  • 23154
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-10
  • مشاہدات : 73

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بعض مسلمان سود پر روپیہ نہیں دیتے مگر یہ معاملہ کرتے ہیں کہ تجارت پیشہ لوگوں کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ چیز نقد روپیہ کے ساتھ کوٹھی داروں سے خرید کر کے ان تجارت پیشہ لوگوں کو کچھ نفع کے ساتھ وہ چیز ادھار دیتے ہیں بعض ایسا کرتے ہیں کہ کسی تجارت پیشہ کی معرفت بمبئی یا کلکتہ سے نقد روپیہ کے ساتھ مال منگاتے ہیں جس وقت مال پہنچتا ہے تو وہی دکاندار وہ مال کچھ نفع دے کر ادھار پر اس سے خریدتا ہے اس قسم کے معاملات کثرت کے ساتھ جاری ہیں اور اکثر علما جواز کا فتوی دیتے ہیں حدیث
 "بع الجمع بالدراهم ثم ابتع بالدراهم جنيبا"( صحیح البخاری رقم الحدیث (2089)صحیح مسلم رقم الحدیث (1593)
راوی اور ملی جلی کھجوروں کو رقم کے ساتھ الگ بیچو اور پھر رقم کے ساتھ جنیب (عمدہ ) کھجوریں خریدو) سے دلیل پکڑتے ہیں اتحادجنس میں سود تھا آپ نے اختلاف جنس کی صورت بتلادی تاکہ معاملہ صورت سود سے نکل جائے۔
یہ بھی واضح رہے کہ تجارت پیشہ لوگوں کا روپیہ والوں سے یہ اقرار بھی ہو تا ہے کہ جس وقت تمھارا مال پہنچے ہم تم کو کچھ نفع دے کر ادھار پر خریدلیں گے غرضیکہ ان کی مطلوب چیزیں ان کے لیے ان ہی کی معرفت طلب کی جاتی ہیں بعد پہنچنے کے کچھ قلیل نفع دے کر ادھار پر خریدتے ہیں آپ کا ان میں کیا فتوی ہے؟سائل عبد الجبار غزنوی از امرتسر محلہ غزنویہ۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض مسلمان سود پر روپیہ نہیں دیتے مگر یہ معاملہ کرتے ہیں کہ تجارت پیشہ لوگوں کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ چیز نقد روپیہ کے ساتھ کوٹھی داروں سے خرید کر کے ان تجارت پیشہ لوگوں کو کچھ نفع کے ساتھ وہ چیز ادھار دیتے ہیں بعض ایسا کرتے ہیں کہ کسی تجارت پیشہ کی معرفت بمبئی یا کلکتہ سے نقد روپیہ کے ساتھ مال منگاتے ہیں جس وقت مال پہنچتا ہے تو وہی دکاندار وہ مال کچھ نفع دے کر ادھار پر اس سے خریدتا ہے اس قسم کے معاملات کثرت کے ساتھ جاری ہیں اور اکثر علما جواز کا فتوی دیتے ہیں حدیث

 "بع الجمع بالدراهم ثم ابتع بالدراهم جنيبا"( صحیح البخاری رقم الحدیث (2089)صحیح مسلم رقم الحدیث (1593)

راوی اور ملی جلی کھجوروں کو رقم کے ساتھ الگ بیچو اور پھر رقم کے ساتھ جنیب (عمدہ ) کھجوریں خریدو) سے دلیل پکڑتے ہیں اتحادجنس میں سود تھا آپ نے اختلاف جنس کی صورت بتلادی تاکہ معاملہ صورت سود سے نکل جائے۔

یہ بھی واضح رہے کہ تجارت پیشہ لوگوں کا روپیہ والوں سے یہ اقرار بھی ہو تا ہے کہ جس وقت تمھارا مال پہنچے ہم تم کو کچھ نفع دے کر ادھار پر خریدلیں گے غرضیکہ ان کی مطلوب چیزیں ان کے لیے ان ہی کی معرفت طلب کی جاتی ہیں بعد پہنچنے کے کچھ قلیل نفع دے کر ادھار پر خریدتے ہیں آپ کا ان میں کیا فتوی ہے؟سائل عبد الجبار غزنوی از امرتسر محلہ غزنویہ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میری دانست میں بھی یہ دونوں صورتیں جائز ہیں ان کے ناجائز ہونے کی کوئی وجہ مجھے معلوم نہیں ہو تی ۔وللہ تعالیٰ اعلم۔ کتبہ محمد عبد اللہ (18/رمضان المبارک (1329ھ)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب البیوع،صفحہ:605

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ