سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(388) سانڈ کی خرید و فروخت

  • 23153
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-10
  • مشاہدات : 87

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
سانڈ جو ہندوستان میں ہنودلوگ آزاد کرتے ہیں اس کادربارہ حلت و حرمت کیا حکم ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سانڈ جو ہندوستان میں ہنودلوگ آزاد کرتے ہیں اس کادربارہ حلت و حرمت کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگرچہ سانڈکا آزاد کرنا محض ناجائز فعل بلکہ عین شرک و کفر ہے مگر سانڈ جو آزاد کیا گیا ہے حلال ہے بمجردآزاد کرنے اور غیر اللہ کے نام پر چھوڑنے سے حرام نہیں ہوا۔ ہاں اگر اس سانڈ کے ساتھ کسی کی ملکیت یا حق متعلق ہے تو اس صورت میں دوسرے کے لیے بدوں اس کے اذن کے حرام ہے لیکن نہ غیر اللہ کے نام پر آزاد کیے جانے سے بلکہ تعلق حق غیرکی جہت سے جیسا کہ ہر چیز کایہی حال ہے کہ بوجہ تعلق حق غیر کے بدوں اذن اس کے دوسرے کے حق میں حرام ہوتی ہے الغرض کسی چیز کے غیر اللہ کے نام پر چھوڑے جانے سے اور آزاد کیے جانے سے اس چیز میں حرمت نہیں آجاتی ۔تفصیل و تحقیق اس مسئلے کی"فتوی سانڈ"مصنفہ جناب مولانا حافظ عبد اللہ صاحب غازیپوری (مدرس اول مدرسہ احمدیہ آرہ) میں بہت بسط کے ساتھ کی گئی ہے من ارادالوقوف علی الدلائل فلیر جع الیہ۔

حررہ ابو العلی محمد عبد الرحمٰن المبارکفوری عفااللہ عنہ الجواب صحیح کتبہ: محمد عبداللہ۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب البیوع،صفحہ:604

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ