سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(386) کیا ہندوستان میں عورتوں کی خریدو فروخت کرنا درست ہے؟

  • 23151
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-10
  • مشاہدات : 86

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اس ملک یعنی ہندوستان میں کسی عورت کے وارثان کو اس عورت کی قیمت دے کر خرید لیں تو اس عورت کو اپنے تصرف میں بغیر نکاح کے لا سکتا ہے یا نہیں جیسا کہ مکہ معظمہ میں دستور ہے؟دارالحرب میں یہ مسئلہ جاری ہو سکتا ہے یا نہیں ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اس ملک یعنی ہندوستان میں کسی عورت کے وارثان کو اس عورت کی قیمت دے کر خرید لیں تو اس عورت کو اپنے تصرف میں بغیر نکاح کے لا سکتا ہے یا نہیں جیسا کہ مکہ معظمہ میں دستور ہے؟دارالحرب میں یہ مسئلہ جاری ہو سکتا ہے یا نہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جہاں اہل اسلام اور کفارمیں جہاد ہوتا ہے اور اہل اسلام کفار پر غالب آکر کفار کی عورتوں کو اسیر کر لاتے ہیں وہی عورتیں مسلمانوں کی مملوکہ اور شرعی لونڈی ہو جاتی ہیں پھر تقسیم کے بعد جس کے حصے میں جو عورت پڑجاتی ہے جب تک وہ شخص اس کو آزاد نہ کردےاپنے تصرف میں لا سکتا ہے اسی طرح وہ شخص بھی ان کو تصرف میں لاسکتا ہے جو بذریعہ خریداری یا ہبہ یا وصیت یا میراث کے ان کا مالک ہو جا تا ہے اور ان عورتوں کے بطن سے غیر مالک کے نطفہ سے جس قدر اولاد ہوتی جائےگی۔وہ بھی اسی مالک کی مملوکہ اور شرعی غلام اور لونڈی ہو جائے گی اسی طرح جہاں تک یہ سلسلہ نیچے چلا جائے گا چونکہ ہندوستان میں جہاد کی صورت جاری نہیں ہے لہٰذا نہ یہاں کی عورتوں کو خریدنا چاہیے اور نہ خریدکر کے ان کو بغیر نکاح کے اپنے تصرف میں لانا جائز ہے واللہ اعلم بالصواب۔کتبہ: محمد عبد اللہ ۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب البیوع،صفحہ:604

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ