سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(119) طلاق کی قسم کھانا

  • 2313
  • تاریخ اشاعت : 2013-01-26
  • مشاہدات : 1170

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بلال کا عابد کے ساتھ جھگڑا ہوگیا، بلال نے اپنے بیوی سے کہا کہ اگر تم عابد کے گھر گئی تو میں تم کو طلاق دے دوں گا، اب مسئلہ یہ ہے کہ بلال یقین کی حد تک یا یقین سے کہتا ہے کہ اس نے قسم نہیں کھا ئی ہے اور اس کے الفاظ یہی تھے کہ اگر اس کی بیوی عابد کے گھر گئی تو وہ اپنی بیوی کوطلاق دے دے گا۔ جب کہ جو لوگ موجود تھے وہ بھی شک میں ہیں کہ اصل الفاظ کیا تھے۔ جس کی وجہ سے بلال کو بھی شک پڑ جاتا ہے۔ کیا اس حالت میں بلال کا یقین صحیح ہے یا شرط پوری ہونے پر طلاق واقع ہوگی۔؟ برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ جزاکم اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلمان کےلیے مشروع تو یہ ہے کہ وہ اپنے گھریلو جھگڑوں میں طلاق کے استعمال سے اجتناب کرے، اس لیے کہ طلاق کا انجام صحیح نہیں ہوتا، بہت سے لوگ طلاق کے معاملہ میں سستی اور تساہل کا مظاہرہ کرتے ہیں جب بھی ان کے مابین کوئی گھریلو جھگڑا ہو فوراً طلاق کی قسم اٹھالیتے ہیں ، اورجب بھی دوست واحباب کے مابین جھگڑا ہوا طلاق کی قسم اٹھالی ۔۔۔ اوراسی طرح یہ تواللہ تعالی کی کتاب سے ایک قسم کا کھیل ہے ، دیکھیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی کوتین طلاقیں اکٹھی دینے والے شخص کوکتاب اللہ کے ساتھ کھیلنے والا قرار دیں تو پھراس شخص کو کیا کہيں گے جو طلاق کو اپنی عادت ہی بنا لے ؟

اورجب بھی اپنی بیوی کوکسی چيز سے منع کرنا چاہا یا پھر کسی کام کرنےکوکہنا چاہا طلاق کی قسم اٹھالی ؟

امام نسائی رحمہ اللہ تعالی نے محمود بن لبید سے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے شخص کے بارہ میں بتایا گیا جس نے اپنی بیوی کوتین طلاق اکٹھی دے دی تھیں ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصہ سے اٹھے اور فرمانے لگے

أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلا أَقْتُلُهُ . قال الحافظ : رجاله ثقات اهـ وصححه الألباني في غاية المرام (261)

میرے ہوتے ہوئے بھی کتاب اللہ سے کھیلا جارہا ہے حتی کہ ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اسے قتل نہ کردوں ۔ سنن نسائي حدیث نمبر ( 3401 )

حافظ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ اس کے رجال ثقہ ہیں ، اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے غایۃ المرام ( 261 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

هؤلاء السفهاء الذين يطلقون ألسنتهم بالطلاق في كل هين وعظيم ، هؤلاء مخالفون لما أرشد إليه النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في قوله : ( مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ ) رواه البخاري (2679) . فإذا أرد المؤمن أن يحلف فليحلف بالله عز وجل ، ولا ينبغي أيضاً أن يكثر من الحلف لقوله تعالى : ( وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ ) المائدة / 89 . ومن جملة ما فسرت به الآية أن المعنى : لا تكثروا الحلف بالله .

یہ بیوقوف لوگ جو اپنی زبانوں پر ہرچھوٹے اور بڑے معاملےمیں طلاق طلاق کرتے پھرتے ہیں یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائي کے بھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بھی مخالف ہيں :

جوشخص بھی قسم اٹھانا چاہے وہ اللہ تعالی کی قسم اٹھائے وگرنہ خاموش ہی رہے ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2679 )

تو مومن جب بھی قسم کا ارادہ کرے تواللہ تعالی کی قسم اٹھاۓ ، اور اس کے لیے یہ بھی لائق نہیں کہ وہ کثرت سے قسمیں ہی اٹھاتا رہے اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے

’’ اوراپنی قسموں کی حفاظت کرو ‘‘ (المائدۃ:89 )

اس آیت کی جوتفسیر کی گئی ہے وہ بالجملہ یہی ہے کہ اللہ تعالی کی قسم کثرت سے نہ اٹھایا کرو ۔

اور رہا یہ مسئلہ کہ طلاق کی قسم اٹھالی جاۓ مثلاً یہ کہا جاۓ : اگرتم یہ کرو تو طلاق ، اگریہ نہ کرو تو طلاق ، یا پھر یہ کہے : اگرمیں ایسا کروں تومیری بیوی کو طلاق ، اگر ایسا نہ کروں تومیری بیوی کوطلاق ، اوراس طرح کے دوسرے کلمات ، تویہ سب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ھدایت و راہنمائي اورسنت کے خلاف ہے ۔( دیکھیں فتاوی المراۃ المسلۃ: 2 / 753 )

دوسری بات :

رہا مسئلہ کہ اس سے طلاق واقع ہوتی ہے کہ نہیں؟ تواس میں خاوند کی نیت کا دخل ہے اگراس نے طلاق کی نیت کی اور بیوی کو قسم دی کہ وہ ایسا کام نہ کرے تو بیوی کے وہ کام کرنے سے طلاق واقع ہو جائے گی ، اوراگر وہ اس میں طلاق کی نیت نہیں کرتا بلکہ صرف اس نے تو منع کرنے کی نیت کی تھی تو اس کا حکم قسم کا ہوگا ۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

الراجح أن الطلاق إذا استعمل استعمال اليمين بأن كان القصد منه الحث على الشيء أو المنع منه أو التصديق أو التكذيب أو التوكيد فإن حكمه حكم اليمين لقول الله تعالى : ( يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (1) قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ ) التحريم / 1-2 . فجعل الله تعالى التحريم يميناً . ولقول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ) البخاري (1) ، وهذا لم ينو الطلاق وإنما نوى اليمن أو نوى معنى اليمين فإذا حنث فإنه يجزئه كفارة يمين ، هذا هو القول الراجح (فتاوى المرأة المسلمة:2/754)

راجح یہ ہے کہ جب طلاق کو قسم کی جگہ پر استعمال کیا جاۓ ، یعنی اس کا مقصد یہ ہوکہ کسی کام کے کرنے پر ابھارا جائے یا پھرکسی کام سے منع کرنا ، یا کسی کی تصدیق یا تکذیب کا تاکید مقصود ہوتو اس کا حکم بھی قسم جیسا ہی ہے اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم اللہ تعالی کی حلال کردہ اشیاء کوحرام کیوں کرتے ہو تم اپنی بیویوں کی رضامندی چاہتے ہو ، اللہ تعالی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ، اللہ تعالی نے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے۔

تواللہ تعالی نے یہاں پر تحریم کوقسم قرار دیا ہے ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فرمان ہے :

’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ، اورہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی وہ نیت کرتا ہے‘‘

اوریہ قسم اٹھانے والا طلاق کی نیت تو نہیں کررہا بلکہ اس نے قسم کی نیت کی یا پھر قسم کا معنی مراد لیا ہو تو اگر وہ قسم کو توڑے اس کے لیے قسم کا کفارہ ادا کرنا ہی کافی ہے ، اس میں راجح قول یہی ہے۔

لجنۃ دائمۃ ( مستقل فتوی کمیٹی ) سے مندرجہ ذيل سوال کیا گیا :

جوشخص اپنی بیوی کو یہ کہے : میرے ساتھ اٹھو وگرنہ طلاق ، اور وہ اس کے ساتھ نہ اٹھے ، تو کیا اس سے طلاق واقع ہوجاۓ گی ؟

لجنہ کا جواب تھا :

إذا كنت لم تقصد إيقاع الطلاق وإنما أردت حثها على الذهاب معك فإنه لا يقع به طلاق ويلزمك كفارة يمين في أصح قولي العلماء ، وإن كنت أردت به إيقاع الطلاق إذا هي لم تستجب لك وقع به عليها طلقة واحدة اهـ فتاوى اللجنة الدائمة (20/86).

اگرآپ نےاس سے طلاق مقصود نہیں لیا بلکہ اپنے ساتھ جانے کے لیے ابھارا ہے تواس سے طلاق واقع نہیں ہوئی ، علماء کے صحیح قول کے مطابق آپ کو اس پر کفارہ ادا کرنا ضروری ہے ۔

اوراگر آپ نےاس سے طلاق مراد لی ہے اوراس نے آپ کی بات نہیں مانی تو اس پر ایک طلاق واقع ہوگئی ہے ۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 09 ص 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ