سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

زکریا علیہ السلام کی موت کا قصہ اور درخت سے مدد مانگنا

  • 231
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-06
  • مشاہدات : 47

سوال

سوال: السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ حضرت ذکریا علیہ السلام کی موت کیسے ہوئی تھی اور کیا اس نے کسی درخت سے مدد یا پناہ مانگی تھی جس سے اللہ رب العالمین ناراض ہوئے تھے؟

جواب: اس قصہ کی کوئی اصل نہیں ہے اور یہودیوں کا بہتان ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام معصوم اور گناہوں سے پاک ہیں بلکہ ان کی عصمت کے بارے بعض روایات بھی مروی ہیں۔ شیخ صالح المنجد ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
وروى الإمام أحمد (2294) عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : (ما من أحد من ولد آدم إلا قد أخطأ ، أو همّ بخطيئة ؛ ليس يحيى بن زكريا) وصححه الشيخ أحمد شاكر في تعليقه على المسند ، والألباني في "الصحيحة" (2984) ، وقال الهيثمي في "مجمع الزوائد" : "رواه البزار ورجاله ثقات" ، وانظر : "التلخيص الحبير" (4/481) .
قال الإمام الشافعي رحمه الله :
"لا نعلم أحداً أعطي طاعة الله حتى لم يخلطها بمعصية إلا يحيى بن زكريا" .انتهى من "مختصر تاريخ دمشق" (8 / 195) .
وينظر : و"سبل السلام" (4 / 180) .
وقال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله :
"ما من بني آدم إلا من أخطأ ، أو هم بخطيئة ، إلا يحيى بن زكريا" انتهى من"مجموع الفتاوى" (14/461) .

امام احمد رحمہ اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے نقل کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے کہ جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو یا اس کا ارادہ نہ کیا ہو سوائے حضرت زکریا علیہ السلام کے۔ علامہ البانی اور شیخ احمد شاکر رحمہما اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
امام شافعی اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اس بات کو بیان کیا ہے۔

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ