سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(325) غصے کی حالت میں بیک وقت تینوں طلاقیں دینا

  • 23090
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-03
  • مشاہدات : 80

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
زید نے اپنی زوجہ ہندہ کے روبروبحالت فرط  غضب بیک جلسہ تین مرتبہ کہا کہ طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی، اور زید کا یہ بیان ہے کہ میرا ارادہ زوجہ کو طلاق دینے کا تھا،مگر رجعی یعنی غیر بائن،اور طلاق سنی کا طریقہ اس کو معلوم تھا اور اس کا خیال اور عقیدہ پہلے سے اور اس وقت بھی مستحکم تھا کہ طلاق بائن صرف طریقہ معینہ مسنونہ کے ساتھ ہوتا ہے اور طلاق بدعی بائن نہیں ہوتا ہے،بلکہ رجعت کا اختیار ہے اب سوال یہ ہے کہ حالات مذکورہ بالا میں طلاق بائن ہوا یا نہیں؟مطابق حکم خدا ورسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کے جواب عنایت ہو۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید نے اپنی زوجہ ہندہ کے روبروبحالت فرط  غضب بیک جلسہ تین مرتبہ کہا کہ طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی، اور زید کا یہ بیان ہے کہ میرا ارادہ زوجہ کو طلاق دینے کا تھا،مگر رجعی یعنی غیر بائن،اور طلاق سنی کا طریقہ اس کو معلوم تھا اور اس کا خیال اور عقیدہ پہلے سے اور اس وقت بھی مستحکم تھا کہ طلاق بائن صرف طریقہ معینہ مسنونہ کے ساتھ ہوتا ہے اور طلاق بدعی بائن نہیں ہوتا ہے،بلکہ رجعت کا اختیار ہے اب سوال یہ ہے کہ حالات مذکورہ بالا میں طلاق بائن ہوا یا نہیں؟مطابق حکم خدا ورسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کے جواب عنایت ہو۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں صرف ایک طلاق رجعی پڑی اور بعد کو جو زید نے دوبارہ لفظ"طلاق دی" کہا، وہ لغو ہوگیا۔لیکن بالقصد کہا تو گناہگار ہوا۔

﴿وَإِذا طَلَّقتُمُ النِّساءَ فَبَلَغنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمسِكوهُنَّ بِمَعروفٍ أَو سَرِّحوهُنَّ بِمَعروفٍ وَلا تُمسِكوهُنَّ ضِرارًا لِتَعتَدوا وَمَن يَفعَل ذ‌ٰلِكَ فَقَد ظَلَمَ نَفسَهُ...﴿٢٣١﴾... سورة البقرة

"اور جب تم  عور توں کو طلاق دو، پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انھیں اچھے طریقے سے رکھ لو،یا انھیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو اور انھیں تکلیف دینے کے لیے نہ روکے رکھو ،تاکہ ان پر زیادتی کرو اور جو ایسا کرے،سو بلا شبہ اس نے اپنی جان پر ظلم کیا"

﴿الطَّلـٰقُ مَرَّتانِ فَإِمساكٌ بِمَعروفٍ أَو تَسريحٌ بِإِحسـٰنٍ...﴿٢٢٩﴾... سورة البقرة

(یہ طلاق (رجعی) دوبار ہے پھر یا تو اچھے طریقے سے رکھ لینا یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے)

"حدثنا عبدالله حدثني ابي  ثنا سعد بن ابراهيم ثنا ابي عن محمد بن اسحاق حدثني داود بن الحصين عن عكرمة مولي ابن عباس  عن ابن عباس رضي الله تعاليٰ عنه قال:طلق  ركانة بن عبد يزيد اخو بني مطلب امراته ثلاثا في مجلس واحد فحزن عليها حزنا شديدا قال:فساله رسول الله صلي الله عليه وسلم ((كيف طلقتها؟)) قال:طلقتها ثلاثا قال:فقال(( في مجلس واحد؟)) قال :نعم قال:(( فانما تلك واحدة فارجعها ان شئت)) قال:فرجعها"[1]الحديث والله تعاليٰ اعلم بالصواب"

(واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب )(مسند امام احمد بن حنبل 1/265)

(ہمیں عبد اللہ نے بیان کیا انھوں نے کہا کہ مجھے میرے باپ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ ہمیں سعد بن ابراہیم نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے باپ نے بیان کیا انھوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کیا انھوں نے کہا کہ مجھے داؤد بن حصین نے بیان کیا وہ عکرمہ مولی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کرتے ہیں وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ بنو مطلب کے ایک فردرکانہ بن عبدیزید نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں پھر وہ اس پر سخت غمگین ہوئے راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے ان سے دریافت کیا کہ "تم نے اس(اپنی بیوی) کو کیسے طلاق دی؟"رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے بتایا کہ میں نے اسے تین طلاقیں دے دیں راوی کہتے ہیں کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے پوچھا ۔"کیا ایک ہی مجلس میں؟"انھوں نے جواب دیا جی ہاں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:"یہ صرف ایک طلاق ہی ہے۔اگر تم چاہو تو اس اس سے رجوع کرلو۔ "راوی بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رجوع کرلیا)

"عن مَحْمُود بْن لَبِيدٍ قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا ؟ فَقَامَ غَضْبَان ثُمَّ قَالَ : أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟! حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا أَقْتُلُهُ ؟"[2](رواہ النسائی)

"رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایک آدمی کے بارے میں بتایا گیا،جس نے اپنی بیوی کو اکھٹی تین طلاقیں دے دی تھیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  غصے کی حالت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا:" کیا میری موجودگی میں اللہ تعالیٰ کی کتاب سے کھیلا جاتاہے؟" حتیٰ کہ ایک آدمی کھڑا ہوکر کہنے لگا:اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں اسے قتل نہ کردوں؟


[1] ۔مسند احمد(1/265)

[2] ۔سنن نسائی رقم الحدیث(3401)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الطلاق والخلع ،صفحہ:525

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC