سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(324) تکرار کی حالت میں سمجھانے کے ارادے سے طلاق دینا

  • 23089
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-03
  • مشاہدات : 89

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
تکرار کی حالت میں زید نے ہندہ کو بطور تہدید کے سمجھانے کے ارادے سے یہ چاہا کہ بیوی،یعنی ہندہ اصلاح پر آئے۔ہندہ بی بی یہ کہتی تھی کہ اصل کے آپ ہوں،تو طلاق دیں۔کئی مرتبہ ہندہ نے یہ کلام کہا تو شوہر کاارادہ نہیں تھا کہ طلاق دے۔محض ڈرانے کی وجہ سے تین طلاق دیں۔مگر بعد میں دونوں یہ چاہتے ہیں کہ کوئی شرع سے پناہ کی صورت ہوتو اچھی بات ہے،چونکہ دونوں میاں بی بی راضی ہیں اور اس واقعہ سے چار خواہ پانچ روز کے بعد یہ خیال ہوا کہ ہم نے کیا کیا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تکرار کی حالت میں زید نے ہندہ کو بطور تہدید کے سمجھانے کے ارادے سے یہ چاہا کہ بیوی،یعنی ہندہ اصلاح پر آئے۔ہندہ بی بی یہ کہتی تھی کہ اصل کے آپ ہوں،تو طلاق دیں۔کئی مرتبہ ہندہ نے یہ کلام کہا تو شوہر کاارادہ نہیں تھا کہ طلاق دے۔محض ڈرانے کی وجہ سے تین طلاق دیں۔مگر بعد میں دونوں یہ چاہتے ہیں کہ کوئی شرع سے پناہ کی صورت ہوتو اچھی بات ہے،چونکہ دونوں میاں بی بی راضی ہیں اور اس واقعہ سے چار خواہ پانچ روز کے بعد یہ خیال ہوا کہ ہم نے کیا کیا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس صورت میں کہ زید نے ہندہ کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں،گو گناہگار ہوا،جس سے زید کو استغفار کرنا چاہیے،مگر ہندہ پر ایک طلاق رجعی پڑ گئی۔اگر عدت نہ گزری ہوتو زید رجعت کرسکتا ہے اور عدت گزر چکی ہوتو بتراضی طرفین دونوں میں جدید نکاح ہوسکتا ہے۔

﴿الطَّلـٰقُ مَرَّتانِ فَإِمساكٌ بِمَعروفٍ أَو تَسريحٌ بِإِحسـٰنٍ...﴿٢٢٩﴾... سورة البقرة

(یہ طلاق (رجعی) دوبار ہے پھر یا تو اچھے طریقے سے رکھ لینا یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے)

﴿وَإِذا طَلَّقتُمُ النِّساءَ فَبَلَغنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمسِكوهُنَّ بِمَعروفٍ أَو سَرِّحوهُنَّ بِمَعروفٍ وَلا تُمسِكوهُنَّ ضِرارًا لِتَعتَدوا وَمَن يَفعَل ذ‌ٰلِكَ فَقَد ظَلَمَ نَفسَهُ...﴿٢٣١﴾... سورة البقرة

"اور جب تم  عور توں کو طلاق دو، پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انھیں اچھے طریقے سے رکھ لو،یا انھیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو اور انھیں تکلیف دینے کے لیے نہ روکے رکھو ،تاکہ ان پر زیادتی کرو اور جو ایسا کرے،سو بلا شبہ اس نے اپنی جان پر ظلم کیا"

"حدثنا عبدالله حدثني ابي  ثنا سعد بن ابراهيم ثنا ابي عن محمد بن اسحاق حدثني داود بن الحصين عن عكرمة مولي ابن عباس  عن ابن عباس رضي الله تعاليٰ عنه قال:طلق  ركانة بن عبد يزيد اخو بني مطلب امراته ثلاثا في مجلس واحد فحزن عليها حزنا شديدا قال:فساله رسول الله صلي الله عليه وسلم ((كيف طلقتها؟)) قال:طلقتها ثلاثا قال:فقال(( في مجلس واحد؟)) قال :نعم قال:(( فانما تلك واحدة فارجعها ان شئت)) قال:فرجعها"[1]الحديث والله تعاليٰ اعلم بالصواب"

(واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب )(مسند امام احمد بن حنبل 1/265)

(ہمیں عبد اللہ نے بیان کیا انھوں نے کہا کہ مجھے میرے باپ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ ہمیں سعد بن ابراہیم نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے باپ نے بیان کیا انھوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کیا انھوں نے کہا کہ مجھے داؤد بن حصین نے بیان کیا وہ عکرمہ مولی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کرتے ہیں وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ بنو مطلب کے ایک فردرکانہ بن عبدیزید نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں پھر وہ اس پر سخت غمگین ہوئے راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے ان سے دریافت کیا کہ "تم نے اس(اپنی بیوی) کو کیسے طلاق دی؟"رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے بتایا کہ میں نے اسے تین طلاقیں دے دیں راوی کہتے ہیں کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے پوچھا ۔"کیا ایک ہی مجلس میں؟"انھوں نے جواب دیا جی ہاں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:"یہ صرف ایک طلاق ہی ہے۔اگر تم چاہو تو اس اس سے رجوع کرلو۔ "راوی بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رجوع کرلیا)


[1] ۔مسند احمد(1/265)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الطلاق والخلع ،صفحہ:524

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ