سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(321) بیک وقت تین طلاقیں دینا

  • 23086
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-03
  • مشاہدات : 84

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شخص نے ایک وقت  میں تین طلاقیں اپنی بی بی کو دیں۔آیا وہ طلاقیں نزدیک خداورسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے تینوں پڑ گئیں یا نہیں؟اگر پڑ گئی ہیں تو اس کا ثبوت دیجئے اور اگر نہ پڑی ہیں تو اس کا ثبوت دیجیے۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے ایک وقت  میں تین طلاقیں اپنی بی بی کو دیں۔آیا وہ طلاقیں نزدیک خداورسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے تینوں پڑ گئیں یا نہیں؟اگر پڑ گئی ہیں تو اس کا ثبوت دیجئے اور اگر نہ پڑی ہیں تو اس کا ثبوت دیجیے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس صورت میں صرف ایک طلاق پڑی۔صحیح مسلم(ص:177 چھاپہ دہلی) میں ہے:

"وَعَنِ ابْنِ عَبّاسٍ رَضىَ اللَّهُ عَنْهُمَا قالَ: "كان الطّلاقُ عَلى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلّى الله عَلَيْهِ وَسَلّم وأَبي بَكْرٍ وَسَنَتَينِ مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ طَلاقُ الثلاثِ واحِدةٌ، فقالَ عُمَرُ: إنَّ الناسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا في أَمْر كانَتْ لَهُمْ فيهِ أَنَاةٌ فلوْ أمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ" [1]رَوَاهُ مُسْلمٌ.

"راوی کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں ،ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے عہد میں اور عہد عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا تھا،تو  عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا:لوگ اس معاملے(طلاق) میں ،جس میں انھیں مہلت حاصل تھی،جلدی کرنے لگے ہیں،اگر ہم(ان کی تین طلاقوں کو،تین طلاقیں ہی) ان پر نافذ کردیں(تو بہتر ہے) چنانچہ انھوں نے اس کو نافذ کردیا"کتبہ:محمد عبداللہ مہر مدرسہ۔


[1] ۔صحیح مسلم رقم الحدیث(1472)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الطلاق والخلع ،صفحہ:523

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ