سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(321) بیک وقت تین طلاقیں دینا

  • 23086
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-03
  • مشاہدات : 218

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے ایک وقت میں تین طلاقیں اپنی بی بی کو دیں۔ آیا وہ طلاقیں نزدیک خدا و رسول کے تینوں پڑ گئیں یا نہیں؟ اگر پڑ گئی ہیں تو اس کا ثبوت دیجیے اور اگر نہ پڑی ہیں تو اس کا ثبوت دیجیے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس صورت میں صرف ایک طلاق پڑی۔ صحیح مسلم (ص: ۱۷۷ چھاپہ دہلی) میں ہے:

’’عن ابن عباس قال: کان الطلاق علی عھد رسول   الله صلی اللہ علیہ وسلم  وأبي بکر و سنتین من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة۔ فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد استعجلوا في أمر، کانت لھم فیہ أناة، فلو أمضیناہ علیھم، فأمضاہ علیھم‘‘[1]

[عبد  الله بن عباس رضی اللہ عنہما  بیان کرتے ہیں کہ رسول   الله صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں، ابوبکر رضی اللہ عنہ  کے عہد میں اور عمر رضی اللہ عنہ  کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا تھا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ  نے کہا: لوگ اس معاملے (طلاق) میں جس میں انھیں مہلت حاصل تھی، جلدی کرنے لگے ہیں۔ اگر ہم (ان کی تین طلاقوں کو، تین طلاقیں ہی) ان پر نافذ کر دیں (تو بہتر ہے)  چنانچہ  انھوں نے اس کو نافذ کر دیا]       


[1]                صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۴۷۲)

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الطلاق والخلع ،صفحہ:523

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ