سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(319) بیک وقت تین طلاقوں کا وقوع اور اس کی شرعی حیثیت

  • 23084
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-03
  • مشاہدات : 77

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شخص حنفی نے بحالت غصہ کے اپنی بیوی کو ایک ہی جلسہ میں لفظ طلاق تین مرتبہ کہا۔بعد طلاق دینے کے برادری کے لوگوں نے اس کو کہا کہ تمہاری بیوی تم پر حرام ہوگئی اور طلاق ثابت ہوگئی،چنانچہ اس کا مسئلہ علمائے مذہب حنفیہ سے دریافت کیا گیا،بجواب اس کے علمائے حنفیہ نے  یہ لکھاکہ طلاق جائز ہوگیا اور بغیر دوسرے شخص سے نکاح کیے ہوئے،پھر وہ دوسرا شخص یعنی محلل کے طلاق دینے پر  محض اپنی خوشی سے اور بعد گزرنے عدت کے،تب البتہ پھر شوہر اول سے عقد نکاح جائز ہوگا ،ورنہ نہیں۔بہرکیف برادری کے لوگوں نے ان دونوں شوہر وبیوی کو علیحدہ کردیا، لیکن بعد تھوڑے دنوں کے ان دونوں زن وشوہر میں محبت ہوگئی اور شوہر اپنی بیوی کو اپنے مکان پر لے گیا،تب پھر برادری کے لوگوں نے اسے گرفت کیا اور اس کا حقہ تمباکو موافق دستور برادری کے بند کردیا کہ تم حرام کاری کرتے ہو،اس پر شوہر نے اپنی برادری میں ایک کتاب لاکر دکھلایا کہ اس کتاب کے رو سے ہم نے اپنی بیوی کو لا کر رکھا ہے،چنانچہ برادری میں وہ کتاب پڑھی گئی اور وہ یہ ہے:"مجموعہ فتاویٰ مولانا مولوی عبدالحئی صاحب،علیہ الرحمۃ " مطبوعہ مطبع یوسفی واقع لکھنو۔اس کتابکے جلد دوئم صفحہ 53 میں یہ مسطور ہے:
استفتاء:۔
کیا فرماتے ہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ زید نے اپنی عورت کو حالت غضب میں کہا کہ میں نے طلاق دیا،میں نے طلاق دیا،میں نے طلاق دیا،پس اس تین بار کہنے سے طلاق واقع ہوں گی یا نہیں اور اگر حنفی مذہب میں واقع ہوں اور شافعی میں مثلاً واقعہ نہ ہوں توحنفی کو شافعی مذہب  پر اس صورت خاص میں  عمل کرنے کی رخصت دی جائے گی یا نہیں؟
ھوالمصوب:۔
اس صورت میں حنفی کے نزدیک تین طلاق واقع ہوں گی اور بغیر تحلیل کے نکاح نہ درست ہوگا ،مگر بوقت ضرورت کہ اس عورت کا علیحدہ ہونا اس سے دشوار ہو اور احتمال مفاسد زائد کا  ہو،تقلید کسی اور امام کی اگر کرے گا تو کچھ مضائقہ نہیں ہوگا۔نظیر اس کی مسئلہ نکاح زوجہ مفقود وعدت ممتدۃ الطہر موجود ہے کہ حنفیہ عند الضرورت قول امام مالک پر عمل کرنے کو درست رکھتے ہیں،چنانچہ"رد المختار" میں مفصلاً مذکور ہے ،لیکن اولیٰ یہ ہے کہ وہ شخص کسی عالم شافعی سے استفسار کرے اور اس کے فتوے پر عمل کرے۔واللہ اعلم۔
حررہ:محمد عبدالحئی عفی عنہ تمام شد۔
جب یہ مضمون پڑھا گیا تو برادری کے لوگوں نے کہا کہ عالم شافعی سے مسئلہ دریافت کرنے کو لکھا ہے بہتر ہے کہ عالم شافعی سے مسئلہ دریافت کیاجائے کہ ان کے نزدیک اس امر میں کیا حکم ہے؟جب جواب آئے،اس کے مطابق عمل کیا جائے ،اس لیے حضور والا سے یہ عرض ہے کہ اس امر میں حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ   کے نزدیک کیا حکم ہے؟موافق قر آن پاک واحادیث شریفہ کے جواب سے شاد فرمایا جائے تاکہ اسلام میں رخنہ نہ ہو۔
زیادہ نیاز حد ادب۔فقط شیخ چھٹو  میاں  از مقام آسن سول قصائی محلہ ندی پار ضلع بردوان ،مورخہ(2/ذیقعدۃ 1330ھ) بروز دو شنبہ۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص حنفی نے بحالت غصہ کے اپنی بیوی کو ایک ہی جلسہ میں لفظ طلاق تین مرتبہ کہا۔بعد طلاق دینے کے برادری کے لوگوں نے اس کو کہا کہ تمہاری بیوی تم پر حرام ہوگئی اور طلاق ثابت ہوگئی،چنانچہ اس کا مسئلہ علمائے مذہب حنفیہ سے دریافت کیا گیا،بجواب اس کے علمائے حنفیہ نے  یہ لکھاکہ طلاق جائز ہوگیا اور بغیر دوسرے شخص سے نکاح کیے ہوئے،پھر وہ دوسرا شخص یعنی محلل کے طلاق دینے پر  محض اپنی خوشی سے اور بعد گزرنے عدت کے،تب البتہ پھر شوہر اول سے عقد نکاح جائز ہوگا ،ورنہ نہیں۔بہرکیف برادری کے لوگوں نے ان دونوں شوہر وبیوی کو علیحدہ کردیا، لیکن بعد تھوڑے دنوں کے ان دونوں زن وشوہر میں محبت ہوگئی اور شوہر اپنی بیوی کو اپنے مکان پر لے گیا،تب پھر برادری کے لوگوں نے اسے گرفت کیا اور اس کا حقہ تمباکو موافق دستور برادری کے بند کردیا کہ تم حرام کاری کرتے ہو،اس پر شوہر نے اپنی برادری میں ایک کتاب لاکر دکھلایا کہ اس کتاب کے رو سے ہم نے اپنی بیوی کو لا کر رکھا ہے،چنانچہ برادری میں وہ کتاب پڑھی گئی اور وہ یہ ہے:"مجموعہ فتاویٰ مولانا مولوی عبدالحئی صاحب،علیہ الرحمۃ " مطبوعہ مطبع یوسفی واقع لکھنو۔اس کتابکے جلد دوئم صفحہ 53 میں یہ مسطور ہے:

استفتاء:۔

کیا فرماتے ہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ زید نے اپنی عورت کو حالت غضب میں کہا کہ میں نے طلاق دیا،میں نے طلاق دیا،میں نے طلاق دیا،پس اس تین بار کہنے سے طلاق واقع ہوں گی یا نہیں اور اگر حنفی مذہب میں واقع ہوں اور شافعی میں مثلاً واقعہ نہ ہوں توحنفی کو شافعی مذہب  پر اس صورت خاص میں  عمل کرنے کی رخصت دی جائے گی یا نہیں؟

ھوالمصوب:۔

اس صورت میں حنفی کے نزدیک تین طلاق واقع ہوں گی اور بغیر تحلیل کے نکاح نہ درست ہوگا ،مگر بوقت ضرورت کہ اس عورت کا علیحدہ ہونا اس سے دشوار ہو اور احتمال مفاسد زائد کا  ہو،تقلید کسی اور امام کی اگر کرے گا تو کچھ مضائقہ نہیں ہوگا۔نظیر اس کی مسئلہ نکاح زوجہ مفقود وعدت ممتدۃ الطہر موجود ہے کہ حنفیہ عند الضرورت قول امام مالک پر عمل کرنے کو درست رکھتے ہیں،چنانچہ"رد المختار" میں مفصلاً مذکور ہے ،لیکن اولیٰ یہ ہے کہ وہ شخص کسی عالم شافعی سے استفسار کرے اور اس کے فتوے پر عمل کرے۔واللہ اعلم۔

حررہ:محمد عبدالحئی عفی عنہ تمام شد۔

جب یہ مضمون پڑھا گیا تو برادری کے لوگوں نے کہا کہ عالم شافعی سے مسئلہ دریافت کرنے کو لکھا ہے بہتر ہے کہ عالم شافعی سے مسئلہ دریافت کیاجائے کہ ان کے نزدیک اس امر میں کیا حکم ہے؟جب جواب آئے،اس کے مطابق عمل کیا جائے ،اس لیے حضور والا سے یہ عرض ہے کہ اس امر میں حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ   کے نزدیک کیا حکم ہے؟موافق قر آن پاک واحادیث شریفہ کے جواب سے شاد فرمایا جائے تاکہ اسلام میں رخنہ نہ ہو۔

زیادہ نیاز حد ادب۔فقط شیخ چھٹو  میاں  از مقام آسن سول قصائی محلہ ندی پار ضلع بردوان ،مورخہ(2/ذیقعدۃ 1330ھ) بروز دو شنبہ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس صورت میں موافق قرآن پاک اور حدیث شریف کے یہ حکم ہے کہ اس شخص نے جس نے غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دی ہے۔اگر وہ ایسا غصہ تھا۔جس میں وہ ازخود رفتہ ہوگیا تھا،یا ایسا غصہ تھا کہ جس میں وہ از خود ررفتہ تو نہیں ہوگیا تھا ۔مگر ایسا تھا کہ اس میں الفاظ طلاق اس کے منہ سے بلا قصد نکل گئے تھے ،تو ان دونوں صورت میں طلاق اس کی بیوی پر واقع نہیں ہوئی اور اگر ایسا خفیف غصہ تھا کہ جس میں اس شخص نے الفاظ طلاق بالقصد منہ سے نکالے تھے تو اس صو رت میں اس کی بیوی پر صرف ایک طلاق رجعی پڑی،جس میں وہ شخص عدت کے اندر رجعت کرسکتاہے،یعنی دو معتبر آدمیوں کے  رو برو یہ کہہ کرکہ"میں نے جو اپنی فلاں بیوی کو طلاق دی تھی،اس طلاق کو واپس لے لیا"طلاق واپس لے سکتا ہے بعد رجعت  پھر وہ بیوی اس کی زوجہ ہوجائے گی اور اگر عدت گزر چکی ہوتو وہ شخص اس بیوی سے بہ تراضی طرفین پھر نکاح کر سکتا ہے اور وہ صورت جس میں تین طلاق پڑ جاتی ہیں اورپھر اس میں نہ رجعت جائز ہوتی ہے اور نہ بغیر حلالہ کے شوہر اول سے نکاح جائز ہوتا ہے،وہ صورت اور ہے،صورت مذکورہ سوال اس قبیل سے نہیں ہے۔صورت مذکورہ سوال کا وہی حکم ہے جو اوپر مذکور ہوا۔زیلعی (ص:30 مطبوعہ علوی) میں ہے:

اخرج ابو داود وابن ماجه عن صفية بنت شيبة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "لا طلاق ولا عتاق في غلاق[1]" .
قال ابو داود اظنه الغضب يعني الاغلاق قال ابن الجوزي :قال ابن قتيبه الاغلاق الاكراه ورواه الحاكم في المستدرك وقال:علي شرط مسلم قال في التنقيح وقد فسره احمد ايضاً بالغضب قال شيخنا:والصواب انه يعم الاكراه والغضب والجنون وكل امر انغلق علي صاحبه علمه وقصده ماخوذ من غلق الباب"[2]

"ابو داود اور ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ   نے صفیہ بنت شیبہ سے روایت کیا ہے ،وہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے بیان کرتی ہیں،کہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"زبردستی میں نہ طلاق ہوتی ہے اور نہ غلام آزاد ہوتا ہے۔"امام ابو داود رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں"اغلاق" غضب اور غصے کے معنی میں ہے۔ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ   نے کہا:ابن قتیبہ نے کہا کہ"اغلاق" کامعنی جبر واکراہ ہے۔اس کو امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ   نے مستدرک میں روایت کیا اور فرمایا کہ یہ روایت مسلم کی شرط پر ہے۔تنقیح میں ہے کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ   نے بھی اس کا مطلب غضب وغصہ بیان کیا ہے۔ہمارے شیخ نے کہا ہے:درست یہ ہے کہ یہ لفظ جبرواکراہ ،غضب وغصہ،جنون اور ہر اس معاملے کو جس کا علم وقصد اس کے صاحب پر منغلق ہو،تمام معنوں میں عام ہے۔یہ لفظ  "غلق الباب" دروازہ بند کردیا سے ماخوذ ہے۔

﴿وَإِذا طَلَّقتُمُ النِّساءَ فَبَلَغنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمسِكوهُنَّ بِمَعروفٍ أَو سَرِّحوهُنَّ بِمَعروفٍ وَلا تُمسِكوهُنَّ ضِرارًا لِتَعتَدوا وَمَن يَفعَل ذ‌ٰلِكَ فَقَد ظَلَمَ نَفسَهُ...﴿٢٣١﴾... سورة البقرة

"اور جب تم  عور توں کو طلاق دو، پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انھیں اچھے طریقے سے رکھ لو،یا انھیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو اور انھیں تکلیف دینے کے لیے نہ روکے رکھو ،تاکہ ان پر زیادتی کرو اور جو ایسا کرے،سو بلا شبہ اس نے اپنی جان پر ظلم کیا"

﴿الطَّلـٰقُ مَرَّتانِ فَإِمساكٌ بِمَعروفٍ أَو تَسريحٌ بِإِحسـٰنٍ...﴿٢٢٩﴾... سورة البقرة

(یہ طلاق (رجعی) دوبار ہے پھر یا تو اچھے طریقے سے رکھ لینا یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے)

﴿فَلا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعدُ حَتّىٰ تَنكِحَ زَوجًا غَيرَهُ...﴿٢٣٠﴾... سورة البقرة

"تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی،یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے"

﴿وَإِذا طَلَّقتُمُ النِّساءَ فَبَلَغنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعضُلوهُنَّ أَن يَنكِحنَ أَزو‌ٰجَهُنَّ إِذا تَر‌ٰضَوا بَينَهُم بِالمَعروفِ...﴿٢٣٢﴾... سورة البقرة

(اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انھیں اس سے نہ روکو کہ وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کر لیں جب آپس میں اچھے طریقے سے راضی ہو جائیں )

"حدثنا عبدالله حدثني ابي  ثنا سعد بن ابراهيم ثنا ابي عن محمد بن اسحاق حدثني داود بن الحصين عن عكرمة مولي ابن عباس  عن ابن عباس رضي الله تعاليٰ عنه قال:طلق  ركانة بن عبد يزيد اخو بني مطلب امراته ثلاثا في مجلس واحد فحزن عليها حزنا شديدا قال:فساله رسول الله صلي الله عليه وسلم ((كيف طلقتها؟)) قال:طلقتها ثلاثا قال:فقال(( في مجلس واحد؟)) قال :نعم قال:(( فانما تلك واحدة فارجعها ان شئت)) قال:فرجعها"[3]الحديث والله تعاليٰ اعلم بالصواب"

(واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب )(مسند امام احمد بن حنبل 1/265)

(ہمیں عبد اللہ نے بیان کیا انھوں نے کہا کہ مجھے میرے باپ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ ہمیں سعد بن ابراہیم نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے باپ نے بیان کیا انھوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کیا انھوں نے کہا کہ مجھے داؤد بن حصین نے بیان کیا وہ عکرمہ مولی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کرتے ہیں وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ بنو مطلب کے ایک فردرکانہ بن عبدیزید نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں پھر وہ اس پر سخت غمگین ہوئے راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے ان سے دریافت کیا کہ "تم نے اس(اپنی بیوی) کو کیسے طلاق دی؟"رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے بتایا کہ میں نے اسے تین طلاقیں دے دیں راوی کہتے ہیں کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے پوچھا ۔"کیا ایک ہی مجلس میں؟"انھوں نے جواب دیا جی ہاں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:"یہ صرف ایک طلاق ہی ہے۔اگر تم چاہو تو اس اس سے رجوع کرلو۔ "راوی بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رجوع کرلیا)


[1] ۔سنن ابی داود رقم الحدیث(2193) سنن ابن ماجہ رقم الحدیث(2046)

[2] ۔نصب  الرایۃ(3/218)

[3] ۔مسند احمد(1/265)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الطلاق والخلع ،صفحہ:519

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC