سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(315) دو طلاقوں کے بعد رجوع کا مسئلہ

  • 23080
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-03
  • مشاہدات : 61

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
عبداللہ سردار نے اپنی بی بی کو بوجہ اس کے اعراض ونشوز کے لکھ کر طلاق بائن دے دیاتھا،بعد ہ بوقت نکاح ثانی مجلس نکاح میں پھر دوبارہ زبانی طلاق دے دی تھی اور مدت ڈیڑھ برس کی گزر گئی ہے،اس بنا پر وہ بی بی دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے یا نہیں اور اس انقضا پر عبداللہ سردار پر وہ بی بی حرام ہوگئی ہے یا حلال ہےاور عبداللہ سردار بلا تجدید نکاح اس بی بی کو جبراً اپنے  تحت میں لا سکتے ہیں یا نہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عبداللہ سردار نے اپنی بی بی کو بوجہ اس کے اعراض ونشوز کے لکھ کر طلاق بائن دے دیاتھا،بعد ہ بوقت نکاح ثانی مجلس نکاح میں پھر دوبارہ زبانی طلاق دے دی تھی اور مدت ڈیڑھ برس کی گزر گئی ہے،اس بنا پر وہ بی بی دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے یا نہیں اور اس انقضا پر عبداللہ سردار پر وہ بی بی حرام ہوگئی ہے یا حلال ہےاور عبداللہ سردار بلا تجدید نکاح اس بی بی کو جبراً اپنے  تحت میں لا سکتے ہیں یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ عبداللہ سردار نے اپنی بی بی کو صرف دو بار طلاق دی،پہلی بار لکھ کر،دوسری بار زبانی اور سوال سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ دوسری طلاق پہلی طلاق کی عدت کے اندردی یا عدت کے بعد دی اور اگر عدت کے بعد دی تو نکاح ثانی کے قبل یا نکاح ثانی کے بعد دی؟پس اگر عبداللہ سردار نے اپنی بی بی کو فی الواقع دو ہی طلاق دے دی ہو اور دوسری طلاق پہلی طلاق کی عدت گزر جانے اور اس بی بی سے نکاح ثانی کرنے کے بعد دی ہو تو اس صورت میں اگر طلاق ثانی کی عدت نہ گزری ہوتو عبداللہ سردار اپنی بی بی کو بلا تجدید نکاح صرف رجعت کرکے اپنے تحت لا سکتے ہیں،اس میں بی بی کی رضا مندی کی   ضرورت نہیں ہے،مگر شرط یہ ہے کہ اس رجعت سے اصلاح کی نیت ہو،یعنی بی بی کو اچھی طرح رکھنے کی نیت ہو،ایذا اور تکلیف پہنچانے کی نیت نہ ہو۔

﴿وَبُعولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فى ذ‌ٰلِكَ إِن أَرادوا إِصلـٰحًا ...﴿٢٢٨﴾... سورة البقرة

"اور ان کے خاوند اس مدت میں انھیں واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں ،اگر وہ(معاملہ) درست کرنے کاارادہ رکھتے ہوں"

اگر طلاق ثانی کی عدت گزر چکی ہوتو اس بی بی کو اختیار ہے ،چاہے دوسرے مرد سے نکاح کرے،چاہے عبداللہ سردار سے کرے۔الغرض اس میں بی بی کی رضا مندی کی ضرورت ہے ۔جس سے راضی ہو،اس سے نکاح کر سکتی ہے،اس پر کسی کا جبر نہیں پہنچتا۔

﴿وَإِذا طَلَّقتُمُ النِّساءَ فَبَلَغنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمسِكوهُنَّ بِمَعروفٍ أَو سَرِّحوهُنَّ بِمَعروفٍ وَلا تُمسِكوهُنَّ ضِرارًا لِتَعتَدوا وَمَن يَفعَل ذ‌ٰلِكَ فَقَد ظَلَمَ نَفسَهُ...﴿٢٣١﴾... سورة البقرة

"اور جب تم  عور توں کو طلاق دو، پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انھیں اچھے طریقے سے رکھ لو،یا انھیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو اور انھیں تکلیف دینے کے لیے نہ روکے رکھو ،تاکہ ان پر زیادتی کرو اور جو ایسا کرے،سو بلا شبہ اس نے اپنی جان پر ظلم کیا"

صرف ڈیڑھ برس گزر جانے سے نہیں کہا جاسکتا کہ عدت  گزر گئی یا نہیں؟اس کو ٹھیک طور پردریافت کرلیا جائے،اس لیے کہ عورتیں مختلف قسموں کی ہوتی ہیں،لہذا ان کی عدتیں بھی مختلف ہیں۔واضح ہو کہ جواب جو لکھا ہے،یہ سوال کے اس مطلب کا جواب ہے جو سوال سے ظاہر ہوتا ہے اور اگر سوال کا کچھ اور مطلب ہوتو اس جواب کو اُس مطلب کا جواب نہ سمجھیں۔فقط۔کتبہ:محمد عبداللہ(فی دہلی)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الطلاق والخلع ،صفحہ:515

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ