سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(302) عدت کے دوران دوسری طلاق سے دینے پر رجوع

  • 23067
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-03
  • مشاہدات : 66

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شخص نے اولاً ایک طلاق دیا پھر اس طلاق سے رجعت نہیں کیا پھر عدت کے اندر ہی دوسرا طلاق دے دیا اب رجعت کر سکتا ہے یا نہیں؟رجعت کے لیے عورت و مرد کا ساتھ ضروری ہے یا نہیں ؟زبانی یا تحریری رجعت ہوسکتی ہے یا نہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے اولاً ایک طلاق دیا پھر اس طلاق سے رجعت نہیں کیا پھر عدت کے اندر ہی دوسرا طلاق دے دیا اب رجعت کر سکتا ہے یا نہیں؟رجعت کے لیے عورت و مرد کا ساتھ ضروری ہے یا نہیں ؟زبانی یا تحریری رجعت ہوسکتی ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس صورت میں جب تک اول طلاق کی عدت نہ گزرے مرد رجعت کر سکتا ہے زبانی اور تحریری رجعت ہو سکتی ہے رجعت کے لیے عورت و مرد کا ساتھ ضروری نہیں عدت گزر جانے پر رجعت نہیں ہو سکتی طلاق رجعی عدت گزر جانے پر بائن ہو جاتی ہے طلاق کی عدت اگر عورت کو حیض آتا ہو تو تین حیض ہے اور حمل ہو تو وضع حمل ورنہ تین مہینے واللہ اعلم بالصواب۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الطلاق والخلع ،صفحہ:504

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ