سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(289) اگر عورت مہر معاف کرنے کے بعد دوبارہ مطالبہ کرے؟

  • 23054
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-01
  • مشاہدات : 167

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید نے قضا کیا بعد ایک دن کے اس کی زوجہ ہندہ نے پچاس ساٹھ عورتوں کے سامنے بطیب خاطر یہ کہا کہ ہم نے کل دین مہر اپنے زوج کا معاف کردیا پھر چند دن کے بعد بھی دو مرد کے سامنے جو اس کے اہل قرابت سے ہیں اپنے دین کی معافی کا اقرارکیا اور کہا کہ ہم نے اپنے زوج کا دین معاف کردیا ہے پھر اس کے عرصہ کے بعد دو ایک عورت مفتریہ مفسد ہ نے ہندہ کو بہکایا اور اغوا کرنا شروع کیا کہ تم نے دین کیوں معاف کردیا؟تم اس معافی سے انکار کر جاؤ اور کہو کہ ہم نے معاف نہیں کیا ہے اب سوال یہ ہے کہ گواہان و شاہدان عادل اس کےمعافی دین کے موجود ہیں اور وہ لوگ شہادت معافی دین کی دیتے ہیں اس حالت میں وہ دین مہر زید میت کے ذمہ سے ساقط ہو گیا یا ورثہ زید پر اس دین کی اداکاری واجب لازم ہے اور اب انکار سے ہندہ کے وہ شے ساقط شدہ عودکرے گی یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس صورت میں وہ دین مہر زید میت کے ذمہ سے ساقط ہو گیا اور ورثہ زید پر اس دین کی اداکاری واجب و لازم نہیں ہے جب وہ دین مہر زید میت کے ذمہ سے ساقط ہو گیا تو اب ہندہ کے انکار سے وہ دین مہر ساقط شدہ عود نہیں کرے گا کتاب اشباہ و نظائرمع حموی(ص 391چھاپہ مصطفائی دہلی ) میں ہے۔

"ظاهر المذهب وعليه الفتويٰ ان الحق متي ثبت واستقر لا يسقط الاباسقاطه وهو الصريح بلسانه كما في سائر الحقوق"[1](والله اعلم بالصواب۔

(ظاہر مذہب یہ ہے اور اسی پر فتوی ہے کہ حق جب ثابت ہو جائے تو وہ اس (حق دار کے) ساقط کیے بغیر ساقط نہیں ہوتا جب کہ وہ (حق دار ) اپنی زبان کے ساتھ صراحتاً اس کو ساقط کر دے جیسا کہ تمام حقوق میں دستور ہے) کتبہ : محمد عبد اللہ (مدرسہ احمدیہ آرہ)


[1] ۔غمز عیون البصائر فی شرح الاسباہ والنظائر للحموی (5/373)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب النکاح ،صفحہ:490

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ