سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(288) اگر عورت بلا اجازت شوہر گھر سے چلی جائے تو وہ مہر کی حق دار ہے؟

  • 23053
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-01
  • مشاہدات : 150

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت بلا اجازت اور بلا رضا مندی شوہری کے مکان سے نکل کر چلی جائے آیا اس حالت میں شوہر کے اوپر اس عورت کا حق یعنی مہر وغیرہ سابق دستور باقی رہتا ہے یا کم و بیش ہو جاتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر عورت بلا اجازت شوہر کے مکان سے نکل جائے تو مہر میں کمی و بیشی ہوتی اس لیے کہ مہر بسبب نکاح کے واجب ہوا ہے ۔

﴿وَأُحِلَّ لَكُم ما وَراءَ ذ‌ٰلِكُم أَن تَبتَغوا بِأَمو‌ٰلِكُم...﴿٢٤﴾... سورة النساء

یعنی تمھارے لیے سوائے محرمات کے کل عورتیں حلال ہیں بشرطیکہ تم ان سے نکاح کرو مال یعنی مہر دے کر۔

ظاہر ہے کہ بلا اجازت چلے جانے سے نکاح میں کوئی خرابی نہیں ہوتی ۔ ہاں اگر عورت بلا وجہ شرعی چلی گئی تو گنہگار ہوئی البتہ نفقہ یعنی خرچ اس درمیان کا ساقط ہو جائے گا اگر عورت نا حق نکل کر چلی گئی ہو اور اگر حق پر چلی گئی ہو تو نفقہ بھی ساقط نہ ہو گا بلکہ سابق دستور دینا ہو گا شرح وقادیہ میں ہے۔

لالنا شزة خرجت من بيته بغير حق (اعلم بالصواب)

(اس نافرمان عورت کے لیے نہیں جو نا حق اس( اپنے شوہر ) کے گھر سے نکل کر چلی گئی ہو)

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب النکاح ،صفحہ:489

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ