سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(287) کیا عدت گزرنے کے بعد نکاح میں مہر جدید لازم ہے؟

  • 23052
  • تاریخ اشاعت : 2017-10-01
  • مشاہدات : 148

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص اپنی زوجہ مطلقہ رجعیہ سے بوجہ گزرنے عدت کے نکاح جدید کرے تو اس کو مہر جدید کی حاجت ہوگی یا وہی مہر سابق کافی ہو گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو شخص اپنی زوجہ مطلقہ رجعیہ سے بعد گزرنے عدت کے نکاح جدید کرے تو اس پر دین مہر بھی جدید لازم آئے گا کیونکہ قانون شرع کا منشایہ ہے کہ کوئی شخص نکاح کرے تو اس کے ذمہ دین مہر واجب س ہو جاتا ہے۔

﴿ أَن تَبتَغوا بِأَمو‌ٰلِكُم...﴿٢٤﴾... سورة النساء

(اپنے مالوں کے بدلے طلب کرو) کتبہ : ابو الفیاض محمد عبد القادر عفی عنہ اعظم گڑھی مدرس مدرسہ احمدیہ ارہ ضلع شاہ آباد ۔

  ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب النکاح ،صفحہ:489

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ